اقتصادی تعاون تنظیم کے 15 نومبر کوہونیوالے 2 روزہ وزرائے خارجہ اجلاس میں علاقائی سلامتی اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کو نمایاں توجہ ملنے کا امکان ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی ممکنہ آمد سے اجلاس کو عالمی توجہ ملے گی، ان کی موجودگی علاقائی صورتحال بشمول ایران امریکا محاذ آرائی، توانائی رسد کی سکیورٹی اور خلیج میں عدم استحکام کے مضمرات پر بات چیت متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کی وزیراعظم شہباز شریف اور ہم منصب اسحاق ڈار سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
بڑھتی علاقائی کشیدگی کے باعث پاکستان میں تنظیم کے مجوزہ سرگرمیاں پہلے سے متاثر ہیں، اکتوبر میں تنظیم کے وزرائے داخلہ کا اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔
اجلاس کا بنیادی ایجنڈہ اگرچہ اقتصادی تعاون، تجارت اور علاقائی ربط سازی ہے، امکان ہے کہ شرکاء کی زیادہ توجہ علاقائی سکیورٹی صورتحال پر مرکوز ہو گی، اس کی وجہ بطور رکن اجلاس میں افغانستان کی ممکنہ شرکت بھی ہے۔