سیاسی بے یقینی اور اسٹیٹ بینک کی معاشی جائزہ رپورٹ

معاشی جائزہ رپورٹ کے مطابق ملکی برآمدات گزشتہ تین سال سے جمود کا شکار ہیں اور اس سال بھی ہدف پورا نہیں ہوگا۔


Editorial December 11, 2014
مالی سال 2014 کے دوران پاکستانی تارکین وطن کی ترسیلات پچھلے سال سے 9.1 ارب ڈالر بڑھ گئیں جو 8.13 فیصد اضافہ ہے۔ فوٹو: فائل

ملک میں جاری سیاسی بحران نے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں اور سرمایہ کاری کے عمل میں نہ صرف ملکی سرمایہ کار پریشانی کا شکار رہا بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ میں بھی رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔ بدھ کو اسٹیٹ بینک نے اپنی معاشی جائزہ رپورٹ برائے سال 2013-14 میں اس صورت حال کی واضح نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جاری سیاسی غیر یقینی کیفیت کی وجہ سے نہ صرف سرمایہ کاری منصوبے موخر ہو رہے ہیں بلکہ مہنگائی میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔

توانائی انفرااسٹرکچر کی ناکافی منصوبہ بندی' ڈسکوز اور جینکوز میں اصلاحات کا فقدان معیشت کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے' توانائی بحران کم کرنے کے لیے گردشی قرضوں کی ادائیگی ضروری ہے' بیرونی خسارہ کم کرنے کے لیے مہنگے بیرونی قرضے نہ لیے جائیں' مالی سال 2013-14 میں سرکاری قرضہ جو خزانے پر بوجھ ہے سرکاری محاصل سے ساڑھے چار گنا زائد ہے اور مجموعی سرکاری اخراجات میں سے 20 فیصد رقم سود کی ادائیگیوں پر خرچ کی جا رہی ہے' دوران سال پاکستان کے سرکاری قرضے میں 17 کھرب روپے کا اضافہ ہو گا جو مالی سال 2013-14 کے اختتام پر بڑھ کر 163 کھرب روپے تک جا پہنچا۔

اپنے حقوق کے حصول کے لیے احتجاج کسی بھی سیاسی جماعت کا آئینی اور جمہوری حق ہے مگر اس امر کا خیال رکھنا ناگزیر ہے کہ یہ احتجاج آئین اور قانون کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے کیا جانا چاہیے، اگر احتجاج تشدد کا رخ اختیار کر لے اور نوبت ہڑتالوں، مظاہروں، لاٹھی گولی اور لاشیں گرنے تک جا پہنچے تو اس کے منفی اثرات نہ صرف امن و امان کی صورت حال پر مرتب ہوتے ہیں بلکہ ملکی معیشت کو بھی شدید دھچکا لگتا ہے،کچھ اسی طرح کی صورتحال اس وقت جاری ہے۔

مئی 2013ء میں موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد اس خوش امیدی نے جنم لیا تھا کہ اب ملکی معیشت کو استحکام نصیب ہو گا' اس خوش امیدی کے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے اور ملک میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے رجحان میں اضافہ دکھائی دینے لگا مگر گزشتہ چند ماہ سے جاری دھرنوں اور جلسے جلوسوں کے باعث ملک میں نہ صرف سرمایہ کاری کا عمل رک گیا بلکہ مہنگائی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا جس نے عام آدمی کے روزمرہ کے مسائل کو پہلے سے کئی گنا بڑھا دیا اور ملکی ترقی کے لیے بندھی خوش امیدیاں دم توڑتی معلوم ہونے لگیں۔ ملک میں سرمایہ کاری کا عمل رکنے سے قومی خزانے کو کھربوں روپے کا نقصان پہنچا۔

معاشی جائزہ رپورٹ کے مطابق ملکی برآمدات گزشتہ تین سال سے جمود کا شکار ہیں اور اس سال بھی ہدف پورا نہیں ہوگا۔ 2010ء سے ملکی برآمدات کا جمود کا شکار ہونا تشویش کا باعث تو ہے ہی مگر اس کا رواں سال بھی بہتری کی جانب نہ بڑھنا زیادہ پریشان کن امر ہے۔ پاکستانی تارکین وطن کی رقوم ملکی معیشت کے لیے ایک بڑی سہارا ثابت ہوئی ہیں۔ مالی سال 2014 کے دوران پاکستانی تارکین وطن کی ترسیلات پچھلے سال سے 9.1 ارب ڈالر بڑھ گئیں جو 8.13 فیصد اضافہ ہے۔ اگر بیرون ملک مقیم پاکستانی اتنی بڑی رقم نہ بھیجیں تو ملکی معیشت اور خزانے پر جو بوجھ پڑے اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

صنعتی اور کاروباری ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ توانائی بحران کا تسلسل ہے جو فوری طور پر حل ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا۔ اگرچہ حکومت نے اس بحران پر قابو پانے کے لیے بہت سے منصوبے شروع کر رکھے ہیں مگر انھیں پایہ تکمیل تک پہنچنے میں ایک عرصہ درکار ہے۔ توانائی بحران اور دہشت گردی ایک طویل مدت سے ملکی معیشت کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے اب سیاسی بحران نے اس پر کاری ضرب لگائی ہے۔

اب خوش آیند بات یہ ہے کہ حکومت نے موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے تحریک انصاف سے غیر مشروط مذاکرات کا اعلان کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بدھ کو ایوان وزیراعلیٰ لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے تحریک انصاف سے غیر مشروط مذاکرات کے لیے رضا مندی ظاہر کر دی ہے' حکومت آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مذاکرات کرے گی اور یہ توقع ہے کہ پی ٹی آئی کوئی غیر آئینی مطالبہ نہیں کرے گی۔ پی ٹی آئی نے اپنے مطالبات منظور کرانے اور حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے دھرنوں کے بعد مختلف شہروں کو بند کرنے کا اعلان کیا' جس کا آغاز اس نے فیصل آباد سے کر دیا ہے۔

فیصل آباد میں ہونے والے ناخوشگوار واقعات کے بعد اگر پی ٹی آئی اپنے اعلان کے مطابق دیگر شہروں کو بھی بند کرتی ہے اور خدانخواستہ دوبارہ کوئی نا خوشگوار واقعہ رونما ہوتا ہے تو اس بات کا خدشہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ حالات مزید بگڑ جائیں گے جو حکومت اور ملکی امن و امان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

اس لیے حکومت آیندہ کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے کوشاں ہے اور اس نے پی ٹی آئی کو غیر مشروط مذاکرات کی دعوت دے کر اس جانب مثبت قدم اٹھایا ہے۔ لیکن معاملات اسی صورت بہتر ہو سکتے ہیں جب دونوں جماعتیں رسمی کے بجائے بامقصد مذاکرات کریں اور لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی نتیجہ پر پہنچیں، اگر مذاکرات نشستند' گفتند اور برخاستند تک محدود رہتے ہیں تو پھر معاملات میں بہتری خارج از امکان ہے۔ مذاکرات میں ذاتی کے بجائے ملکی مفادات کو مقدم رکھا جائے یہی ان کی کامیابی کا پہلا زینہ ہے۔