پاکستان کا بانکی مون کی کشمیر پر ثالثی پیشکش کا خیر مقدم

بانکی مون کا یہ بیان بھارت کی ان سازشوں کا دوٹوک جواب ہے جس کے مطابق بھارت نے مذاکرات میں کشمیریوں کو فریق بنانے۔۔۔


Editorial December 13, 2014
بانکی مون کا یہ بیان بھارت کی ان سازشوں کا دوٹوک جواب ہے جس کے مطابق بھارت نے مذاکرات میں کشمیریوں کو فریق بنانے سے انکار کر دیا تھا۔ فوٹو: فائل

پاکستان اور بھارت کے درمیان 68 سال گزرنے کے باوجود مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو سکا۔ اس کے حل کے لیے دونوں ممالک کے درمیان جنگیں بھی ہوئیں اور مذاکرات کے اعلیٰ سطح کے دور بھی چلے مگر یہ مسئلہ جوں کا توں چلا آ رہا ہے اور آج بھی دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی فائرنگ اور تنازع کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے۔

پاکستان مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کے لیے مسلسل آواز اٹھاتا چلا آ رہا ہے مگر اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی جانب سے عملی کردار ابھی تک سامنے نہیں آیا۔ گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا تھا کہ اگر پاکستان اور بھارت نے درخواست کی تو وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان ثالثی کے لیے تیار ہیں،دونوں ممالک کو کشمیر سمیت تمام ایشوز مذاکرات سے حل کرنے چاہئیں۔ انھوں نے واضح کر دیا کہ مذاکراتی عمل میں کشمیریوں کو بھی شامل کر کے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کوششیں کی جائیں۔

بانکی مون کا یہ بیان بھارت کی ان سازشوں کا دوٹوک جواب ہے جس کے مطابق بھارت نے مذاکرات میں کشمیریوں کو فریق بنانے سے انکار کر دیا تھا۔ جمعرات کو دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانکی مون کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی جڑ ہے' اس کا منصفانہ حل علاقے میں امن' استحکام اور ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

گزشتہ دنوں بھارت نے پاکستان کے ساتھ خارجہ سیکریٹری کی سطح پر ہونے والے مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا تھا اس کا موقف تھا کہ مذاکرات میں کشمیریوں کو تیسرے فریق کے طور پر شریک نہ کیا جائے لیکن پاکستان نے بھارت پر واضح کر دیا کہ کشمیری اس مسئلے کے اہم فریق ہیں اور ان کے بغیر کشمیر پر کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی۔ اب پاکستان نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے اس بیان کا بھی خیر مقدم کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنائے گئے عمل میں کشمیری عوام بھی شامل ہونے چاہئیں۔

جب سے نریندر مودی برسراقتدار آئے ہیں کشمیر کے حوالے سے بھارتی حکومت نے اپنی روایتی پالیسی سے ہٹ کر جارحانہ رویے کا مظاہرہ شروع کردیا ہے اور یہ باتیں بھی منظر عام پر آئیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کی سازش کر رہی ہے جس کی وجہ سے کشمیریوں میں خاصا اضطراب پایا جاتا ہے اور وہ اس حوالے سے احتجاج بھی کر رہے ہیں۔ بھارت مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے اسے مستقل طور پر اپنا حصہ قرار دینا چاہتا ہے جس کا واضح مطلب ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور شملہ معاہدے کو بھی خاطر میں لانے کے لیے تیار نہیں۔

امریکا اور اقوام متحدہ کو بھارت کی ان سازشوں کا بخوبی علم ہے مگر ان کا رویہ بیانات تک محدود ہے وہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے عملی طور پر کوئی کردار ادا نہیں کر رہے۔ پاکستان بھارت کے ساتھ تمام تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار ہے مگر موجودہ بھارتی حکومت مذاکرات کے بجائے کوئی اور ہی کھیل کھیلنے پر آمادہ دکھائی دیتی ہے۔ چھوٹے تنازعات جن میں سیاچن' سرکریک اور پانی کے معاملات ہیں وہ بھی دونوں ممالک کے درمیان جوں کے توں چلے آ رہے ہیں۔

مودی حکومت کسی بھی مسئلے پر لچک دکھانے کے لیے آمادہ نہیں، ایسی صورت میں تشویشناک امر تو یہ ہے کہ چھوٹے تنازعات تو رہے ایک طرف مسئلہ کشمیر جیسا بڑا تنازع کیسے حل ہو گا۔ دنیا میں بہت سے تنازعات امریکا اور اقوام متحدہ کی مداخلت سے حل ہوئے ان میں مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کا مسئلہ سب کے سامنے ہے مگر مسئلہ کشمیر کی جب بات آتی ہے تو اقوام متحدہ اور دیگر طاقتور اقوام کا رویہ بیانات سے آگے بڑھتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ بھارت نے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبانے کے لیے مظالم کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے مگر کشمیریوں کا جذبہ ماند پڑنے کے بجائے روز بروز تیز سے تیز تر ہوتا چلا جا رہا ہے اور وہ اپنی آزادی کے لیے آج بھی ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے پرعزم ہیں۔

دوسری جانب بھارت گاہے بگاہے کنٹرول لائن پر گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ شروع کرکے پاکستان کو دباؤ میں لانے کے لیے مذموم کوشش کرتا چلا آ رہا ہے۔ اپنے تئیں اس کا خیال ہے کہ وہ طاقت اور سازش کے ذریعے کشمیر کا مسئلہ حل کر لے گا لیکن پاکستان اس پر واضح کر چکا ہے کہ وہ کشمیریوں کی حمایت کرتا رہے گا اور اس مسئلے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے گزشتہ ماہ مظفر آباد میں آزاد کشمیر کونسل سے خطاب کرتے ہوئے بھارت پر واضح کر دیا تھا کہ مذاکرات میں پیش رفت سے قبل کشمیری رہنماؤں سے بات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان حالات بہتر بنانے کے لیے مسئلہ کشمیر پر نتیجہ خیز بات ہونی چاہیے۔ امریکا اور دیگر طاقتور اقوام بھارت اور پاکستان کو مذاکرات کی میز پر لے کر آئیں اور ثالثی کا فریضہ ادا کریں تو ایسی صورت میں ممکن ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تنازعات کے حل کی کوئی بہتر صورت سامنے آ جائے۔