بچے برے نہیں

کراچی میں حالیہ سائبر کرائم واقعات نے اسی بدلتی ہوئی حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے


کاشف شمیم صدیقی November 08, 2026

ایک وقت تھا جب گلی محلے بچوں کے شور، قہقہوں اور کھیل کود سے گونجتے تھے۔ چھپن چھپائی، کھو کھو، برف پانی، پٹھو گرم، دوڑ کے مقابلے اور بھاگنے دوڑنے والے دوسرے کھیل بچوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ تھے۔ اسکول سے واپسی، کھانا کھانے، کچھ دیر آرام کرنے اور ٹیوشن وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد بچے شام ہوتے ہی گھروں سے باہر نکل آتے اور دیر تک کھیلتے رہتے تھے۔

اس دور میں نہ تو بچوں کے ہاتھ میں موبائل فون ہوتا تھا، نہ سوشل میڈیا نام کی کوئی دنیا تھی اور نہ ہی انٹرنیٹ کے ذریعے اجنبی لوگوں تک رسائی کے وہ مواقع تھے جو آج عام ہو چکے ہیں۔ بچوں کے وقت کا بڑا حصہ گھر والوں، دوستوں اور محلے کے لوگوں کے درمیان گزرتا تھا۔آج صورت حال بدل چکی ہے۔

کھیل کے میدانوں اور گلیوں کی جگہ بڑی حد تک موبائل اسکرینوں نے لے لی ہے۔ بچے گھر کے اندر بیٹھے دنیا بھر سے رابطہ کر سکتے ہیں، مگر اسی رابطے کے ذریعے ایسے افراد اور گروہوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں جو ان کی کم عمری، تجسس اور جذباتی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

کراچی میں حالیہ سائبر کرائم واقعات نے اسی بدلتی ہوئی حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے۔یہ محض ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کا معاملہ نہیں، بلکہ بچوں کی تربیت، ذہنی صحت، والدین کی توجہ اور معاشرتی ذمے داری سے جڑا ہوا مسئلہ بھی ہے۔

سوال صرف یہ نہیں کہ بچے انٹرنیٹ پر کیا دیکھ رہے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ کن لوگوں سے رابطے میں ہیں، کون ان کی سوچ پر اثرانداز ہو رہا ہے اور والدین کو اس سب کا علم کیوں نہیں ہو پاتا۔ہر بچہ جو کسی خطرناک آن لائن گروپ کے قریب پہنچتا ہے، لازماً مجرمانہ ذہنیت نہیں رکھتا۔

بعض اوقات تجسس، تنہائی، دوسروں کی توجہ حاصل کرنے کی خواہش یا کسی گروپ کا حصہ بننے کی طلب اسے ایسے لوگوں کے قریب لے جاتی ہے جو بتدریج اس کی سوچ اور فیصلوں پر اثرانداز ہونے لگتے ہیں۔ ابتدا میں معمولی نوعیت کے کام یا چیلنجز دیے جاتے ہیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ سرگرمیاں نقصان دہ رخ اختیار کر سکتی ہیں۔

بچے کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ کب دوسروں کے ہاتھوں استعمال ہونے لگا ہے۔اصل مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں، اس کا غیر محفوظ استعمال ہے۔ انٹرنیٹ بچوں کو علم، تخلیقی صلاحیتوں اور دنیا سے رابطے کے مواقع فراہم کرتا ہے، لیکن جب ڈیجیٹل آزادی کے ساتھ رہنمائی اور تحفظ موجود نہ ہوں تو یہی سہولت خطرے میں بدل سکتی ہے۔

کم عمر بچوں کے لیے یہ سمجھنا بھی مشکل ہوتا ہے کہ آن لائن دوستی کب اعتماد کے استحصال میں تبدیل ہو رہی ہے۔والدین اکثر بچوں کو موبائل فون تو فراہم کر دیتے ہیں، لیکن انھیں اس کے محفوظ استعمال کی تربیت دینے کو ضروری نہیں سمجھتے۔

بعض گھرانوں میں بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر کوئی نگرانی نہیں ہوتی، جب کہ بعض جگہ سخت پابندیاں اور ڈانٹ ڈپٹ بچوں کو اپنی مشکلات چھپانے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ دونوں رویے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔والدین کو بچوں کے ساتھ ایسا تعلق قائم کرنا ہوگا جس میں وہ کسی اجنبی کے پیغامات، مشکوک رابطے، بلیک میلنگ یا نامناسب مطالبات کے بارے میں بلاخوف بات کر سکیں۔ بچے کے رویے میں اچانک تبدیلی، غیر معمولی پریشانی، تنہائی، نیند میں خلل یا کسی آن لائن رابطے کے بارے میں غیر معمولی رازداری کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

تاہم، ان علامات کو بذاتِ خود کسی جرم کا ثبوت سمجھنے کے بجائے بچے سے ہمدردی کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔والدین کو عمر کے مطابق اسکرین ٹائم، رازداری کی ترتیبات اور ایپلی کیشنز کے استعمال کے واضح اصول بنانے چاہییں۔

چھوٹے بچوں کے لیے نگرانی نسبتاً زیادہ ضروری ہے، جب کہ بڑے بچوں کو اعتماد کے ساتھ ڈیجیٹل ذمے داری سکھانا اہم ہے۔ مقصد بچوں کی ہر سرگرمی پر غیر ضروری پابندی لگانا نہیں، بلکہ انھیں خطرات پہچاننے اور بروقت مدد لینے کے قابل بنانا ہے۔

اسکول اور کالج بچوں کی زندگی کا بڑا حصہ تشکیل دیتے ہیں، لیکن ڈیجیٹل تحفظ کو اب بھی اکثر ثانوی اہمیت دی جاتی ہے۔ تعلیمی اداروں کو سائبر تحفظ، آن لائن استحصال، جعلی شناخت، بلیک میلنگ اور ڈیجیٹل رازداری سے متعلق آگاہی کو طلبہ کی تربیت کا حصہ بنانا چاہیے۔

اساتذہ کو یہ سمجھنے کی تربیت بھی ملنی چاہیے کہ کسی بچے کے رویے میں نمایاں تبدیلی محض بدتمیزی یا تعلیمی عدم دلچسپی نہیں، بلکہ ممکنہ ذہنی دباؤ یا آن لائن استحصال کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔ ہر ادارے میں ایسا قابلِ اعتماد طریقہ شکایت ہونا چاہیے جہاں بچے اپنی شناخت اور عزت کے تحفظ کے ساتھ مدد حاصل کر سکیں۔

اس کے ساتھ والدین اور اساتذہ کے درمیان رابطہ مضبوط بنانا ضروری ہے، اگر گھر اور اسکول دونوں بچوں کی ڈیجیٹل زندگی سے لاتعلق رہیں تو خطرات کی نشاندہی اکثر اس وقت ہوتی ہے جب نقصان کا اندیشہ بڑھ چکا ہوتا ہے۔والدین اور تعلیمی اداروں کی کوششیں اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن منظم آن لائن جرائم کا مقابلہ صرف انفرادی سطح پر ممکن نہیں۔

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کو مشکوک نیٹ ورکس کی تحقیقات، مجرموں کی شناخت، ڈیجیٹل شواہد کے تحفظ اور متاثرہ بچوں کو بروقت تحفظ فراہم کرنے کے لیے اپنی تکنیکی صلاحیت اور ادارہ جاتی تعاون مزید مؤثر بنانا ہوگا۔

بین الاقوامی اداروں کے ساتھ معلومات کا تبادلہ بھی اہم ہے، کیونکہ ایسے نیٹ ورکس مختلف ممالک میں موجود افراد کے ذریعے کام کر سکتے ہیں۔سوشل میڈیا اور پیغام رسانی کی ایپلی کیشنز فراہم کرنے والی کمپنیوں کو بھی بچوں کے استحصال، دھمکی آمیز رابطوں اور نقصان دہ سرگرمیوں کے خلاف مؤثر شکایتی نظام، فوری کارروائی اور عمر کے مطابق حفاظتی اقدامات یقینی بنانے چاہییں۔

حکومت کو تعلیمی اداروں اور میڈیا کے تعاون سے قومی سطح پر ڈیجیٹل تحفظ کی آگاہی مہم چلانی چاہیے۔ میڈیا کی ذمے داری بھی صرف سنسنی خیز تفصیلات سامنے لانا نہیں، بلکہ عوام کو خطرات سے بچاؤ کے طریقے سمجھانا ہے۔

متاثرہ بچوں کی شناخت ظاہر کرنا، غیر مصدقہ دعوے پھیلانا یا انھیں موردِ الزام ٹھہرانا ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔اگر کوئی بچہ کسی خطرناک آن لائن گروپ کے زیرِ اثر آ جائے تو اسے مجرم سمجھنے کے بجائے پہلے اس کی حفاظت اور ذہنی بحالی کو ترجیح دی جائے۔

بچے کو شرمندہ کرنا، دھمکانا یا اس کی مشکلات دوسروں کے سامنے اچھالنا اسے مزید تنہائی میں دھکیل سکتا ہے۔کراچی کے حالیہ واقعات متقاضی ہیں کہ بچوں کی حفاظت اب صرف گھر کی چار دیواری یا اسکول کے دروازے تک محدود نہیں رہی۔

ان کی زندگی کا ایک اہم حصہ ڈیجیٹل دنیا میں بھی گزرتا ہے، جہاں والدین اور اساتذہ کی نظر ہمیشہ نہیں پہنچ پاتی۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بچوں کو ماضی کی طرح محفوظ سماجی سرگرمیوں، کھیل کے میدانوں اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے کے مواقع بھی فراہم کریں اور انھیں جدید ٹیکنالوجی کے محفوظ استعمال کی تربیت بھی دیں۔