قصہ ایک ’’سیکرٹ مشن‘‘ کا
ایک ’’سیکرٹ مشن‘‘ کیلیے ملک بھر سے کئی افراد کراچی میں جمع ہوئے
ایک ''سیکرٹ مشن'' کیلیے ملک بھر سے کئی افراد کراچی میں جمع ہوئے، شہر کے وسط میں واقع ایک عمارت ان کی منزل تھی، وہاں کئی روز میٹنگ کے بعد انھیں ایک فہرست مرتب کرنا ہے، اسی کام کیلیے انھیں ہر ماہ کئی لاکھ روپے ملتے ہیں،فائیو اسٹار ہوٹل میں قیام، پیٹرول، موبائل،غیرملکی دورے،کار اور یومیہ الاؤنس الگ ہے، انھیں سر جوڑ کر بیٹھے کئی دن گذر گئے مگر اب تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے'' ۔
قارئین پریشان نہ ہوں یہ کوئی جاسوسی ناول نہیں بلکہ سلیکشن کمیٹی کی میٹنگ کا ذرا ہٹ کر احوال ہے، ورلڈکپ کیلیے ٹیم کا انتخاب کسی خفیہ مشن سے کم نہیں لگ رہا، ہر روز نیشنل اسٹیڈیم میں سلیکٹرز کا گروپ جمع ہوتا ہے مگر تادم تحریر5کھلاڑیوں کا انتخاب بھی نہیں کیا،آپ حیران نہ ہوں دراصل باقی 10تو ایسے پلیئرزہیں جنھیں ٹیم میں شامل ہونا ہی ہے، میری رائے کے مطابق اسکواڈ پہلے ہی منتخب کر لیا گیا ہوگا اب صرف دکھاوے کیلیے میٹنگز ہو رہی ہیں،اگر ایسا نہ کریں تو خود کو ہر ماہ ملنے والے چیک کا اہل کیسے ثابت کیا جائے گا،ان دنوں پینٹنگولر کپ ہو رہا ہے ذرا دیکھتے ہیں کہ اس کی بنیاد پر کون منتخب ہوتا ہے، میڈیا میں روز نت نئے کھلاڑیوں کے نام آ رہے ہیں، مجھ جیسے صحافی بے خبر ذرائع کو بنیاد بنا کر روزانہ خبریں دیتے ہیں، ہم30نام دے دیں گے ان میں سے 15تو منتخب ہونے ہی ہیں، پھر شور مچائیں گے دیکھا میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ فلاں فلاں منتخب ہوگا، کہیں اس وقت یہ نہ پوچھ لیجیے گا کہ آپ نے تو دیگر15کے نام بھی دیے تھے وہ کہاں گئے۔
دراصل پی سی بی نے ٹیم کے انتخاب کو ایسا بنا دیا جیسے چوٹی کے سائنسدان بیٹھ کر ایٹم بم کے فارمولے پر غور کر رہے ہیں، اگر حتمی اسکواڈ کا انتخاب7جنوری کو کرنا تھا تو کر دیتے، نجانے کیوں اتنا طویل طریقہ کار اپنایاگیا، مجھے نہیں لگتا کہ دنیا کے کسی اور ملک میں سلیکشن کمیٹیز کی اتنی زیادہ اور طویل میٹنگز ہوتی ہوں گی،یہ ٹیکنالوجی کا دور ہے، اگر کراچی میں میٹنگ رکھنا تھی تو رکھتے، معین خان، شعیب محمد اور سلیم یوسف روز اسٹیڈیم آ کر کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے اور پھر محمد اکرم، وجاہت واسطی اور اعجاز احمد سے بذریعہ وڈیو لنک مشاورت کر لی جاتی،قصہ ختم مگر ایسا نہ ہوا، کپتان مصباح الحق اور کوچ وقار یونس بھی اپنے ''قیمتی مشورے'' دینے کیلیے خاص طور پر تشریف لائے، شاید معین خان ان دونوں سے فون پر رائے نہیں لینا چاہتے تھے۔
ان دنوں محمد سمیع اور وکٹ کیپر رضوان کے انتخاب کی بھی باتیں ہو رہی ہیں، ایسے میں یہ سوال ذہن میں آ رہا تھا کہ وہ اتنے ہی اچھے تھے تو30پلیئرز میں کیوں نہ رکھا، اگر حتمی اسکواڈ میں شامل ہوئے تو بورڈ کو اس بارے میں سلیکشن کمیٹی سے ضرور بازپرس کرنی چاہیے۔ اب ورلڈکپ میں ایک ماہ سے کچھ ہی زائد وقت باقی رہ گیا ہے، دیگر ٹیمیں فائنل ہو چکیں اور آہستہ آہستہ اعلان بھی ہو رہا ہے مگر افسوس ہم کنفیوژ ہیں، کامران کو ہونا چاہیے نہیں، رضوان اچھا ہے، فلاں آنا چاہیے، نہیں یار اس کو آزماتے ہیں۔ بھائی یہ ورلڈکپ ہے کوئی بنگلہ دیش سے سیریز نہیں، اس میں تو کافی پہلے اسکواڈ کو حتمی شکل دے کر ان کھلاڑیوں کو تیاریاں کرانی چاہیے تھیں۔
ایک،دو تبدیلیاں کرنا ہوتیں تو آخر میں کر لی جاتیں، جب میرے جیسا عام سا صحافی کئی ماہ قبل جانتا تھا اور اخبار میں خبر بھی شائع کی تھی کہ حفیظ کا بولنگ ایکشن رپورٹ ہو سکتا ہے تو بورڈ یا سلیکٹرز کو کیوں اس کا علم نہیں تھا، اگر وہ جانتے تھے تو حکمت عملی کیوں نہیں تیارکی، سعید اجمل پر بھی پابندی کو کئی ماہ بیت چکے، کیوں پلان بی نہیں بنایا، درحقیقت یہ ہمارا اسٹائل ہے کہ جب جان پر بن آتی ہے تب ہی کچھ کرتے ہیں پہلے سے کوئی اقدام نہیں کیا جاتا، ایک اور مثال بتاؤں جیسے مصباح الحق ابھی انجرڈ ہیں،وہ40 سال کے ہو چکے، امید ہے فٹ ہو جائیں گے لیکن خدانخواستہ ایسا نہ ہوا تو قیادت کون کرے گا، کیا کہا آفریدی ارے اس کو تو بورڈ لفٹ ہی نہیں کرا رہا،ورلڈکپ کے بعد ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تو کسی نے 2لفظ بھی نہیں کہے۔
اب اگر آخری وقت میں کپتانی کا کہا گیا تو وہ بیچارہ کیا کرے گا، ٹیم نیوزی لینڈ سے یو اے ای میں ہاری، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کوچ وقار یونس ساتھ واپس آ کر حکام کے ساتھ بیٹھ کر خامیوں کی نشاندہی کرتے اور پھر بہتری کیلیے کام کیا جاتا، مگر وہ اہل خانہ سے ملاقات کیلیے آسٹریلیا چلے گئے، میں یہ نہیں سمجھ پا رہا کہ ورلڈکپ بھی تو آسٹریلیا میں ہی ہونا ہے، انھیں جانا تو تھا ہی تو پہلے روانہ ہو کر بزنس کلاس کے ٹکٹ پر بورڈ کے ساڑھے تین لاکھ روپے خرچ کرانے کا کیا جواز ہوا، چلیں خیر ان کی جو مرضی ہے وہ کریں، شاید وہ پچز کا معائنہ ہی کرنے گئے ہوں۔
خیر اب اسکواڈ کا اعلان ہونے ہی والا ہے، دیکھتے ہیں اتنے دن کی عرق ریزی کے بعد سلیکٹرز نے فتح کا کیا فارمولہ تلاش کیا، ویسے اب نئے کھلاڑیوں کو آزمانے کا وقت گذر گیا، انہی گھسے پٹے مہروں کو ہی موقع دینا چاہیے تاکہ بعد میں آپریشن کلین اپ کے نتیجے میں بچوں پر نزلہ نہ گرے بلکہ ٹیم پر بوجھ بننے والی بڑی مچھلیاں ہی کانٹے میں آئیں۔