امریکا میں انصاف کا ایک اور قتل

تہذیب یافتہ اقوام میں نسلی امتیاز اور تفاخرکو دورجاہلیت کی نشانی اور پسماندہ اقوام میں موجود عیب سمجھا


Editorial November 27, 2014
ہلاکت کے مقدمے میں جیوری نے گولی چلانے والے پولیس اہلکار پر فردِ جرم عائد نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے،فوٹو:فائل

لاہور: تہذیب یافتہ اقوام میں نسلی امتیاز اور تفاخرکو دورجاہلیت کی نشانی اور پسماندہ اقوام میں موجود عیب سمجھا اور گردانا جب کہ خود کو اس سے مبرا ظاہر کر کے انسانی حقوق کا علمبردار ظاہر کیا جاتا ہے، راکھ میں دبی چنگاریاں کو جب ہوا لگتی ہے تو وہ آگ کے شعلے بن جاتی ہیں ۔

سچ تو یہ ہے کہ امریکا جیسے ملک میں سفید فام نسل خود کو اعلیٰ وارفع نسل سمجھنے پر مصر ہے، 'کالے' ان کے ظالمانہ رویے سہنے پر مجبور ہیں، ایسے ہی ایک واقعے کی وجہ سے اس وقت امریکا میں سیاہ فام افراد احتجاج اور توڑ پھوڑ کر رہے ہیں ، ان کی نظر میں عدالت کے فیصلے سے انصاف کا قتل ہوا ہے ۔امر واقعہ یہ ہے کہ امریکا کی ریاست میزوری کے شہر فرگوسن میں پولیس اہلکار ڈیرن ولسن نے 18 سالہ مائیکل براؤن کو رواں برس 9 اگست کوگولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد علاقے میں فسادات ہوئے تھے ۔

ہلاکت کے مقدمے میں جیوری نے گولی چلانے والے پولیس اہلکار پر فردِ جرم عائد نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے،اس فیصلے کے خلاف سیکڑوں شہری سڑکوں پر نکل آئے اور متعدد گاڑیوں اورعمارتوں کو نذر آتش کردیا ۔امریکی صدر اور مائیکل براؤن کے اہلخانہ کی جانب سے پرامن رہنے کی اپیل کے باوجود فیصلے کے بعد فرگوسن کے علاقے میں ہنگامہ آرائی ہوئی اور متعدد عمارتیں نذرِ آتش کر دی گئی ہیں۔ جہاں بھی انصاف کا قتل ہوگا وہاں لاوا تو پھٹے گا ۔

ایسے میں بھی بھلا صدراوباما کی پرامن رہنے کی اپیل پر کون کان دھرے گا، مقتول مائیکل براؤن کے اہلِ خانہ نے اپنا ردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم شدید مایوس ہیںکہ ہمارے بچے کا قاتل اپنے کیے کی سزا نہیںبھگتے گا ۔عالمی حقوق کے چیمپئن امریکا کو اپنے شہریوں کے ساتھ دہرے برتاؤ پر شرمندہ ہونا چاہیے اور اس میں اصلاح احوال کی کوشش کرنی چاہیے۔