کپتان کی تبدیلی سے کوئی فرق نہیں پڑیگا میانداد

نئے قائد کو بھی ان ہی پلیئرز کی غیرمستقل مزاجی کا سامنا کرنا پڑے گا، سابق بیٹسمین


Sports Reporter September 01, 2014
نئے قائد کو بھی ان ہی پلیئرز کی غیرمستقل مزاجی کا سامنا کرنا پڑے گا، سابق بیٹسمین۔ فوٹو: اے پی پی/فائل

سابق ٹیسٹ کپتان جاوید میانداد نے کہا ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان کی تبدیلی سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، سری لنکا کے خلاف ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ہماری ناقص بیٹنگ تھی۔

'ایکسپریس ٹریبیون 'کے ایماد حمید کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ دورۂ سری لنکا میں میزبان ٹیم کے خلاف ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز میں ناکامی کا اصل سبب پاکستان کی بیٹنگ لائن کا بری طرح ناکام ہوجانا تھا، انھوں نے کہا کہ ہمارے کھلاڑیوں میں اعتماد کا فقدان ہے، ماضی کے کامیاب کرکٹرز کی کا خاصہ ان کی مستقل مزاجی تھی جس کی بدولت وہ دنیا کے بڑے سے بڑے بولر کا بھرپور انداز میں سامنا کرتے تھے۔

جاوید میاں داد نے کہا کہ بدقسمتی سے اب ہمارے پاس آسٹریلیا اور بھارت کی طرح ایسا کوئی اعلی معیار کا بیٹسمین نہیں ہے جسے ورلڈ کلاس بیٹنگ لائن میں شامل کیا جا سکے، پی سی بی کے سابق ڈی جی نے قومی کرکٹ ٹیم میں بھاری بھر کم ٹیم مینجمنٹ کی شمولیت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دورئہ سری لنکا میں 10 رکنی ٹیم مینجمنٹ کی قطعی ضرورت نہیں تھی، دیگر انٹر نیشنل ٹیموں کی اندھی تقلید کرنے کی بجائے ہمیں اپنے انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

ٹیم مینجمنٹ کی ذمے داری ہے کہ وہ کھلاڑیوں کی خامیوں کو سامنے لاکر ان کو تکنیکی انداز میں بہتر کرنے کی کوشش کرے، مصباح الحق کو قیادت سے الگ کرنے سے قومی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، کیوں کہ نئے کپتان کو بھی ان ہی کھلاڑیوں کی غیر مستقل مزاجی کا سامنا کرنا پڑے گا۔