گویا ملک قائم ہونے کے بعد یہ ساٹھ سے ستر کی دہائی کا وہ سماج تھا جہاں پڑوس کے بزرگوں کی عزت، تربیت کا حصہ ہوا کرتی تھی اورہر چھوٹے کو اپنا سمجھ کر اس پر نظر رکھنے کے جذبے کو بڑے کا فرض جانا جاتا تھا۔
محلے کی دکان سے خریداری کے لیے بھیجے گئے بچے کے گھر کی مکمل معلومات محلے کے دکاندار کو ہوا کرتی تھی اور اکثر وہ دکاندار محلے کے بچے کو ایسی چیزکبھی نہیں دیتا تھا جو اس کے اور اس کی صحت کے لیے ضرر رساں ہو اور محلے کے دوکاندار کی شکایت کو گھر کے افراد اہمیت دیا کرتے تھے۔
یہ اداروں کے فرائض کا وہ معاشرہ تھا جہاں بلدیہ کے محکمے کی ہدایت پر ہر کچی گلی اور سڑک پر صبح و شام بہشتی مشکیزہ بھر کر چھڑکاؤ کیا کرتا تھا کہ دھول مٹی سے آنے جانے والے پریشان نہ ہوں یا ان کی صحت کو اڑتی ہوئی دھول کوئی نقصان نہ پہنچا دے۔
محلے میں بجلی کے محکمے کے ہر کھمبے پر بلب کو چیک کرنے کے لیے بجلی کے محکمے کے افراد باقاعدگی سے اپنے فرائض بغیر کسی کے کہے پورا کرتے تھے اور فوری طور پر محلے کے کھمبے پر لگے خراب یا فیوز بلب کو تبدیل کر دیا جاتا تھا، تاکہ بجلی سے محروم طلبہ رات میں کھمبے کی روشنی میں کم ازکم اپنے اسکول کا کام کر سکیں۔
محلے میں گٹر کے نظام کے نہ ہونے پر گلی کے نالے یا بڑی موری کی صفائی کے لیے باقاعدگی سے مہتر اپنا سماجی فرض سمجھ کر روزانہ کی بنیاد پر نالیوں کی صفائی کیا کرتے تھے اور کبھی کوئی مہتر یا صفائی کرنیوالا نہ آتا تھا تو محلے میں سب کو اس کی خیریت معلوم کرنے کی فکر رہاکرتی تھی۔
اسکول سے غیر حاضر ہونیوالے طلبہ کی فکر کلاس کے استاد کورہتی تھی اور جب تک استاد کو کسی بھی طلبہ کی غیر حاضری کی مدلل وجہ نہیں بتائی جاتی تھی تو پھر بلا وجہ غائب ہونے کی سزا اسکول انتظامیہ اپنی ذمے داری سمجھ کر ادا کرتی تھی، جس میں طلبہ کے تمام حقوق محفوظ ہونے کو یقینی بنایا جاتا تھا،جیسا کہ اس کے کھیلنے کی پیریڈ پر اسے کھیلنے،آرٹ کرنے،تھیٹر کرنے یا لائبریری میں جانے کو یقینی بنایا جاتا تھا۔
بلکہ اگر کلاس کے استاد یہ محسوس کرتے تھے کہ سالانہ امتحان سے پہلے اسکول کے بچوں کو مزید پڑھائی کی ضرورت ہے تو استاد اپنا اخلاقی فرض سمجھ کر شام کو اسکول میں بچوں کو بلا کسی معاوضے کے اضافی طور سے پڑھایا کرتے تھے جب کہ اسکول کے بچے کے غیر حاضر ہونے پر کسی بھی قسم کی سفارش کی نہ کوئی گنجائش رکھی جاتی تھی اور نہ ہی والدین یا لواحقین اسکول کے نظم و ضبط میں دخل اندازی کیا کرتے تھے بلکہ اگر کوئی اسکول کا بچہ اسکول کے اوقات میں گھومتا ہوا نظر آجاتا تھا تو راہ چلتے ہوئے بڑے کو اس بات کا مکمل اختیار تھا کہ وہ اس بچے سے اسکول نہ جانے یا بلاوجہ گھومنے کی وجہ دریافت کرلے۔
یہ تہذیب سے مزین وہ ماحول تھا جس میں علاقے کے سب افراد، شاگرد اور استاد کے معاملات کو اسکول کی ذمے داری کے ساتھ اپنا سماجی فرض بھی سمجھا کرتے تھے،یہی وہ وجہ تھی جس سے،گھر، اسکول اور علاقے کا نظم و ضبط برقرار رہتا تھا ،بلکہ بسا اوقات تو کسی کے اسکول نہ آنے کے بہانے کا جب استاد کو معلوم ہوجاتا تھا تو وہ چار کلاس کے بچے بہانے باز شاگرد کے گھر بھیج کر اسے اسکول بلا لیتے تھے اور بہانے باز کے والدین استاد کی جانب سے بھیجے گئے بچوں کے ہر حکم کو بجا لاتے تھے۔
یہ سفارش یا رعایت نہ کرنے کا وہ سماجی رجحان تھا جس سے سماجی قدریں، تہذیب اور شائستگی کو اپنایا کرتی تھیں۔ اسکول کا نظام تعلیم اتنا قابل بھروسہ تھا کہ ٹیوشن پڑھنے والے بچے کو محلے کے لوگ اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے،سرکاری اسکولوں کا معیار تعلیم عالمی مقابلوں کی سطح تک مقابلہ کرنے کی پوری صلاحیت رکھا کرتا تھا۔
جامعہ کراچی میں پوری دنیا کے ممالک معیاری تعلیم کے حصول کے لیے اپنے ملک کے طلبہ بھیجا کرتے تھے ۔پرائیویٹ اسکول کھولنے کی بیماری اور سرمایہ کمانے کی ہوسناکی نے ساٹھ ستر کی دہائی میں سماج کے اندر ڈیرے نہیں ڈالے تھے اور سرکاری اسکولوں کے معیار کا یہ عالم تھا کہ قابلیت جاننے کے لیے اسکول کی سطح پر مختلف آزمائشی طریقوں سے علم کی اہلیت ماپی جاتی تھی۔
سرکاری اسکول میں بغیر جانچ پڑتال اور اہلیت کے داخلہ لینا،ایک دشوار عمل ہوا کرتا تھا،کسی بھی طالبعلم کے ذہن میں سرکاری اسکول میں داخلہ لینے کے سوا کسی بھی دوسری جگہ پڑھنے کا تصور تک نہیں تھا۔اعلی تعلیم کے لیے بہت کم طلبہ بیرون ملک تعلیم حاصل کرتے تھے،بلکہ ملک کی درسگاہوں میں ہی قابلیت کو بڑھانے کی کوششوں میں جتے رہتے تھے۔
قلیل آمدنی میں تعلیم سے لے کر تمام سماجی ذمے داریاں عزت و توقیر کے ساتھ نبھانے کے عمل کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔اسی کے ساتھ ساٹھ اور ستر کی دہائی تک ہمارا سماج سیاسی اور سماجی طور پر انتہائی صحت مند سرگرمیوں کا مرکز تھا،جس میں ملک کا ہر ادارہ اپنے فرائض انتہائی دیانتداری اور قانون کے مطابق سر انجام دے رہا تھا۔
یاد رہے کہ یہ وہ دور تھا جب طلبا کی سیاسی تحاریک نہایت منظم انداز اور نظریاتی وابستگی کے ساتھ سماج کے طلبہ حقوق کے لیے سرگرم تھیں اور اپنے جمہوری حقوق حاصل کرنے کے لیے صف آراء تھیں، اس سیاسی ہلچل میں طاقت ور افراد سر جوڑ کر بیٹھے اور غالب امکان ہے کہ انھوں نے طے کیا کہ ملک پر مستقل حکمرانی قائم کرنے کے لیے سب سے پہلے اس نظم و ضبط کے مضبوط سماج کو توڑا جائے جس میں اقدار ،تہذیب،شائستگی اور قانون کی عملداری قائم تھی۔
اس مقصد کے لیے طاقت کے آمرانہ ذہن نے پوری منصوبہ بندی سے پہلے ملک کے نظم و ضبط کے سماجی ڈھانچے کو برباد کرنے کے لیے قانون پر عمل درآمد کرنیوالے اداروں میں تن آسانی اور دولت کمانے کی لالچ کے نظام کو متعارف کروانے کے لیے ملک کے اداروں کے نظم و ضبط اور ان کے اندر سماجی و اخلاقی مدد اور فرض کی سوچ کو ختم کرنے کو پہلے ہدف کے طور پر رکھا،جس میں طاقتور اشرافیہ کی جانب سے اداروں میں سماجی سوچ کو ختم کرکے ان میں جلدی دولت مند بننے کی خواہش پیدا کی اور اداروں میں منصوبہ سازی کے تحت بد عنوانی کو داخل کیا۔
یاد رہے کہ ساٹھ اور ستر کی دہائی سے پہلے شہر میں کوئی ٹھیلا، رکشہ، ٹیکسی،گدھا گاڑی یا تانگے بان ایسا نہ تھا جو مقامی بلدیہ کے پاس رجسٹرڈ نہ ہو،بلکہ ان کے کاروبار کو قانونی بنانے کے لیے ان سب ریڑھی چلانے،تانگے چلانے، گدھاگاڑی چلانے کے ساتھ رکشہ ٹیکسی میں کرائے کے میٹر بلدیہ کی طرف سے نصب کیے جاتے تھے اور بسوں میں باقاعدہ ٹکٹ خریدنے کا مربوط نظام تھا۔
جن کے تحت سب سماج کے افراد سے قانون کے مطابق مقررہ ریٹ پر رقم لینے کے اہل ہوا کرتے تھے اور اگر کوئی بھی فرد ان کی شکایت متعلقہ ادارے میں کر دیا کرتا تھا تو وہ ادارہ ان افراد کی رجسٹریشن ختم کر دیا کرتا تھا،اس سماجی نظام نے پورے معاشرے میں انصاف اور توازن کو برقرار رکھا ہوا تھا۔
مگر دوسری جانب وہ افراد تھے جو اس سماجی انصاف اور حق رائے دہی یا احتجاج کے حق کو اپنے اقتدار میں رکاوٹ سمجھتے تھے ،اس لیے سب سے پہلے اداروں کی بنیادی اور دیانتدارانہ حیثیت کو ختم کیا جب کہ دوسری جانب دولت کی لالچ میں اداروں کے افراد کے ذریعے نچلی سطح تک بد عنوانی یا رشوت کا بازار گرم کیا تاکہ طاقتور افراد کی غیر جمہوری سوچ کو چیلنج نہ کیا جا سکے۔
کرپشن اور دولت کمانے کا آسان حصول ہمارے سماج میں نچلی سطح تک پہنچا دیا گیا ہے کہ جس کی سربراہی بادل نانخواستہ حکومتی کارندے یا ذمے داران کر رہے ہیں جب کہ ملک کے اداروں کو بہت منصوبہ بندی سے ناجائز دولت کمانے کے لیے آزاد اور بے لگام چھوڑ دیا گیا ہے۔
حالانکہ ساٹھ اور ستر تک کی دہائی کے ملک میں مقیم رنگ و نسل اور طبقے سے بلند افراد کی یہ وہ شائستہ نسل تھی جو کہ اپنی نسل کی تربیت محنت لگن اور تعلیم کے ساتھ سماجی رہن سہن سے کرنا چاہتی تھی،جب کہ پرانی نسل نے یہ سب کچھ کرکے اپنے ناخواندہ ہونے کے باوجود آیندہ کی نسل کو تعلیمی،سماجی اور سیاسی فکر سے آراستہ کیا۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم دوبارہ سے سماجی ٹوٹ پھوٹ کے بدبودار اور کرپٹ سماج سے چھٹکارہ پا کر نسل کو سیاسی،سماجی اور اخلاقی طور سے مستحکم کر سکیں گے،سماج کا یہی اجتماعی دکھ ہم سب کو مل کر سمجھنا بھی ہے اور دوبارہ ایک روشن خیال سیاسی و سماجی سماج بھی تشکیل دینا ہے جو مشکل ضرور ہے مگر ناممکن ہرگز نہیں۔