خیبر پختونخوا میں معدنیات کے شعبے میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ، معدنی وسائل سے بھرپور استفادے اور صوبے میں صنعتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
اس سلسلے میں چینی اور مقامی سرمایہ کاروں کے نمائندہ وفد نے گورنر خیبر پختونخوا کے مشیر برائے معدنیات ڈاکٹر سید سرفراز علی شاہ سے ملاقات کی، جس میں صوبے کے معدنی وسائل میں سرمایہ کاری کے امکانات، خام معدنیات کی مائیننگ، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور معدنی خام مال کی مقامی سطح پر پراسیسنگ کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں چینی سرمایہ کاروں نے خیبر پختونخوا کے قدرتی معدنی وسائل میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے صوبے میں معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری اور باہمی تعاون کے مختلف امکانات کا جائزہ لیا۔
اس موقع پر مائیننگ، ترقی اور خام معدنیات کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے قابلِ قدر مصنوعات میں تبدیل کرنے کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی۔
ملاقات میں ایم پی اے ارباب زرک خان، سیکرٹری معدنیات عامر لطیف ڈی جی معدنیات سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے ۔
مشیر معدنیات ڈاکٹر سید سرفراز علی شاہ نے کہا کہ خیبر پختونخوا قدرتی معدنی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے جہاں معدنیات کے شعبے میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ صوبائی معدنی وسائل کو جدید خطوط پر ترقی دینا اور ان سے بھرپور معاشی فوائد حاصل کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ چینی سرمایہ کار خیبر پختونخوا میں خام معدنی وسائل کی مائیننگ کے ساتھ ساتھ ان کی پراسیسنگ کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری کریں گے۔ اس مقصد کے لیے صوبے میں پراسیسنگ پلانٹس کے قیام کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ معدنی خام مال کو پراسیسنگ کے لیے بیرون ملک بھیجنے کے بجائے خیبر پختونخوا ہی میں پراسیس کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں معدنی خام مال کی مقامی سطح پر پراسیسنگ کے لیے سرمایہ کاری نہ صرف صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دے گی بلکہ اس سے معدنی وسائل کی ویلیو ایڈیشن ممکن ہوگی اور صوبے کی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
خام معدنیات کو مقامی سطح پر پراسیس کرکے تیار مصنوعات میں تبدیل کرنے سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور صوبے میں صنعتی و کاروباری سرگرمیوں کو وسعت ملے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ معدنی وسائل سے بھرپور استفادے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، بین الاقوامی تجربات اور جدید پراسیسنگ طریقہ کار سے استفادہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ صوبے کے قدرتی وسائل کو محض خام مال کی صورت میں فروخت کرنے کے بجائے ان کی مقامی سطح پر پراسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کو فروغ دیا جائے تاکہ صوبے کو زیادہ سے زیادہ معاشی فوائد حاصل ہو سکیں۔
انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی، سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی اور معدنیات کے شعبے میں باہمی تعاون کے فروغ کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل کو صوبے کی معاشی ترقی، صنعتی استحکام اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کا ذریعہ بنایا جائے گا۔ملاقات میں چینی سرمایہ کاروں نے خیبر پختونخوا میں معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری، جدید مائیننگ ٹیکنالوجی کے استعمال، پراسیسنگ پلانٹس کے قیام اور صوبائی حکومت کے ساتھ باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں میں دلچسپی کا اظہار کیا۔