سندھ کا ناکام ولیج الیکٹریفکیشن پروگرام

سندھ میں ولیج الیکٹریفکیشن پروگرام کے تحت کروڑوں روپے خرچ ہونے کے باوجود 13 ہزار سے زائد گاؤں ابھی تک بجلی کی۔۔۔


Editorial December 07, 2014
سندھ میں ولیج الیکٹریفکیشن پروگرام کے تحت کروڑوں روپے خرچ ہونے کے باوجود 13 ہزار سے زائد گاؤں ابھی تک بجلی کی سہولت سے محروم ہیں۔ فوٹو: فائل

اخباری اطلاعات کے مطابق صوبائی محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات نے حال ہی میں ولیج الیکٹریفکیشن پروگرام کا فیز 6 شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے، اس منصوبے پر 912 ملین روپے خرچ ہوں گے۔

واضح رہے کہ سندھ میں ولیج الیکٹریفکیشن پروگرام کے تحت کروڑوں روپے خرچ ہونے کے باوجود 13 ہزار سے زائد گاؤں ابھی تک بجلی کی سہولت سے محروم ہیں۔ ولیج الیکٹریفکیشن پروگرام گزشتہ کئی سال سے چلایا جا رہا ہے جس کے تحت گزشتہ چار فیزز پر کروڑوں روپے بھی خرچ کیے جا چکے ہیں لیکن افسر شاہی کی نااہلی اور کرپشن کے باعث ان میں سے ابھی تک ایک بھی فیز مکمل نہیں ہو سکا ہے۔

اس کے باوجود مذکورہ پروگرام کا نیا فیز شروع کرنے کی منظوری دی گئی ہے، جو کسی طور قابل مستحسن عمل قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ کرپشن کی دیمک ان 912 ملین روپے کو بھی اس طرح چاٹ جائے گئی کہ جیسے گزشتہ فیزز کے ساتھ ہوا۔ ذرایع کے مطابق فیز 5 کے تحت 19 گوٹھوں کو بجلی فراہم کرنے پر 95 ملین روپے خرچ ہوں گے۔

قابل افسوس امر یہ ہے کہ سندھ کے دیہات کو بجلی فراہم کرنے کے اس بڑے منصوبے پر خرچ کی جانے والی خطیر رقم کا کوئی حساب کتاب نہیں، حکومتی سطح پر اب تک باز پرس نہیں کی گئی کہ کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود ہزاروں گاؤں بجلی کی سہولت سے اب تک محروم کیوں ہیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اسٹریٹ لائٹس کی مد میں بھی ایک بار پھر بھاری فنڈز کا اجرا کر دیا گیا ہے اور ہر بار اسٹریٹ لائٹس کاغذات میں دکھا کر کروڑوں روپے کی مبینہ کرپشن کی جا چکی ہے۔ یاد رہے کہ اندرون سندھ کے جن علاقوں میں بجلی کے کنکشنز موجود ہیں وہاں بھی بجلی فراہم نہیں کی جا سکی ہے۔

کرپشن کا زہر قوم کے رگ و پے میں سرائیت کر چکا ہے، اب مکمل خون تبدیل کیے بغیر چارہ نہیں۔ حکومتی سطح پر اس ناکام پروجیکٹ کے لیے احتسابی کمیٹی تشکیل دی جانی چاہیے تا کہ ایک بڑے منصوبے کو ناکامی سے دوچار کرنے والے مگرمچھوں کو پکڑا جا سکے۔