اوور بلنگ میں عوام سے اربوں روپے اضافی وصول

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے کے الیکٹرک کی درخواست پر بجلی کی قیمتوں میں 74 پیسے فی یونٹ کمی کردی ہے


Editorial December 13, 2014
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے کے الیکٹرک کی درخواست پر بجلی کی قیمتوں میں 74 پیسے فی یونٹ کمی کردی ہے۔ فوٹو: ایکسپریس/ فائل

بجلی کے بلوں میں اضافی اور غلط بلنگ کی مد میں عوام کی جیبوں پر کروڑوں کا ڈاکا پڑنے کے بعد بالآخر حکام بالا کو ہوش آہی گیا اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پانی و بجلی نے یہ سوال اٹھایا کہ بجلی کی اوور بلنگ سے عوام سے اربوں روپے اضافی وصول کیے گئے، جس کا ذمے دار کون ہے؟ چیئرمین کمیٹی نے اس معاملے پر مکمل رپورٹ بھی طلب کی ہے۔ لیکن کمیٹی کی یہ بات مضحکہ خیز لگتی ہے کہ اوور بلنگ کی مد میں عوام سے اربوں روپوں وصولی میں نیپرا یا وزارت کا کوئی قصور نہیں بلکہ یہ ایک شخص کا کام ہے ۔

بلاشبہ چیئرمین نے ہدایت کی ہے کہ اس بات کی رپورٹ کمیٹی کو پیش کی جائے کہ اوور بلنگ کس کے کہنے پر کی گئی ہے اور نیپرا میں کون اس کا ذمے دار ہے۔ لیکن کیا اس سے معاملے کی سنگینی کم ہوجاتی ہے؟ چیئرمین کمیٹی کے اس کمنٹس سے تو واضح ہوتا ہے کہ کوئی بھی فرد واحد اپنے ذاتی مفاد کے لیے عوام سے جڑے ایک مکمل ادارے کواپنے اشارے پر چلا سکتا ہے۔ اجلاس میں کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ اس وقت پن بجلی کی پیداوار نہ ہونے کے برابر ہے، صارفین کے لیے دسمبر کا مہینہ مشکلات میں گزرے گا، عالمی منڈی میں فرنس آئل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے صارفین کو 27 پیسے فی یونٹ کا ریلیف دیا جائے گا۔

دوسری جانب اخباری اطلاعات کے مطابق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے کے الیکٹرک کی درخواست پر بجلی کی قیمتوں میں 74 پیسے فی یونٹ کمی کردی ہے جس کا اطلاق نومبر کے بلوں میں ہوگا۔ علاوہ ازیں وزیراعظم پاکستان کے ترجمان نے کہا ہے کہ حکومت آیندہ ایک دو روز میں بجلی کی قیمتوں میں کمی کا بھی اعلان کرے گی۔ بلاشبہ یہ خبریں بجلی صارفین کے زخموں پر مرہم کا سبب بنیں گی لیکن اوور بلنگ کی مد میں جو کروڑوں روپے عوام کی جیب سے ''نامعلوم اکاؤنٹ'' میں پہنچ چکے ہیں اس کی واپسی کیسے ممکن ہوگی؟ ارباب اختیار کو اس سلسلے میں صائب قدم اٹھانا چاہیے۔