پی سی بی کا گورننگ بورڈ ’’ربڑ اسٹیمپ‘‘ بن گیا

جہاں تک پی سی بی کا تعلق ہے اس میں ’’تبدیلی آ نہیں رہی اور آئے گی بھی نہیں‘‘


Saleem Khaliq January 23, 2015
[email protected]

ملک میں ان دنوں تبدیلی کی باتیں چل رہی ہیں مگر جہاں تک پی سی بی کا تعلق ہے اس میں ''تبدیلی آ نہیں رہی اور آئے گی بھی نہیں'' بس چہرے بدلتے رہیں گے اور نظام وہی رہے گا،ان دنوں شہریار خان چیئرمین ہیں مگر کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے جو وہ کر رہے ہیں ویسے ہی اقدامات ذکا اشرف اور نجم سیٹھی نے بھی کیے تھے، اب سپرلیگ کے احیا کا سہانا خواب دوبارہ دکھایا جا رہا ہے، جس سے صرف چند لوگوں کے بینک بیلنس میں اضافہ اور بعض افراد کو ملازمتیں ہی ملیں گی،بورڈ کو کچھ حاصل نہیں ہونے والا، بھارت نے آئی پی ایل شروع کی تو دیکھیں کیا ہوا، اس کے اہم کرکٹرز کرپشن کی دلدل میں دھنس گئے۔

ملکی کرکٹ پر داغ لگ گیا اور سری نواسن کو بھی رسوائی کا سامنا کرنا پڑا، بھارتی بورڈکے دیکھا دیکھی دیگر ایشیائی ممالک نے بھی ٹی ٹوئنٹی لیگ کرانے کا ارادہ کر لیا، سری لنکا اور بنگلہ دیش دونوں اس پروجیکٹ میں بُری طرح ناکام ہوگئے، انھیں مالی نقصان کے ساتھ میچ فکسنگ کے داغ بھی سہنے پڑے، ان دونوں ممالک میں سیکیورٹی کے کوئی خدشات نہیں،آئی سی سی ایونٹس بھی ہوتے ہیں اس کے باوجود زیادہ بڑے کھلاڑی وہاں کھیلنے نہیں گئے، آخرکار اب وہ چپ کر کے بیٹھ گئے ہیں، پاکستان بھی سپرلیگ پر کروڑوں روپے پھونک چکا، کونسل کے سابق سربراہ ہارون لورگاٹ بھی اس منصوبے سے مستفید ہونے والوں میں شامل ہیں، انھیں مشیر کے نام پر بھاری رقم دی گئی۔

بورڈ میں جی ایم میڈیا کے عہدے پر فائز آغا اکبر اور مارکیٹنگ ڈپارٹمنٹ کے بدر رفاعی بھی اسی پروجیکٹ کیلیے آئے اور اب مستقل ملازمتیں مل چکی ہیں، ایک ایسے وقت میں جب کوئی انڈر 17ٹیم بھی پاکستان آنے کو تیار نہیں یہاں سپرلیگ کیسے ہو گی؟ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں، اگر ایونٹ یو اے ای میں ہوا تو پاکستان سپر لیگ کیسے کہلائے گا؟ یہ بھی کوئی نہیں سوچ رہا،ایسا لگتا ہے کہ ایک بار پھر یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچے بغیر ختم ہو جائے گا، البتہ بورڈ کے خزانے سے کئی کروڑ روپے دوبارہ کم ہو چکے ہوں گے۔

نجم سیٹھی ماضی میں کئی تنازعات کا شکار ہو چکے، اب وہ خاموشی سے ایک سائیڈ پر رہ کر آئی سی سی میں اپنی اننگز کا انتظار کر رہے ہیں، اسی لیے پی ایس ایل کے منصوبے سے دامن چھڑا لیا، البتہ انھیں اس کا خیال تھوڑی دیر سے آیا اور میٹنگ میں انکار نہ کر سکے، بورڈ کا پریس ریلیز جاری ہوتے وقت بھی انھوں نے کچھ نہ کہا، مگر اگلے دن کمیٹی کی سربراہی سے معذرت کر لی،اس سے پی سی بی کو بھی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا، رہی بات گورننگ بورڈ کی تو وہ صرف''ربڑ اسٹیمپ'' کا کردار ادا کر رہا ہے، ہر چند روز بعد پاکستان بھر سے اراکین کو بلایا جاتا ہے جو ''ہاں جی ہاں جی'' کر کے واپس چلے جاتے ہیں،آپ نے کبھی سنا کہ گورننگ بورڈ نے فلاں کام کی مخالفت کر دی۔

ہمیشہ یہی کہا جاتا ہے کہ فلاں چیز کی منظوری دے دی، بجٹ منظور کر لیا، اس سے بڑا مذاق کیا ہو گا کہ حالیہ اجلاس میں گورننگ بورڈ نے نوید اکرم چیمہ کو منیجر بنانے کی منظوری دی حالانکہ وہ ٹیم کے ساتھ پہلے سے ہی نیوزی لینڈ میں موجود ہیں، اب اگر ارکان ان کے تقرر کو شرف قبولیت نہ بخشتے تو کیا انھیں واپس بلا لیا جاتا، سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ اکثر کئی ممبران میٹنگ میں شرکت ہی مناسب نہیں سمجھتے، صرف شکیل شیخ، اعجاز فاروقی اوراقبال قاسم ہی متحرک نظر آتے ہیں۔

شکیل اسلام آباد اور فاروقی کراچی کرکٹ کی بہتری کیلیے خاصی کوششیں کر رہے ہیں، گورننگ بورڈ کے تمام ممبران ایسی ہی کرکٹ کو سمجھنے والی شخصیات ہوں تو کچھ فائدہ بھی ہوگا، ابھی تو اکثریت خاموشی سے سپرلیگ جیسے فضول منصوبوں کی منظوری دے دیتی ہے، جواب میں اراکین کو بطور تحفہ ورلڈکپ کیلیے آسٹریلیاکی سیر جیسے تحفے ملتے ہیں،ایک فرد پر تقریباً 10لاکھ روپے کا خرچ آئے گا،اسی کے ساتھ بورڈ کے دیگر اعلیٰ افسران بھی ٹیم کی ''کارکردگی'' کا جائزہ لینے جائیں گے، یوں کروڑوں روپے ضائع ہونے والے ہیں، بزنس کلاس کے ٹکٹ، کئی سو ڈالر یومیہ الاؤنس، فائیو اسٹار ہوٹل میں قیام یہ سب ایسی چیزیں ہیں جن کی وجہ سے ہر شخص پی سی بی سے منسلک ہونیکا خواب دیکھتا ہے۔

ایک طرف یہ کہا جا رہا ہے کہ بورڈ خسارے کا شکار ہے، آمدنی کم ہو چکی دوسری طرف ایسی فضول خرچیاں بھی جاری ہیں، دنیا کے کسی اور ملک میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ بورڈ سے وابستہ افرادکو ورلڈکپ میچز دیکھنے کیلیے بھیجا جائے مگر پاکستان میں سسٹم مکمل تباہ ہو چکا، چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے معاملات ابتر ہوئے،اب صرف میڈیا ہی شور مچاتا رہتا ہے مگر اس کی آواز بھی کوئی سننے کو تیار نہیں، اسی لیے کوئی بہتری کی امید دکھائی نہیں دیتی، شاید جب ملک میں حقیقی تبدیلی آئے تب ہی کچھ ہو تب تک انتظار کرتے ہیں۔