گورنر سندھ سید نہال ہاشمی کا کہنا ہے کہ کراچی میں بی آر ٹی منصوبے میں تاخیر کرنے والوں کو پنجاب سے سبق سیکھنا چاہیے، جنکو شہر کا حق ادا کرنا تھا وہ ناکام رہے۔
لاہور پریس کلب میں میٹ دی پریس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ سید نہال ہاشمی کا کہنا تھا کہ میاں محمد نواز شریف نے ہمیشہ آئین اور آئین کی حکمرانی کی بات کی ہے، ۔نواز شریف نے لاہور میں اتنا کام کیا ہے کہ کراچی کے لوگ بھی ان سے متاثر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے سب کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی ہے جمہور اسی کو کہتے ہیں۔۔کراچی کے ساتھ بڑی زیادتی ہوئی ہے۔۔ کراچی میں منصوبوں میں تاخیر کرنے والے لاہور ملتان سے سبق حاصل کریں۔
گونر سندھ سید نہال ہاشمی کا کہنا تھا کہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کرپشن کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کریں۔۔جن لوگوں نے گھوسٹ ملازمین بھرتی کر کے ہمارے خواب چرائے ہیں ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
نہال ہاشمی کا کہنا تھا پنجاب حکومت شفافیت میں سب سے بہتر ہے۔ پیکا قانون کے حوالے سے اُن کا کنہا تھا کہ اچھے قانون کو کوئی کالا نہیں کہتا اور جو کالا ہوتا ہے وہ قانون نہیں ہوتا، سوشل میڈیا کی حرکتوں کی وجہ سے اصل صحافی بھی گرفت میں آجاتے ہیں جو بھی قانون انسانی حقوق کے خلاف ہو گا اس کو سپورٹ نہیں کریں گے۔
قبل ازیں گورنر سندھ سید نہال ہاشمی نے لاہورپریس کلب کے پروگرام" گیسٹ آف آنر" میں شرکت کی۔ اس موقع پر لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے گورنر سندھ نہال ہاشمی کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ سید نہال ہاشمی ایک سیاسی ورکر ہیں اورگورنر سندھ بننے کے بعد انہوں نے عام آدمی کے لیے گورنر ہا?س کے دروازے کھول دیے ہیں۔
گورنر سندھ سید نہال ہاشمی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ لاہور پریس کلب نے ہمیشہ آزادی صحافت کی تحریک کو آگے بڑھایا اور ہمیشہ سچ کا ساتھ دیا ہے، صحافی جو آئینہ دکھاتے ہیں وہ نہایت ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے لیے بھی بہت سے مسائل پیدا ہو گئے ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں ان مسائل پر قابو پانے کی توفیق دے۔ اگر ابلاغ مضبوط ہو تو معاشرے کی ترقی کو کوئی نہیں روک سکتا اور اگر ابلاغ کمزور ہو جائے تو معاشر ے کو کوئی ترقی نہیں دے سکتا۔
اُن کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن جب بھی اقتدار میں آ ئی ملک کی معیشت، عام آدمی کے مسائل اور انفراسٹرکچر پر خصو صی توجہ دی۔ گورنر سندھ نے کہا کہ 1985میں نواز شریف وزیراعلی پنجاب بنے تو انہوں نے ملک کے انفراسٹرکچر کی ترقی کی بات کی، موٹر وے، ایئرپورٹ، یلو کیب اور دیگر منصوبے دئیے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ سب سے پہلے کرپشن ذہنی کرپشن ہے اسکے بعد کرپشن تعصب پر مبنی ہوتی ہے۔ نواز شریف پاکستان میں بلوچ ہوں یا پٹھان یا پھر متحدہ سب کو ساتھ لیکر چلے۔ اگر میری نظر سے دیکھیں گے تو پنجاب میں اس سے زیادہ شفاف حکومت نہیں آئی۔
انہوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سندھ میں صوبے بننے چاہئیں یا نہیں یہ فیصلہ سندھ کے عوام نے کرنا ہے،اگر سندھ کے صحافی مجھ سے یہ سوال پوچھیں یا پھر وہاں مجھ سے یہ سوال کیا جائے تو بہتر جواب دوں گا۔
گورنر سندھ نے کہا کہ مسائل کے خاتمے تک حکومت کے ساتھ ساتھ معاشرے کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،کراچی گیٹ وے آف پاکستان ہے کراچی فیڈ کرتا ہے اور بہت زیادہ ٹیکس دیتا ہے، کراچی کو اسکا حق نہیں ملا،جنھوں نے یہ حق ادا کرنا تھا انہوں نے حق ادا نہیں کیا۔