ایمسٹرڈیم: نیدرلینڈز کے دارالحکومت ایمسٹرڈیم میں ماحولیاتی تحفظ اور مقامی آبادی کے خدشات کے پیش نظر مائیکروسافٹ کے ڈیٹا سینٹر کی تعمیر کے خلاف احتجاج شدت اختیار کرگیا۔
مظاہرین تعمیراتی مقام میں داخل ہوگئے، کرینوں پر چڑھ گئے اور مختلف سرگرمیوں کے ذریعے منصوبے کے خلاف احتجاج کیا۔ پولیس نے بعض مظاہرین کو حراست میں بھی لے لیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعے کو 100 سے زائد کارکن ایمسٹرڈیم کے علاقے سلوٹرڈائک میں زیرِ تعمیر مائیکروسافٹ اے آئی ڈیٹا سینٹر کے مقام پر جمع ہوئے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر مارچ کیا اور بعدازاں تعمیراتی مقام میں داخل ہوگئے۔ بعض کارکن کرینوں پر چڑھے، غبارے لٹکائے اور مشعلیں اٹھا کر احتجاج کرتے رہے، جبکہ پلے کارڈز پر ڈیٹا سینٹر منصوبے کے خلاف نعرے درج تھے۔
احتجاج کرنے والے کارکنوں کا مؤقف ہے کہ بڑے ڈیٹا سینٹرز بجلی اور پانی کے وسائل پر غیر معمولی دباؤ ڈالتے ہیں اور ماحولیات کے لیے خطرات پیدا کرتے ہیں۔ مظاہرین میں شامل سام وان ڈر بیک نے کہا کہ یہ منصوبے قدرتی وسائل استعمال کرکے ماحول کو ناقابلِ رہائش بنانے کا سبب بن رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ’اسٹاپ ڈرٹی ڈیٹا سینٹرز‘ نامی اتحاد نے جمعے اور ہفتے کو 16 ممالک میں احتجاجی سرگرمیوں کا اعلان کیا ہے۔ اس اتحاد میں ماحولیاتی تنظیمیں اور ڈیجیٹل حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ شامل ہیں، جو بڑے پیمانے پر نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر عارضی طور پر روکنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔
مقررہ احتجاجی سرگرمیوں میں آئرلینڈ کے شہر ڈبلن میں مارچ، پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں پارلیمنٹ کے باہر مظاہرہ اور ڈنمارک میں مائیکروسافٹ کے ایک دوسرے ڈیٹا سینٹر کے خلاف احتجاج شامل ہے۔
ڈیٹا سینٹر کی تعمیر کے مقام کی مالک کمپنی پیور ڈیٹا سینٹرز نے کہا ہے کہ وہ مقامی آبادی اور متعلقہ فریقوں کے تحفظات سننے اور ان کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔ کمپنی اس منصوبے پر ایک ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتی ہے۔
مائیکروسافٹ نے بھی کہا ہے کہ وہ منصوبے سے متعلق عوامی خدشات اور پُرامن احتجاج کے حق کا احترام کرتا ہے، تاہم غیر قانونی سرگرمیوں کی حمایت نہیں کرتا۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے باعث دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر میں تیزی آئی ہے، لیکن اس کے ساتھ ماحولیاتی اور سماجی خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔
مخالفین کا کہنا ہے کہ ڈیٹا سینٹرز بجلی اور پانی کی بڑی مقدار استعمال کرتے ہیں، مقامی آبادی کے وسائل پر دباؤ بڑھاتے ہیں اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی کوششوں کو متاثر کرسکتے ہیں۔ بعض کارکنوں نے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ہاتھوں ڈیجیٹل طاقت کے ارتکاز، ملازمتوں میں ممکنہ کمی اور قومی و ذاتی سلامتی کے خدشات بھی اٹھائے ہیں۔
دوسری جانب ٹیکنالوجی کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ اے آئی اور کلاؤڈ سروسز کی عالمی طلب پوری کرنے کے لیے ڈیٹا سینٹرز ضروری بنیادی ڈھانچہ ہیں، جو کاروباری اداروں، حکومتوں اور عام صارفین کو خدمات فراہم کرتے ہیں۔
یورپی یونین کی ٹیکنالوجی سربراہ ہینا ویرکونن نے بھی کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے یورپ کو مزید ڈیٹا سینٹرز کی ضرورت ہے، تاہم ان کی تعمیر میں توانائی کے اخراجات، بجلی کی فراہمی اور ماحولیات کے تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
رائٹرز کے مطابق نیدرلینڈز میں تقریباً 200 ڈیٹا سینٹرز منصوبہ بندی، تعمیر یا عملی کام کے مختلف مراحل میں ہیں۔ یورپ کے مختلف ممالک میں بھی ان منصوبوں کے ماحولیاتی اثرات پر ضابطے سخت کرنے اور احتجاجی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔