تنازعہ کشمیر اور امریکا کی ذمے داری

تنازعہ کشمیر تو ایک طرف رہا بظاہر چھوٹے تنازعات جن میں سیاچن، سرکریک اور پانی کے معاملات ہیں، وہ بھی جوں کے توں ہیں


Editorial December 08, 2014
بھارت مقبوضہ کشمیر میں انتخابات کرا کے دنیا کو یہ تاثر دیتا ہے کہ کشمیری عوام ووٹ کے ذریعے بھارت کے حق میں فیصلہ دے رہے ہیں حالانکہ یہ سراسر غلط ہے۔ فوٹو: فائل

امریکا نے مقبوضہ کشمیر میں ہر قسم کی پرتشدد کارروائیوں پر تشویش کا اظہارکیا ہے تاہم اس کا تعلق پاکستان سے جوڑنے کی باتوں کو مسترد کردیا ہے، امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان میری ہارف نے گزشتہ روز پریس بریفنگ میں مقبوضہ کشمیر میں حملہ آوروں کے پاکستان سے ممکنہ تعلق سے متعلق پوچھے گئے سوال کو مستردکردیا۔

ایک سوال پر کہا کہ کشمیر کے معاملے پر امریکی پالیسی تبدیل نہیں ہوئی، مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کا تعین پاکستان اور بھارت خود کرسکتے ہیں، امریکا دونوں ممالک کو تشدد روکنے کے لیے مل کر کام کرنے پر زور دیتا رہا ہے، ترجمان نے کہا آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی ملاقات میں سیکیورٹی سے متعلق بامقصد بات چیت ہوئی۔ امریکا کا یہ بیان پاکستان کے لیے حوصلہ افزا ہے۔

تین روز قبل مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع بارہ مولہ میں اوڑی کے علاقے موہرا میں کشمیری حریت پسندوں نے بھارتی فوج کی 31 فیلڈ رجمنٹ کے کیمپ پر حملہ کیا۔ جس میں ایک لیفٹیننٹ کرنل اور آٹھ فوجی مارے گئے تھے۔ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک اجتماع سے خطاب میں الزام لگایا کہ ان حملوں میں لشکر طیبہ، جیش محمد اور حزب المجاہدین ملوث ہیں۔ بھارتی حکومت ہو یا وہاں کے سیاستدان یا خفیہ ایجنسیاں وہ بھارت میں ہونے والے ہر واقعہ کی ذمے داری پاکستان پر عائد کرتی ہیں۔ بھارتی لابی امریکا میں بھی پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرتی ہے۔

یہ امر خوش آیند ہے کہ پاک فوج کے سربراہ راحیل شریف کے حالیہ دورہ امریکا کے بعد صورت حال میں خاصی تبدیلی آئی ہے جس کا ثبوت اگلے روز امریکی دفتر خارجہ کی پریس بریفنگ ہے جس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی کیمپ پر ہونے والے حملے کے حوالے سے کیے گئے سوال کو مسترد کر دیا گیا۔ بلاشبہ مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بھارتی اقدامات کا ردعمل ہے۔ بھارتی حکومت کو اور بھارتی دانشوروں کو اس حقیقت کا بخوبی علم ہے کہ کشمیری عوام بھارت سے آزادی چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے کشمیری نوجوانوں کا ایک گروپ مسلح جدوجہد کر رہا ہے۔

بھارت مقبوضہ کشمیر میں انتخابات کرا کے دنیا کو یہ تاثر دیتا ہے کہ کشمیری عوام ووٹ کے ذریعے بھارت کے حق میں فیصلہ دے رہے ہیں حالانکہ یہ سراسر غلط ہے۔ جب سے نریندر مودی بھارت کے وزیراعظم بنے ہیں' اس کے بعد سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو بھی ختم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ کشمیریوں میں اس حوالے سے بھی خاصا اضطراب پایا جاتا ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے اسے صوبے کا درجہ دینا چاہتا ہے۔ اس کا مقصد مقبوضہ کشمیر پر اپنا مستقبل تسلط قائم کرنا ہے اور اس کا دوسرا مطلب اقوام متحدہ کی قرار دادوں کا خاتمہ اور شملہ معاہدے کا بھی خاتمہ۔

امریکا نے یہ ضرور کہا ہے کہ کشمیر کے حوالے سے امریکا کی پالیسی تبدیل نہیں ہوئی۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ امریکا اس پالیسی پر کاربند ہے کہ پاکستان اور بھارت مذاکرات کے ذریعے کشمیر کے تنازعے کو حل کریں۔ دوسری جانب زمینی حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ منقطع کر رکھا ہے۔ اس حقیقت کا یقیناً امریکی انتظامیہ کو بھی علم ہو گا۔ امریکی انتظامیہ کو اس حوالے سے اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ ویسے بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں لیکن ان میں باہمی تنازعات کے حل کے لیے کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔

تنازعہ کشمیر تو ایک طرف رہا بظاہر چھوٹے تنازعات جن میں سیاچن' سرکریک اور پانی کے معاملات ہیں' وہ بھی جوں کے توں ہیں۔ بھارت کسی ایک مسئلے پر بھی لچک دکھانے کے لیے تیار نہیں۔ ایسی صورت میں تنازعہ کشمیر کیسے حل ہوگا۔ امریکا اس وقت دنیا کی سپر طاقت ہے۔ امریکی انتظامیہ کو اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہیے۔ امریکا اگر دبائو ڈالے تو تنازعہ کشمیر حل ہوسکتا ہے۔

بہت سے عالمی تنازعات طاقتور اقوام کی مداخلت سے حل ہوئے ہیں۔ ان میں مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کی آزادی شامل ہیں۔اگر امریکا اور مغربی ممالک ان ملکوں کی آزادی میں دلچسپی نہ لیتے تو یہ ملک آج بھی آزاد نہ ہوتے۔ لہٰذا اگر امریکا اور دیگر طاقتور اقوام انصاف کے اصولوں کو سامنے رکھ کر بھارت اور پاکستان کو مذاکرات کی میز پر بٹھائیںاور ثالثی کا فریضہ ادا کریں تو جنوبی ایشیاء میں تنازعات کے حل کی کوئی صورت سامنے آ سکتی ہے۔