کھٹملوں کے ساتھ سونے والا سائنسدان، آخر کیوں کرتا ہے یہ عجیب تجربہ؟

ڈاکٹر رچرڈ ہفتے میں دو مرتبہ پٹیوں کے ذریعے کچھ کھٹمل اپنے بازوؤں سے چپکاتے ہیں اور انہیں خون چوسنے دیتے ہیں


ویب ڈیسک November 07, 2026

کھٹملوں کا نام سنتے ہی اکثر لوگوں کو بے چینی ہونے لگتی ہے، لیکن برطانیہ میں ایک ماہرِ حیاتیات ایسا بھی ہے جو سائنسی تحقیق کے لیے ہزاروں کھٹملوں کے ساتھ سوتا ہے۔

گلوسٹر شائر کے علاقے فاریسٹ آف ڈین سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر رچرڈ نیلور ان کیڑوں کی افزائش کرتے ہیں تاکہ دنیا بھر میں کھٹملوں سے بچاؤ کے لیے تیار کی جانے والی مصنوعات کی افادیت جانچی جا سکے۔

ڈاکٹر رچرڈ کے پاس تقریباً 60 ہزار کھٹمل ہیں۔ وہ ہفتے میں دو مرتبہ مخصوص پٹیوں کے ذریعے کچھ کھٹمل اپنے بازوؤں سے چپکاتے ہیں اور انہیں خون چوسنے دیتے ہیں، جبکہ وہ اپنا کام جاری رکھتے ہیں۔ نئی ڈیوائسز یا ادویات کی جانچ کے لیے انہیں بعض اوقات رات بھی ان کیڑوں کے ساتھ گزارنا پڑتی ہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنے باغ میں دو کمرے بھی بنائے ہیں۔

ڈاکٹر رچرڈ کا کہنا ہے کہ کھٹمل انہیں لاکھوں مرتبہ کاٹ چکے ہیں، تاہم اب ان کے کاٹنے سے انہیں پہلے جیسی تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق وہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے کھٹملوں کو اپنا خون پینے دے رہے ہیں اور وقت کے ساتھ ان کا مدافعتی نظام ان کے کاٹنے پر ردعمل دینا کم کرچکا ہے۔ البتہ بعض اوقات خون کی کمی کی علامات سامنے آجاتی ہیں۔

ڈاکٹر رچرڈ غیر منافع بخش ادارے ’بیڈ بگ فاؤنڈیشن‘ کے سربراہ ہیں اور 2001 سے کھٹملوں پر تحقیق کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ مل کر باغ میں لیبارٹری قائم کی۔ ان کا کہنا ہے کہ جب وہ لوگوں کو اپنے تجربات کے بارے میں بتاتے ہیں تو اکثر افراد بے اختیار جسم کھجانے لگتے ہیں، جبکہ بعض خوفزدہ بھی ہوجاتے ہیں۔ ان کی اہلیہ نہ صرف اس کام میں ان کا ساتھ دیتی ہیں بلکہ کھٹملوں سے حسد بھی نہیں کرتیں۔

ڈاکٹر رچرڈ کے مطابق کھٹملوں سے بچاؤ کی مصنوعات کو انسان کی موجودگی میں آزمانا ضروری ہے، کیونکہ انسانی سانس سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ اور جسم کی حرارت ان کیڑوں کو متحرک کرتی ہے۔ اگر بستر پر کوئی انسان موجود نہ ہو تو کھٹمل عموماً غیر فعال رہتے ہیں۔ اسی لیے وہ خود ان کے ساتھ سوتے ہیں تاکہ اسپرے اور دیگر مصنوعات کی حقیقی حالات میں کارکردگی جانچی جا سکے۔