تصادم سے بچا جائے

تحریک انصاف کی قیادت کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں گے تو اس میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔


Editorial December 01, 2014
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت رابطہ کرے ہم مذاکرات کے لیے تیار بیٹھے ہیں، فوٹو: آن لائن/فائل

ملک میں کئی ماہ سے جاری سیاسی بحران کے حل ہونے کی ابھی تک کوئی امید نظر نہیں آ رہی۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اتوار کو اسلام آباد میں احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اپنے سی پلان کے تحت مختلف شہروں اور پھر بالآخر پورے پاکستان کو بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہماری جنگ اب شروع ہوئی ہے جو اب نہیں رکے گی، حکومت نے ہمارے مطالبات ماننے کے لیے پھر بھی کوئی اقدام نہ کیا تو ہم پلان ڈی پیش کریں گے' اس کے تحت جو کچھ کریں گے وہ حکومت برداشت نہیں کر سکے گی۔

اس تناظر میں ملک کی سیاسی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ آنے والے چند دنوں میں سیاسی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور یہ بھی خدشہ ہے کہ یہ بحران بڑھتے بڑھتے کہیں تصادم کی راہ اختیار نہ کر لے۔ اگر خدا نخواستہ تصادم ہوتا ہے تو اس سے ملک میں انتشار اور افراتفری میں مزید اضافہ ہو گا تاہم اس بحرانی صورت حال میں امید کی کرن بھی نظر آتی ہے۔ حکومت کے رویے میں بھی سختی کے ساتھ ساتھ نرمی کے اشارے سامنے آ رہے ہیں' ادھر عمران خان بھی جہاں لب و لہجہ اپنائے ہوئے وہاں وہ مذاکرات کی بات بھی کر رہے ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت رابطہ کرے ہم مذاکرات کے لیے تیار بیٹھے ہیں' ہم چاہتے ہیں حکومت مذاکرات کی طرف واپس آئے۔ دوسری جانب اطلاعات کے مطابق اتوار کو جاتی عمرہ رائیونڈ میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے وزیراعلیٰ شہباز شریف سے ملاقات کے دوران تحریک انصاف سے دوبارہ مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا۔

فریقین کی جانب سے مذاکرات شروع کرنے کی بات خوش آیند ہے، اگر مذاکرات سے بات کسی نتیجے پر پہنچ جاتی اور سیاسی بحران ختم ہو جاتا ہے تو اس سے زیادہ خوش کن بات کیا ہو گی۔جب اسلام آباد میں دھرنے عروج پر تھے' اس وقت بھی حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان کئی بار مذاکرات ہوئے مگر یہ نتیجہ خیز نہ ہو سکے ۔حکومت اور تحریک انصاف کی قیادت کو حالات کی نزاکت پر احساس کرنا چاہیے ۔اگر عمران خان صاحب کہتے ہیں کہ حکومت رابطہ کرے ہم مذاکرات کے لیے تیار بیٹھے ہیں 'تو حکومت کو اس کا مثبت جواب دینا چاہیے۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے اگر اتفاق کیا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں گے تو اس میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ یہ ایک اچھا موقع ہے 'اسے ضایع نہیں کیا جانا چاہیے۔ ملک میں سیاسی بحران خاصا طویل ہو گیا ہے 'اس بحران کی وجہ سے حکومت کے لیے خاصی مشکلات پیدا ہوئی ہیں ۔اس کا یقیناً حکومت کو بھی علم ہے۔ اس وقت حکومت کئی اچھے فیصلے کر رہی ہے 'لیکن حکومت مخالف قوتیں ان اقدامات کو تحریک انصاف کے دباؤ کا نتیجہ قرار دیتی ہیں۔ حکومت نے اگر اپنے اچھے کاموں کا کریڈٹ لینا ہے تو اسے تحریک انصاف کی قیادت کے ساتھ سنجیدہ نوعیت کے مذاکرات کر کے موجودہ سیاسی بحران کا خاتمہ کرنا چاہیے۔

حالیہ سیاسی بحران ملک کی ساری سیاسی قیادت کے لیے ایک کڑی آزمائش ہے۔ملک میں اس وقت ایسی چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں کہ پاکستان کی سیاسی قیادت سیاسی بحران سے نکلنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں جمہوریت ڈی ریل ہوتی رہی ہے۔ اب بھی موجودہ بحران کو شروع ہوئے چار پانچ ماہ ہونے والے ہیں ۔ملک کا منظر نامہ کچھ یوں ہے کہ ایک جانب تحریک انصاف احتجاج کر رہی ہے تو دوسری جانب ڈاکٹر طاہر القادری ملک میں جلسے کر رہے ہیں۔ ادھر جماعت اسلامی نے بھی کئی جلسے کیے اور مسلم لیگ ق نے بھی جلسے کیے۔ یوں ملک میں ہر طرف جلسے ہی جلسے نظر آتے رہے ہیں۔ اس قسم کی سرگرمیوں سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ جیسے کچھ عرصہ بعد الیکشن ہونے والے ہیں۔

یہ تاثر اسی وقت ختم ہو سکتا ہے جب سیاسی بحران خوش اسلوبی سے ختم ہو جائیں۔ مسلم لیگ ن اور اس کی اتحادی جماعتوں اور تحریک انصاف اور دیگر حکومت مخالف سیاسی جماعتوں کو یہ حقیقت سامنے رکھنی چاہیے کہ اگر ملک میں گھیراؤ جلاؤ کی کیفیت پیدا ہوئی تو اس کا فائدہ کسی سیاسی جماعت کو نہیں ہو گا بلکہ جمہوریت کو نقصان پہنچے گا۔ اگر تحریک انصاف مذاکرات چاہتی ہے تو اسے بھی ایک سنجیدہ پیغام دینا ہو گا۔ سیاست میں ضد اور ہٹ دھرمی نہیں چلتی اس کے لیے ایثار اور قربانی کا جذبہ انتہائی ضروری ہوتا ہے۔

مسلم لیگ ن کی قیادت اور تحریک انصاف سنجیدہ کوششیں کریں تو یہ بحران ایسا نہیں ہے کہ اسے حل نہ کیا جا سکے۔ ادھر پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ بھی مذاکراتی عمل کو کامیاب بنانے کی کوشش کریں۔ اب تک جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق نے سنجیدہ کوششیں کی ہیں 'اگر پیپلز پارٹی 'جے یو آئی اور ایم کیو ایم کی قیادت بھی اس معاملے میں آگے بڑھے تو یہ بحران خوش اسلوبی سے حل ہو سکتا ہے۔