بورڈ کا کھلاڑیوں کے ساتھ ’’کھیل‘‘
کھلاڑی بھارت کو ہرانے کی حکمت عملی نہیں سوچ رہےبلکہ ان کےذہنوں میں یہ ہے کہ3ماہ کاسینٹرل کنٹریکٹ ایک برس کاکیسے کرائیں
ISLAMABAD:
رات کے تقریباً12 بج رہے تھے اوربجلی کے بریک ڈاؤن کی وجہ سے پورا کراچی اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا، اس وقت مجھے ایک فون کال سے علم ہوا کہ یہ اندھیرا صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ ملک سے باہر نیوزی لینڈ میں موجود قومی کرکٹ ٹیم پر بھی چھایا ہوا ہے،شکر ہے میرے لیپ ٹاپ کی بیٹری چارج تھی، انٹرنیٹ بھی یو پی ایس کی بدولت زندہ تھا، یوں خبر بنا کر فرنٹ پیچ کیلیے ای میل کر دی جس کے شائع ہوتے ہی ملکی کرکٹ میں بھونچال آگیا۔
پلیئرز نے سینٹرل کنٹریکٹ کو مسترد کرکے دستخط سے انکار کردیا اور بورڈ تاحال مذاکرات میں مصروف ہے، ایسے میں شائقین کے ذہنوں میں اٹھنے والا یہ سوال بالکل بجا ہے کہ ٹیم ورلڈکپ میں شرکت کیلیے کیویزکے دیس گئی یا اپنے ہی بورڈ سے لڑنا عزم تھا ،اس وقت کھلاڑی یہ نہیں سوچ رہے کہ بھارت کو کیسے ہرانا ہے بلکہ ان کے ذہنوں میں یہ بات ہے کہ3ماہ کا سینٹرل کنٹریکٹ ایک برس کا کیسے کرائیں، توجہ منتشر ہونے کا خمیازہ نیوزی لینڈ میں دوسرے یا تیسرے درجے کی ٹیموں سے شکستوں سے بھگتنا پڑا، ویسے ہی ٹیم اتنی مضبوط نہیں رہی سہی کسر اس مسئلے نے پوری کر دی۔
اس وقت موجودہ پی سی بی انتظامیہ اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر بُری طرح ناکام ثابت ہو چکی ہے،حکومت اپنے مسائل سے نمٹے تو کھیلوں پر کچھ توجہ دے گی ناں، ایسے میں ہاکی تو تباہ ہو چکی اب کرکٹ بھی اسی راہ پر گامزن ہے، اگر ہوش کے ناخن نہ لیے گئے تو ورلڈکپ کے بعد تابوت میں آخری کیل بھی لگ جائے گی، سوچنے کی بات ہے کہ بورڈ اربوں روپے کس کے بل بوتے پر کماتا ہے، یقیناً کھلاڑی ہی ایسی کارکردگی دکھاتے ہیں جس پر ٹی وی رائٹس و دیگرمعاہدے ہوتے ہیں۔
بورڈ کو ان کا خیال بھی رکھنا چاہیے مگر یہاں معاملہ الٹ ہے، کوچ وقار یونس ایک اے کیٹیگری کے حامل کرکٹر سے تین گنا زیادہ معاوضہ لیتے ہیں،کچھ نہ کرنے کے باوجود بورڈ آفیشلز کو ہر بار بھاری رقم کا چیک مل جاتا ہے، ان سے یہ نہیں پوچھا جاتا کہ آپ نے ایسا کیا کام کیا جس پر پورے سال اتنے لاکھ روپے وصول کریں گے، مگر کھلاڑیوں کے ساتھ کسی سازشی ذہن نے بڑا کھیل کھیلا، اس نے صرف تین ماہ کا معاہدہ دینے پر بورڈ کو متفق کر لیا تاکہ ورلڈکپ کے بعد چھانٹی ہو تو کئی کو آسانی سے باہر جبکہ بعض کی کیٹیگری تبدیل کر دی جائے، پلیئرز بھی بچے نہیں ہیں وہ یہ بات سمجھ گئے جس سے یہ تنازع سامنے آیا، اب اگر ویسٹ انڈیز کی طرح ہمارے کرکٹرز بھی کھیلنے سے انکار کر دیں تو کون اس کا ذمہ دار ہوگا؟
حکام خود تو بزنس کلاس کے ٹکٹ، فائیو اسٹار ہوٹلز میں قیام اور ڈیلی الاؤنس کی صورت میں بھی رقوم بٹورتے رہتے ہیں، ایسے میں پلیئرز کے ساتھ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے،یا تو آفیشلز بھی مفت میں کام کریں تو پلیئرز کے پاس بھی جواز ہوگا کہ کوئی رقم نہ لیں، یہ کون سا انصاف ہے کہ خود تو کماؤ اور دوسروں کو ملک اور قوم کے نام پر بلیک میل کرتے رہو،یہ ٹھیک ہے کہ سینٹرل کنٹریکٹ کی مد میں پلیئرز کو بھاری رقم ملتی ہے لیکن ان کا کیریئرکتنا طویل ہوتا ہے،4سال 5 سال یا اس سے زیادہ، اس کے بعد تو ٹی وی پر تجزیہ نگار بن کر کچھ رقم مل جائے گی یا اپنے ادارے کی تنخواہ پرگزارا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب پی سی بی کی جاب تو تاحیات ہوتی ہے، ہارون رشید، انتخاب عالم،ذاکر خان جیسے آفیشلز کی اب تک کی آمدنی کا حساب کریں اور کسی عام کھلاڑی کی کنٹریکٹ سے کمائی گئی رقم کو جانچیں توآفیشلز کئی گنا آگے ہوں گے،یہ کہاں کا انصاف ہے، پلیئرز تو میدان میں کھیلتے ہیں آفیشلز کا کیا کام ہوتا ہے، ذراکسی غیرجانبدار کمپنی سے اسے چیک تو کرایا جائے کہ یہ لوگ اتنی بھاری تنخواہوں کے اہل بھی ہیں؟ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ سوائے سبحان احمد اور چند دیگر باصلاحیت افراد کے سب کے بارے میں جواب نفی میں آئے گا،کوئی سیاسی وابستگی تو کوئی کسی اعلیٰ شخصیت سے تعلق پر کرسی سے ایسا چمٹاکہ اب اسے ہٹانا شہد کی مکھی کے چھتوں پر ہاتھ ڈالنا ثابت ہوگا۔
پہلے سینٹرل کنٹریکٹ کے معاملے پر یونس خان کو پریشان کیا گیا اورمیں سابق سربراہ نجم سیٹھی کا شکرگذار ہوں کہ انھوں نے میرے دلائل سے قائل ہو کر دوران میٹنگ ہی اسٹار بیٹسمین کو اے کیٹیگری میں شامل کرنے کا فیصلہ اور فوراً ہی اعلان کر دیا تھا، اب بھی کھلاڑیوں کی نیوزی لینڈ روانگی سے قبل ہی بورڈ کو مذاکرات کر کے معاملہ حل کرنا چاہیے تھا مگراسے اہمیت نہیں دی گئی جس کی وجہ سے یہ خطرناک رخ اختیار کرتا جارہا ہے،ابھی تو ٹیم 2میچز ہاری ہے اگر ہوش کے ناخن نہ لیے گئے تو آگے صورتحال مزید پیچیدہ ہوگی، بعد میں پلیئرز تو کوئی بھی بہانہ کر کے جان چھڑا لیں گے مگر اعلیٰ حکام کس طرح خود کو احتساب سے بچائیں گے؟