مولانا فضل الرحمان کو اگر حکومت میں حصہ ملتا تو وہ چھپ کا روزہ رکھتے، گورنر کے پی

گزشتہ حکومت میں کرپشن کے کیسز سامنے آئے ہیں، اب اس کی مکمل تحقیقات ہو رہی ہیں، فیصل کریم کنڈی


یاسر علی November 07, 2026
فوٹو: فیس بک

خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو اگر حکومت میں حصہ ملتا تو وہ پھر چھپ کا روزہ رکھتے لیکن کبھی کبھی ثواب کا روزہ بھی رکھنا چاہیے جبکہ صوبے میں دہشت گردوں کے خلاف انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں تاہم ابھی فل فلیج آپریشن کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

پشاور کے نجی ہوٹل میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے 13 سال کا گند 13 روز میں صاف نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ  دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، گزشتہ روز نادرا دفتر کے سامنے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے قتل کی تحقیقات جاری ہیں، اس قتل میں جو کوئی بھی ملوث ہوگا، ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیو ٹیم کی بازیابی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں جب بھی پولیو کے خاتمے کے لیے مہم شروع کی جاتی ہے، پولیو ورکرز پر حملے کیے جاتے ہیں، افغانستان میں پولیو کے کیسز بھی اصافہ ہوا ہے، اب خیبرپختونخوا پر بھی اس کے اثرات پڑ رہے ہیں۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سابقہ حکومت میں کرپشن کے کیسز سامنے آئے ہیں، اب اس کی مکمل تحقیقات ہو رہی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ جو بھی اس میں ملوث ہوں ان کے خلاف ٹھوس ثبوت ہوں تاکہ کسی بے گناہ کو سزا نہ ہو یہی وجہ ہے کہ ہر محکمے میں کی گئی کرپشن کی انکوائری کررہے ہیں۔

گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا بہت احترام کرتے ہیں لیکن انہیں حکومت میں حصہ نہیں ملا جس پر وہ ناراض ہیں وہ خود کہتے ہیں کہ اس کے بغیر نہ کوئی حکومت قائم ہو سکتی ہے اور نہ چل سکتی ہے، اب اگر کوئی حکومت اس کے بغیر چل رہی ہے تو وہ واویلا کیوں کررہے ہیں مجھ سے پہلے انہوں نے کس کو گورنر لگایا تھا وہ سب کو معلوم ہے، کبھی کبھی ثواب کا روزہ بھی رکھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ صحت کی سہولیات تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق اور معاشرتی ترقی کی بنیاد ہے اور صحت مند آبادی ہی مضبوط معیشت، فعال افرادی قوت اور خوش حال مستقبل کی ضمانت ہے، صوبے میں صحت کے شعبے کو مضبوط اور مؤثر بنانا ہماری بنیادی ترجیحات میں شامل ہیں۔

گورنر نے کہا کہ طبی انفرا اسٹرکچر کی بہتری، جدید آلات کی فراہمی اور اسپیشلائزڈ علاج تک رسائی بڑھانے کی ضرورت ہے، معیاری طبی سہولیات کا حصول صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ صوبے کے تمام اضلاع میں عوام کو یکساں اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے، اس مقصد کے لیے میڈیکل کالجوں، تدریسی اسپتالوں اور طبی اداروں کو مزید مستحکم بنانے کے ساتھ طبی تحقیق، اعلیٰ پیشہ ورانہ تربیت اور پوسٹ گریجویٹ تعلیم کے فروغ پر بھی خصوصی توجہ دینا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ نوجوان ڈاکٹروں کو اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتیں نکھارنے اور عوام کی خدمت کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے چاہئیں، خیبرپختونخوا نے دہشت گردی، نقل مکانی اور طویل بدامنی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کیا ہے، جس کے باعث صحت سمیت بنیادی عوامی خدمات کے نظام پر اضافی دباؤ پڑا ہے، ہمارے عوام ایسے صحت کے نظام کے مستحق ہیں جو انہیں عزت، احساس اور ذمہ داری کے ساتھ طبی سہولیات فراہم کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک بدلتا، نکھرتا اور مضبوط خیبرپختونخوا چاہتے ہیں اور مضبوط و معیاری نظام صحت اس خواب کی تعبیر کا لازمی جزو ہے۔