محمود بوٹی ڈمپنگ سائٹ سے میتھین گیس کے اخراج میں کمی

ایک پرانی ڈمپنگ سائٹ کو قابلِ استعمال ماحولیاتی مقام میں تبدیل کرنے کے لیے کام کیا


آصف محمود November 06, 2026

لاہور کی تاریخی محمود بوٹی ڈمپنگ سائٹ کو ماحولیاتی آلودگی کے ایک بڑے مرکز سے ماحولیاتی اثاثے میں تبدیل کرنے کے منصوبے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

راوی اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (روڈا) نے سائٹ پر برسوں سے جمع کچرے سے خارج ہونے والی میتھین گیس کے اخراج میں کمی کے اقدامات کی بین الاقوامی سطح پر توثیق کا عمل شروع کر دیا ہے۔

اس پیش رفت کے نتیجے میں منصوبے کو کاربن کریڈٹس اور بین الاقوامی طور پر قابلِ منتقلی ماحولیاتی نتائج کے حصول کے لیے رجسٹر کرانے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

روڈا کے مطابق دو بین الاقوامی ماہرین سرجیو روڈریگو سانتانو اور این صوفی بینیڈکٹ جوڈتھ زِراہ نے مسلسل تین روز تک محمود بوٹی ڈمپنگ سائٹ کا تفصیلی جائزہ لیا۔

ماہرین نے سائٹ پر موجود تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ ٹن کچرے، اس سے پیدا ہونے والی میتھین گیس کے ممکنہ اخراج اور ماحولیاتی اقدامات کا معائنہ کیا۔ اس دوران روڈا کی تکنیکی ٹیم کے لیے نگرانی، تصدیق اور رپورٹنگ کے طریقہ کار پر تربیتی ورکشاپ بھی منعقد کی گئی۔

ڈائریکٹر موسمیاتی تبدیلی احد یوسف نے زمینی سروے، منصوبے کی حدود کے تعین اور گرین ہاؤس گیسوں سے متعلق بین الاقوامی ضابطوں کے مطابق پیمائش کے عمل میں ماہرین کی معاونت کی۔ ماہرین اپنی جائزہ رپورٹ مرتب کرنے کے بعد امریکا میں قائم ویرا رجسٹری کو جمع کرائیں گے، جہاں پیرس معاہدے کی شق 6 اور 6.2 کے تحت منصوبے کی رجسٹریشن اور کاربن کریڈٹس سے متعلق کارروائی آگے بڑھائی جا سکے گی۔

محمود بوٹی ڈمپنگ سائٹ لاہور کے قدیم ترین سرکاری کچرا ٹھکانے لگانے کے مراکز میں شمار ہوتی ہے۔ یہ سائٹ 1997ء میں قائم ہوئی اور 1998ء سے شہر کا کچرا یہاں منتقل کیا جانے لگا۔ تقریباً 40 ایکڑ رقبے پر قائم اس مقام پر 2016ء تک لاکھوں ٹن کچرا جمع ہو چکا تھا۔

گنجائش مکمل ہونے کے بعد اپریل 2016ء میں یہاں کچرا ڈالنے کا سلسلہ بند کر دیا گیا۔ لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے اعدادوشمار کے مطابق 1998ء سے 2016ء کے دوران یہاں تقریباً ایک کروڑ 31 لاکھ 40 ہزار ٹن کچرا جمع ہوا۔ بعد ازاں اس مقام کی بحالی، لینڈ فل گیس کے انتظام اور شجرکاری کے ذریعے اسے ماحولیاتی پارک میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر کام شروع کیا گیا۔

روڈا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عمران امین نے اس پیش رفت کو وزیراعلیٰ پنجاب کے ماحولیاتی وژن سے منسلک کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کے لیے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ان کے مطابق روڈا کے موسمیاتی تبدیلی اور انجینئرنگ شعبوں نے پہلے ایک پرانی ڈمپنگ سائٹ کو قابلِ استعمال ماحولیاتی مقام میں تبدیل کرنے کے لیے کام کیا اور اب اسے کاربن کریڈٹس کے بین الاقوامی نظام سے منسلک کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔