تھر میں اموات پر تہلکہ خیز رپورٹ

سرکاری محکموں کی تھرمیں بے حسی،بد انتظامی،کرپشن، فرض ناشناسی،قحط اوراموات کےتسلسل نےبربادی کی الم ناک تاریخ رقم کی ہے۔


Editorial November 07, 2014
تھر کے عوام بھوک اور پیاس سے سسک سسک کر مرتے رہے اور کروڑوں روپے مالیت کا موبائل ہیلتھ یونٹ ایک فارم ہاؤس پر استعمال ہوتا رہا۔ فوٹو:اے پی پی

صوبائی وزیر اینٹی کرپشن نے تھر میں قحط سالی اور اس کے نتیجے میں3 سو بچوں سمیت سیکڑوں انسانی جانوں کی ہلاکت کا ذمے دار سندھ حکومت، اعلیٰ عہدوں پر فائز سیاسی شخصیات اور ان کے چہیتے افسران کو قرار دیا ہے، پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کی ہدایت پر تیار کی جانے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے جو خاصی تہلکہ خیز اور تھری عوام کی مظلومیت کا نوحہ ہے۔

رپورٹ کے ایک حصہ کے مطابق تھر کے دور دراز علاقوں میں قائم سیکڑوں ڈسپنسریاں، ٹراما سینٹرز، میٹرنٹی ہومز، مراکز غذائیت صرف کاغذات پر موجود ہیں اور ان کے نام پر ہر ماہ کروڑوں روپے کا فنڈز خورد برد کیا جا رہا ہے، اسپتالوں میں تاریخ تنسیخ گزر جانے کے بعد نمکول فراہم کیا جا رہا ہے، تھر کے عوام بھوک اور پیاس سے سسک سسک کر مرتے رہے اور کروڑوں روپے مالیت کا موبائل ہیلتھ یونٹ ایک فارم ہاؤس پر استعمال ہوتا رہا، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے دواؤں اور علاج معالجے کے لیے جاری کیا جانے والے فنڈ سے5 کروڑ روپے کا فرنیچرخرید لیا۔

سندھ کے صوبائی وزیر اینٹی کرپشن منظور وسان کو آصف زرداری کی جانب سے تھر میں بڑی تعداد میں ہونے والی انسانی ہلاکتوں کی تحقیقات کی ذمے داری سونپی تھی اس سلسلے میں منظور وسان نے گزشتہ ماہ کے آخر میں تھر کا دورہ بھی کیا تھا، صوبائی وزیر نے اس سلسلے میں اپنی ابتدائی رپورٹ تیار کر لی ہے جو آصف علی زرداری کو پیش کی جائے گی، اگرچہ میڈیا کو موصول ہونے والی رپورٹ میں دل دہلادینے والے انکشافات کیے گئے ہیں، تاہم منظور وسان نے میڈیا کو بتایا کہ تھر کی رپورٹ کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، یہ رپورٹ وہ پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو جلد پیش کریں گے، اور منظر عام پر لانے سے قبل اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔ رپورٹ کی تیاری سے کوئی انکار نہیں کر رہا اور یہی اہم نکتہ ہے۔

ادھر ترجمان بلاول ہاؤس اعجاز درانی نے تھر کی صورتحال کے حوالہ سے صوبائی وزیر منظور وسان سے منسوب کی گئی میڈیا رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے یہ رپورٹ غیر مستند، ناپختہ، اور قبل از وقت ہے، ان کا کہنا ہے کہ اس تمام صورتحال کی تحقیقات و تفتیش پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو خود کر رہے ہیں۔ چنانچہ اسی سیاق و سباق میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ کی حقیقت اور اس کے مندرجات کی تصدیق بھی بلاول بھٹو بہتر انداز میں کر سکتے ہیں۔

تاہم زمینی حقائق بہت تلخ ہیں، جس میں سنگین بحران کی تباہ کاریوں کو تسلیم کرنے سے انکار، حقائق کی تردید، وزیر اعلیٰ سید قائم شاہ سمیت ان کے وزرا، صوبائی حکام اور نوکرشاہی کے متضاد بیانات سے تھر ایک معمہ بن گیا، اور کوشش یہی ہوتی رہی کہ قحط سے نہیں بلکہ بھوک اور خود تھری عوام کی سادہ لوحی، ناخواندگی ، جہالت اور حفظان صحت سے لاعلمی کے باعث اموات ہوئیں، لہٰذا اتنے سنگین بحران پر پردہ ڈالنے کی اجتماعی کوششوں میں بچے اور فطرت کی منفرد و دلکش تخلیق ''مور'' بھی مرتے رہے اور ان کی ہلاکتوں سے بری الذمہ ہونے کا ہر متعلقہ افسر دعویدار تھا۔

آج تک کم سن بچوں کی بیماریوں اور ان کی جاری ہلاکتوں کو مختلف نام اور رنگ دینے کا سلسلہ جاری ہے حالانکہ سرکاری محکموں کی تھر میں بے حسی، بد انتظامی، کرپشن، فرض ناشناسی، قحط اور اموات کے تسلسل نے بربادی کی الم ناک تاریخ رقم کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تھر میں ہمہ جہت ترقی اور معاشی انفرا سٹرکچر کی ضرورت سندھ میں سب سے زیادہ ہے۔ لیکن تھری عوام کی کسمپرسی پر کسی کو رحم نہیں آیا۔ اب بھی وقت ہے کہ ملک سے غربت ، بیماریوں اور ناخواندگی کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ تھر کے عوام کی معاشی بحالی، بچوں کی صحت و نگہداشت، بہتر انتظامی صورتحال اور صحت کے نظام کو مستحکم بنیادوں پر استوار کیا جائے۔