پاکستانی میڈیا ’’خراب‘‘ ہے

’’سوری ابھی نہیں، تھکا ہوا ہوں، ویسے بھی بورڈ نے میڈیا سے بات چیت کرنے سے منع کیا ہے‘‘۔


Saleem Khaliq January 17, 2015
[email protected]

''بھائی جان ذرا بات سنیے گا،

میرا نام ۔۔۔۔۔ ہے، اس سال ڈومیسٹک کرکٹ میں بہت اچھا پرفارم کیا ہے، ذرا میرے بارے میں بھی کچھ لکھیے، شعیب احمد بھائی (پی آر او نیشنل اسٹیڈیم کراچی) نے آپ کے پاس بھیجا ہے، میں قومی ٹیم میں شامل ہو کر نام کمانا چاہتا ہوں۔

چند برس قبل اسٹیڈیم میں ایک نوجوان کھلاڑی نے مجھ سے یہ الفاظ کہے تھے، بعد میں وہ دیگر اخبارات اور ٹی وی چینلز کے نمائندوں سے بھی اسی انداز سے درخواستیں کرتا دکھائی دیتا تھا، اس وقت میڈیا اس کیلیے سب سے اچھا تھا پھر وہ قومی ٹیم میں آ گیا، وقت نے پلٹا کھایا، اسی نیشنل اسٹیڈیم میں ٹی وی چینلز کے نمائندوں کو میں نے یہ کہتے سنا

''بھائی جان ذرا 2منٹ بات کر لیجیے گا''

جواب سامنے آیا ''سوری ابھی نہیں، تھکا ہوا ہوں، ویسے بھی بورڈ نے میڈیا سے بات چیت کرنے سے منع کیا ہے''۔

یہ کسی ایک کھلاڑی کے ساتھ نہیں سب کا یہی مسئلہ ہے، پاکستان میں کرکٹرز میڈیا کو استعمال کرتے ہیں، جب وہ کچھ نہ ہوں تو میڈیا اچھا مگر نام کما لیں تو خراب نظر آنے لگتا ہے، آپ موجودہ ٹیم کو ہی دیکھ لیں، یونس خان میڈیا سے بالکل بات کرنا پسند نہیں کرتے تھے، ایک بار اپنے گھر کے باہر موجود ٹی وی چینلز کے نمائندوں سے انھوں نے خاصی بدتمیزی بھی کی تھی، پھر ان پر بُرا وقت آیا تو میڈیا کے سامنے ہی دل کی بھڑاس نکالی جس سے کیس مضبوط ہوا اور اب ورلڈکپ کھیلنے جا رہے ہیں، جس طرح کرکٹ ٹیم میں کئی میچ فکسرز،منشیات استعمال کرنے اور غیراخلاقی حرکات میں ملوث لوگ شامل رہے یقیناً میڈیا میں بھی سب دودھ کے دھلے نہیں ہوتے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ سب کو ہی ایک جیسا سمجھ لیا جائے۔

میں نے اکثر لوگوں کو کہتے سنا کہ میڈیا میں آنے والی ہر بات درست نہیں ہوتی، مگر اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر خبر غلط بھی نہیں ہوتی، اسپاٹ فکسنگ، ڈوپنگ سمیت کئی خبروں کو پہلے جھوٹ کہا گیا جو بعد میں درست ثابت ہوئیں،اس وقت قومی ٹیم کے کسی سینئر کھلاڑی سے بات کرنا چاہیں وہ بمشکل تیار ہو گا، زیادہ تر رقم کا مطالبہ کریں گے یا پھر سینٹرل کنٹریکٹ کو جواز بنا کر انکار کردیں گے، مگر انھیں اگر چیک مل جائے تو سب بھول جاتے ہیں،کسی ساتھی کھلاڑی سے لڑائی ہو تو میڈیا کو خود ہی اس کی خامیاں بتاتے ہیں، اپنے پر بات آئے تو میڈیا خراب بن جاتا ہے،آپ امریکی صدر باراک اوباما سے انٹرویو کر سکتے ہیں لیکن مصباح الحق اوروقاریونس کی بات آئے تو میڈیا منیجر آغا اکبر یا غیرملکی میڈیا سے تعلق ہونا ضروری ہے،دونوں پریس کانفرنس کے سوا پاکستانی صحافیوں سے بات کرنا پسند نہیں کرتے، البتہ پی سی بی میڈیا ڈپارٹمنٹ سے قربت رکھنے والی ایک غیرملکی ویب سائٹ اور برطانوی و دیگر خبر رساں ایجنسیز جب چاہیں کسی بھی پلیئر کا انٹرویو کر سکتی ہیں۔

یہ کھلا تضاد کیوں؟ ہم ہر معاملے میں احساس کمتری کا شکار کیوں ہیں، باہر کا میڈیا ہے تو اچھا ہوگا اپنے خراب ہیں، پھر جب بُرا وقت آئے تو اسی اپنے میڈیا کے کندھے پر سر رکھ کر آنسو بہاتے ہیں، بورڈ کے میڈیا ڈپارٹمنٹ سے کپتان یا کوچ کے انٹرویو کا کہیں تو وہ ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں مگر اگلے ہی روز کسی غیرملکی ویب سائٹ پر جگمگاتا ہوا انٹرویو موجود ہوتا ہے،ایسے میں شاہد آفریدی قابل تعریف ہیں، وہ پاکستان کے واحد سپراسٹار ہیں جنھوں نے اپنے میڈیاکو ہمیشہ عزت دی، چاہے وہ غیرمعروف اخبار، ٹی وی کا نمائندہ ہو یا کوئی بڑا میڈیا پرسن، آفریدی کی نظر میں سب برابر ہوتے ہیں، کاش دیگر کرکٹرز بھی ان سے سبق سیکھیں۔

اسی طرح بورڈ کی نظر میں بھی میڈیا کھٹکتا رہتا ہے، ایک مثال دیتا ہوں، چند ماہ قبل نیشنل اسٹیڈیم کراچی کی حالت زارکے بارے میں ایک رپورٹ دی، ہونا یہ چاہیے تھا کہ منیجر ارشد خان سے تباہی پر بازپرس کی جاتی مگر الٹا یہ تحقیقات شروع ہو گئیں کہ مجھے معلومات کس نے فراہم کیں، یہ کوئی لطیفہ نہیں بالکل درست بات ہے، اسی وجہ سے اب بھی اسٹیڈیم کی حالت زار میں کوئی بہتری نہیں آئی، گذشتہ دنوں پینٹنگولر کپ میں ناقص انتظامات،کم کراؤڈ اور خراب امپائرنگ کی نشاندہی بھی میڈیا ڈپارٹمنٹ کو پسند نہیں آئیں،اعلیٰ حکام نے ضرور نوٹس لیا مگر اس کے باوجود بہتری کیلیے کوئی قدم نہ اٹھایا گیا، دلچسپ بات یہ ہے کہ چند سو افراد کی میچ دیکھنے اسٹیڈیم آمد کے باوجود کراچی سے جعلی رپورٹس پی سی بی ہیڈ کوارٹر لاہور ارسال کی جاتی رہیں۔

ان میں ساڑھے چار سے 5 ہزار شائقین کی موجودگی کا تذکرہ ہوتا، کسی نے ان کی تصدیق نہیں کی، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہتری کیلیے کوئی سنجیدہ نہیں سب کیلیے پی سی بی ایک سونے کی کان ہے جس سے اپنا حصہ نکال کر آرام سے سائیڈ میں بیٹھے رہو، آپ نے آڈیو کیسٹ دیکھی ہو گی، اس کی ریل باہرنکال کر دوبارہ سے سیٹ کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوگا، بورڈ کا حال بھی اب ایسا ہی ہے اسی لیے چیئرمین بدلتے رہتے ہیں معاملات نہیں سدھرتے، مگر سادہ لوح عوام کو ورلڈکپ سے قبل پھر سے بے وقوف بنایا جا رہا ہے کہ ''ہم ہیں پاکستانی ہم تو جیتیں گے'' مگر کیسے؟ اس کا جواب کسی کے پاس موجود نہیں۔