افریقہ اور ایشیا میں دہشت گردی اور طاقتور اقوام

افریقہ میں نائجیریا، مالی، صومالیہ، سوڈان، کینیا اور لیبیا دہشت گردی کا شکار ہیں...


Editorial November 30, 2014
افریقہ میں نائجیریا، مالی، صومالیہ، سوڈان، کینیا اور لیبیا دہشت گردی کا شکار ہیں،. فوٹو؛فائل

نائیجیریا کے شہر کانو میں ایک بڑی مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع میں ہونے والے ایک ہولناک خودکش دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں سو سے زیادہ افراد جاں بحق اور تین سو کے لگ بھگ زخمی ہو گئے۔ ادھر افغانستان کے صوبہ ننگرہار کی ایک مسجد میں بھی نماز جمعہ کے موقع پر دھماکے میں متعدد نمازی زخمی ہو گئے تاہم وہاں جاں بحق ہونے والوں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ افغانستان میں ہی ایک فوجی اڈے پر طالبان کی طرف سے کیے جانے والے حملے میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد پانچ بتائی گئی ہے جب کہ چوبیس زخمی ہوئے۔

یہ اڈہ کچھ عرصہ پہلے تک برطانوی فوج کے زیر کنٹرول تھا جسے انھوں نے افغان فوج کے حوالے کر دیا۔ ممکن ہے حملہ آوروں نے اسے برطانوی اڈہ سمجھ کر ہی حملہ کیا ہو۔ امریکا نے اپنی کچھ فوج مزید ایک سال تک افغانستان میں رکھنے کا جو فیصلہ کیا ہے ممکن ہے وہ بھی اس کے لیے الٹا نقصان کا موجب بنے۔ گو نائیجیریا اور افغانستان کی مساجد پر حملوں کا آپس میں کوئی تعلق نظر نہیں آتا لیکن یہ کارروائیاں ایک مشترک سوچ کا ضرور پتہ دیتی ہیں۔ نائیجیریا میں دہشت گردانہ کارروائیاں بوکو حرام نامی تنظیم کے کھاتے میں ڈالی جاتی ہیں جس کو بین الاقوامی شہرت اسکولوں کی طالبات کو اغوا کرنے پر ملی جن کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ انھیں کنیزیں بنانا چاہتے ہیں۔

نائیجیریا میں تیل کے وافر ذخائر موجود ہیں لیکن عوام کی غربت اور محرومی بھی انتہا درجہ کی ہے اور یہی چیز ملک میں بدامنی اور دہشت گردی پیدا کرنے کا موجب ہے۔ گویا مسئلے کا حل وسائل کی منصفانہ تقسیم میں مضمر ہے تاہم سرد جنگ کے دور میں افغانستان میں کیپٹل ازم اور کمیونزم کی جو جنگ لڑی گئی اس کے نتیجے میں سوویت یونین تحلیل ہوا لیکن یہاں سے دہشت گردی نے جنم لیا جسے نائن الیون کے واقعے نے عروج پر پہنچا دیا۔ اب یہ پوری دنیا میں پھیل رہی ہے۔

افریقہ میں نائجیریا، مالی، صومالیہ، سوڈان، کینیا اور لیبیا دہشت گردی کا شکار ہیں، مشرق وسطیٰ میں یمن، عراق اور شام تباہ ہو رہے ہیں جب کہ جنوبی ایشیا میں افغانستان اور پاکستان دہشت گردی کے نرغے میں ہیں۔ دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے جہاں دہشت گردی کے شکار ملکوں کی حکومت کو جرأت مندی دکھانا ہو گی وہاں امریکا اور دیگر طاقتور اقوام کو بھی اپنی امتیازی پالیسیاں ختم کرنا ہوں گی۔ طاقتور اقوام کی استحصال پر مبنی پالیسیوں کے باعث غریب ملکوں میں غربت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ غربت کو دہشت گرد تنظیمیں اپنے حق میں استعمال کر رہی ہیں۔طاقتور اقوام افریقہ اور ایشیا کی کمزور اقوام کے وسائل انھیں لوٹا دیں تو دہشت گردی کا خاتمہ کرنا آسان ہو جائے گا۔