نیتن یاہو کا زوال، عالمی سیاست میں تبدیلیاں

اسرائیل میں نیتن یاہو کی سیاسی گرفت کمزور ہونا ایک غیر معمولی پیش رفت ہے۔


ایڈیٹوریل November 09, 2026

اقتدار کے ایوان بظاہر کتنے ہی مضبوط کیوں نہ ہوں، تاریخ کا پہیہ جب گردش بدلتا ہے تو بڑے سے بڑے حکمران بھی اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ دنیا کی سیاست میں اس وقت کچھ ایسے ہی غیر معمولی تغیرات جنم لے رہے ہیں جنھوں نے مشرقِ وسطیٰ سے واشنگٹن تک طاقت کے روایتی مراکز کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

اسرائیل میں بنیامین نیتن یاہو کے طویل اقتدار کا اختتام قریب دکھائی دے رہا ہے، امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد سخت سیاسی مزاحمت کا سامنا ہے، جبکہ ایران کے خلاف امریکی عسکری و اقتصادی دباؤ کو ایک نئے مرحلے میں داخل کیا جارہا ہے۔

بظاہر یہ تین الگ الگ واقعات ہیں، لیکن ان کے پس منظر میں ایک مشترکہ حقیقت کارفرما ہے۔ عالمی سیاست کا پرانا توازن تبدیل ہورہا ہے اور طاقت کے بل پر فیصلے مسلط کرنے کی حکمت عملی کو داخلی مزاحمت، سیاسی احتساب اور بین الاقوامی پیچیدگیوں کا سامنا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان تبدیلیوں کے اثرات نہ صرف اسرائیل اور امریکا کی داخلی سیاست بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے سیاسی، سفارتی اور تزویراتی مستقبل کا تعین کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

اسرائیل میں نیتن یاہو کی سیاسی گرفت کمزور ہونا ایک غیر معمولی پیش رفت ہے۔ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے تک اسرائیلی سیاست پر اثرانداز رہنے والے اس رہنما کے اقتدار کو حالیہ انتخابات میں شدید دھچکا پہنچا ہے۔ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کی جانب سے اپوزیشن رہنما گاڈی آئزن کوٹ کو حکومت سازی کا مینڈیٹ دینے کا اعلان اس امر کی علامت ہے کہ اسرائیلی سیاست میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔

آئزن کوٹ کو پارلیمنٹ میں 67 ارکان کی حمایت حاصل ہونے کی اطلاعات، جبکہ حکومت سازی کے لیے 61 نشستیں درکار ہیں، ان کی سیاسی پوزیشن کو مضبوط بناتی ہیں۔ تاہم عددی اکثریت حاصل کرلینا اور ایک مستحکم حکومت قائم کرنا دو مختلف مراحل ہیں۔ آئزن کوٹ کو 28 روز میں حکومت تشکیل دینے کا موقع دیا گیا ہے، جس میں توسیع کی گنجائش بھی موجود ہے۔ اس دوران مختلف جماعتوں کے مفادات، نظریاتی اختلافات اور سیاسی شرائط ان کے لیے اصل امتحان ثابت ہوں گے۔

اسرائیلی سیاست کا ایک اہم پہلو عرب جماعتوں کا کردار بھی ہے۔ ان جماعتوں نے حکومت میں شامل ہوئے بغیر آئزن کوٹ کی حمایت کا اعلان کرکے پارلیمانی سیاست میں اپنی اہمیت واضح کردی ہے۔ یہ پیش رفت اس روایتی سیاسی سوچ کے لیے ایک چیلنج ہے جس میں عرب شہریوں کی نمائندگی کو اقتدار کے فیصلہ کن معاملات سے الگ رکھنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔

نیتن یاہو کی جانب سے عرب جماعتوں کی حمایت سے بننے والی حکومت کو اسرائیل کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دینا دراصل اس سیاسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ اسرائیلی معاشرے میں نسلی، مذہبی اور نظریاتی تقسیم کتنی گہری ہوچکی ہے۔ آئزن کوٹ نے عرب جماعتوں کو کابینہ میں شامل کرنے سے انکار کیا ہے، لیکن ان کی پارلیمانی حمایت قبول کرنے کا امکان سیاسی حکمت عملی کے ایک نئے باب کی نشاندہی کرتا ہے۔

آئزن کوٹ کا پس منظر بھی اسرائیل کی داخلی سیاست میں ایک اہم علامتی حیثیت رکھتا ہے۔ مراکشی تارکین وطن کے خاندان سے تعلق رکھنے والے 66 سالہ سابق فوجی سربراہ کی ممکنہ وزارت عظمیٰ اسرائیلی تاریخ میں غیر یورپی النسل مزراحی کمیونٹی کی نمائندگی کے اعتبار سے غیر معمولی پیش رفت ہوگی۔ تاہم ان کی اصل آزمائش شناخت یا خاندانی پس منظر نہیں بلکہ وہ پالیسی ہوگی جس کے ذریعے وہ اسرائیل کو مسلسل جنگی کیفیت سے نکالنے کی کوشش کریں گے۔

غزہ میں نیتن یاہو کی فوجی مہم پر ان کی تنقید اور اسی اختلاف کے نتیجے میں حکومتی اتحاد سے علیحدگی ظاہر کرتی ہے کہ اسرائیل کے اندر بھی جنگی حکمت عملی پر یکساں رائے موجود نہیں۔ حماس کی عسکری اور حکومتی صلاحیت ختم کرنے کا عزم اپنی جگہ، لیکن اس مقصد کے حصول کے لیے مسلسل تباہ کن فوجی کارروائیاں کسی دیرپا سیاسی حل کا متبادل نہیں بن سکتیں۔ غزہ میں انسانی جانوں کا ضیاع، شہری آبادی کی تباہی اور فلسطینی عوام کی بنیادی ضروریات سے انکار اسرائیل کے لیے اخلاقی، سیاسی اور سفارتی مشکلات میں اضافہ کرچکا ہے۔

نیتن یاہو کے لیے اقتدار سے محرومی کے اثرات محض سیاسی شکست تک محدود نہیں رہ سکتے۔ انھیں بدعنوانی کے مقدمات کا سامنا ہے، جبکہ غزہ میں مبینہ جنگی جرائم کے حوالے سے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی کارروائی اور گرفتاری کے وارنٹ بھی ان کی مشکلات میں اضافہ کرتے ہیں۔ اگر نئی حکومت قائم ہوجاتی ہے تو اسرائیلی سیاست میں احتساب کا معاملہ ایک نئی شدت اختیار کرسکتا ہے۔

تاہم یہ توقع رکھنا درست نہیں ہوگا کہ کسی نئے وزیراعظم کی آمد سے اسرائیل کی فلسطین پالیسی یکسر تبدیل ہوجائے گی۔ اسرائیلی ریاست کے بنیادی سیاسی و تزویراتی مفادات، طاقتور اداروں کا اثرورسوخ اور فلسطینی مسئلے پر داخلی اختلافات نئی حکومت کے لیے بھی بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ اس لیے اصل اہمیت اس بات کی ہوگی کہ نئی قیادت جنگ کے بجائے سیاسی مفاہمت، انسانی حقوق اور خطے میں پائیدار امن کو کتنی اہمیت دیتی ہے۔

امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی مشکلات بھی عالمی سیاست کے اسی بدلتے ہوئے رجحان کا دوسرا اہم مظہر ہیں۔ مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس کی دونوں ایوانوں پر کامیابی نے امریکی صدر کے لیے سیاسی ماحول یکسر تبدیل کردیا ہے۔ امریکی آئینی نظام میں کانگریس کا کردار محض قانون سازی تک محدود نہیں بلکہ انتظامیہ کی نگرانی اور اختیارات کے احتساب میں بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کی متعلقہ کمیٹیوں پر ڈیموکریٹس کا کنٹرول انھیں سرکاری دستاویزات طلب کرنے، سابق حکام کو بیانات کے لیے بلانے اور عوامی سماعتوں کے ذریعے انتظامیہ کے اقدامات کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کرے گا۔ ٹرمپ اور ان کے اعلیٰ معاونین کے خلاف تحقیقات کا اعلان اسی نئے سیاسی توازن کا نتیجہ ہے۔

ایران کے خلاف پابندیوں اور نگرانی کے نظام میں وسعت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ ایران اپنی قومی سلامتی اور دفاعی ضروریات کے حوالے سے کسی بیرونی دباؤ کو آسانی سے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ دوسری جانب امریکا کی جانب سے زمینی اور سمندری راستوں کی نگرانی بڑھانے سے تجارتی سرگرمیوں، علاقائی روابط اور پڑوسی ممالک کے اقتصادی مفادات بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ پابندیاں اگر سفارتی مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے بجائے مستقل محاذ آرائی کا ذریعہ بن جائیں تو ان کا نقصان صرف متعلقہ ملک تک محدود نہیں رہتا۔ عالمی معیشت، توانائی کی رسد اور بحری تجارت بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتیں۔

ان تینوں پیش رفتوں کو یکجا کرکے دیکھا جائے تو ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے: داخلی سیاسی کمزوریوں اور خارجی طاقت کے استعمال کے درمیان توازن قائم رکھنا کسی بھی ریاست کے لیے ناگزیر ہے۔ اسرائیل میں نیتن یاہو کی سیاسی مشکلات، امریکا میں ٹرمپ کو درپیش پارلیمانی مزاحمت اور ایران کے خلاف امریکی نگرانی کا پھیلتا ہوا دائرہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی سیاست اب محض عسکری برتری کی بنیاد پر نہیں چل سکتی۔ عوامی رائے، جمہوری اداروں، انسانی حقوق اور اقتصادی استحکام کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔

پاکستان سمیت مسلم دنیا کے لیے بھی یہ حالات غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بڑی سیاسی تبدیلی کے اثرات توانائی، تجارت، سفارت کاری اور علاقائی سلامتی پر مرتب ہوتے ہیں۔ پاکستان کو ایسی صورتحال میں اصولی مؤقف، متوازن خارجہ پالیسی اور سفارتی تدبر کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، غزہ میں انسانی المیے کے خاتمے اور ایران سمیت تمام علاقائی ممالک کی خودمختاری کا احترام پائیدار امن کی بنیادی شرائط ہیں۔ عالمی برادری کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کے ذریعے سیاسی مسائل کو دبایا تو جاسکتا ہے، حل نہیں کیا جاسکتا۔

تاریخ کا فیصلہ بالآخر ان حکمرانوں کے حق میں ہوتا ہے جو اپنے اقتدار کی طوالت کے بجائے اپنی قوموں کے مستقبل کو ترجیح دیتے ہیں۔ نیتن یاہو کی ممکنہ رخصتی، ٹرمپ کے خلاف بڑھتا ہوا پارلیمانی دباؤ اور ایران کے گرد امریکی حکمت عملی کا پھیلاؤ ایک ایسے دور کی نشان دہی کرتے ہیں جس میں طاقتور ترین شخصیات بھی سیاسی احتساب اور بدلتے ہوئے حالات سے بالاتر نہیں۔ دنیا کو اس وقت مزید محاذ آرائی نہیں بلکہ ایسی دانشمندانہ قیادت درکار ہے جو اختلاف کو جنگ میں تبدیل کرنے کے بجائے مکالمے کا راستہ اختیار کرے۔ یہی طرز فکر مشرق وسطیٰ کو تباہی کے تسلسل سے نکال کر امن، انصاف اور باہمی احترام کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔