خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں فائرنگ، ڈرون حملے اور دستی بم دھماکے کے واقعے میں ایک پولیس اہلکار شہید جبکہ تین زخمی ہوگئے، شہید اہلکار کا کمسن بیٹا بھی شدید زخمی ہوگیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا کے ضلع ٹانک میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے پولیس اہلکار شہید جبکہ کمسن بیٹا شدید زخمی ہوا۔ سفاک ملزمان نے اہلکار کو کمسن بیٹے کے سامنے سامنے سے نشانہ بنایا۔
شہید اہلکار کی شناخت سعادت خان کے نام سے ہوئی جو سی سی پی او آفس پشاور میں سینئر کلرک تعینات تھے اور چھٹی پر گھر گئے تھے جہاں بیٹے کے ساتھ بازار سے سودا سلف لے کر واپس جارہے تھے کہ محلہ خدریانوالہ میں گھر جاتے ہوئے فائرنگ کی گئی۔
فائرنگ کے واقعے میں زخمی ہونے والے بچے کو اسپتال منتقل کردیا گیا جبکہ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
دوسری جانب ٹانک، بنوں اور جنوبی وزیرستان میں ڈرون حملے اور دستی بم پھینکنے کے واقعات میں تین پولیس اہلکار زخمی ہو گئے جبکہ دو بکریاں ہلاک ہوگئیں۔
ٹانک کے تھانہ صدر کی حدود کڑی عاشقی میں نامعلوم افراد کی جانب سے ڈرون سے فائر کیا گیا، جو گولا کامران خان نامی شخص کے گھر پر آ گرا، جس کے نتیجے میں گھر اور ایک کمرے کو شدید نقصان پہنچا جبکہ دو بکریاں ہلاک ہو گئیں تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ واقعے کے وقت بچے سکول گئے ہوئے تھے۔
ضلع بنوں کی تحصیل ڈومیل کے علاقے اتوار میلہ (کاشو نالہ) کے قریب ڈومیل چوکی محمد خان پر مبینہ کواڈ کاپٹر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق تین پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔
ریسکیو 1122 کی میڈیکل ٹیم نے زخمی اہلکاروں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد خلیفہ گل نواز (KGN) ہسپتال منتقل کر دیا۔
اُدھر جنوبی وزیرستان لوئر: تحصیل توئی خولہ بازار میں ہینڈ گرنیڈ حملے کی کوشش ناکام ہو گئی۔ ذرائع کے مطابق ایک نامعلوم برقعہ پوش شخص نے اس مقام پر ہینڈ گرنیڈ پھینکا جہاں پولیس اہلکار عموماً بیٹھتے ہیں، تاہم ہینڈ گرنیڈ پھٹ نہیں سکا۔