سندھ حکومت کی جانب سے میر رضا کیس کی تحقیقات کیلیے تشکیل دی گئی جے آئی ٹی کا پہلا اجلاس ہوا جس میں متوفی کے اہل خانہ نے اپنا بیان ریکارڈ کروادیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ڈی آئی جی ویسٹ آفس میں جے آئی ٹی کا اجلاس ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں ہوا جس میں حساس اداروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
میر رضا کے اہل خانہ وکیل ایڈوکیٹ جبران ناصر کے ہمراہ پہنچے اور جے آئی ٹی نے والد کا بیان ریکارڈ کیا۔
اجلاس کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈوکیٹ جبران ناصر نے کہا کہ پیر کو اسٹبلشمنٹ ڈویژن کو اور وزیراعلیٰ کو خط لکھ رہے ہیں کہ جوڈیشل کمیشن کی جانب سے دی گئی سفارشات پر عمل کیوں نہیں ہورہا۔
انہوں نے کہا کہ آج صرف میر کے والد کا بیان قلمبند ہوا جبکہ بہن اور والدہ بھی بیان ہوسکتا ہے، ڈی آئی جی نے اہل خانہ کو دوبارہ طلب کرنے کا کہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میر رضا کے والد نے ایک بار پھر اپنا تفصیلی بیان ریکارڈ کروادیا ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ آئندہ دو ہفتے میں جے آئی ٹی اہم تفتیش کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے جو بھی خدشات تھے وہ ہم نے رکھ دیے اور امید ہے کہ آئندہ کی تحقیقات بہتر ہوگی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایس ایچ او فیروزآباد کے کردار، میر رضا کے بزنس پارٹنر احمد اور عبداللہ بھاردے کے کردار پر تحقیقات ہونی چاہیئں۔