بھارت میں روسی ایٹمی ری ایکٹروں کی تعمیر

بھارت اور روس کے درمیان ایٹمی ری ایکٹر لگانے سمیت اربوں ڈالر کے بیس دفاعی اور تجارتی معاہدوں پر دستخط ہو گئے ہیں


Editorial December 13, 2014
بھارت اور روس کے درمیان ایٹمی ری ایکٹر لگانے سمیت اربوں کھربوں ڈالر کے بیس دفاعی اور تجارتی معاہدوں پر دستخط ہو گئے ہیں۔ فوٹو: رائٹرز/ فائل

بھارت اور روس کے درمیان ایٹمی ری ایکٹر لگانے سمیت اربوں کھربوں ڈالر کے بیس دفاعی اور تجارتی معاہدوں پر دستخط ہو گئے ہیں۔ معاہدوں پر دستخط کی تقریب دارالحکومت نئی دہلی کے حیدرآباد ہاؤس میں منعقد ہوئی جس میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی شریک تھے۔

روسی صدر ولادی میر پوٹن بھارت کے ایک روزہ دورہ پر گزشتہ روز نئی دہلی پہنچے تھے۔ اس موقع پر مشترکہ پریس کانفرنس میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ روس بھارت میں بارہ ایٹمی ری ایکٹر لگائے گا جب کہ انتہائی محفوظ اور مضبوط معیار کے مطابق تعمیر کیے جانے والے ان ری ایکٹرز کے لیے پرزے بھی بھارت میں تیار کیے جانے پر اتفاق ہوا ہے۔ مودی کا کہنا تھا کہ روس بدستور بھارت کا سب سے اہم دفاعی پارٹنر رہے گا۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر بارک اوباما کے دورہ بھارت سے تقریباً ایک ماہ پہلے روسی صدر پوٹن کے بھارت کے دورے کو بین الاقوامی سطح پر خصوصی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ صدر اوباما بھارت کے یوم جمہوریہ کی تقریب میں شرکت کے لیے آئیں گے جو جنوری کے آخری ہفتے میں ہو گی۔ روسی صدر کے ساتھ کریمیا کے وزیر اعظم بھی دہلی آئے جو بھارت کی چوٹی کی تجارتی کمپنیوں کے ساتھ اربوں ڈالر کے کاروباری معاہدے کریں گے۔

نیز اگلے سال بھارتی ریاست گجرات میں روس بڑا انڈسٹریل پلانٹ لگائے گا اور بھارت کے ساتھ فری ٹریڈ معاہدے پر بھی پیش رفت کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ روس کی مدد سے بھارت میں جیٹ فائٹرز اور ٹرانسپورٹ طیارے بھی بنائے جائیں گے۔

روسی صدر پوٹن نے بھارتی صدر پرناب مکھرجی سے بھی ملاقات کی اور ورلڈ ڈائمنڈ کانفرنس میں بھی شریک ہوئے جہاں روس کی طرف سے بھارت کو ہیروں کی برآمد میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بتایا کہ ایٹمی ری ایکٹرز کے پرزے بھارت کے اندر تیار کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ یاد رہے سابق بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ کے دور حکومت میں امریکا نے بھارت کو سول نیوکلیر ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا معاہدہ کیا تھا جس کے لیے پاکستان نے بھی امریکا سے مطالبہ کیا مگر اسے پذیرائی نہ مل سکی۔

اب بھارت کی روس کی طرف سے جوہری میدان میں فراخدلانہ مدد کے بعد اس کی حربی طاقت میں مزید اضافہ ہو جائے گا اور پاکستان کے ساتھ اس کے رویے میں مزید رعونت پیدا ہو نے کا اندیشہ بڑھ جائے گا۔