سرفراز کو معاف کردیں

سرفراز نے رنز کے ڈھیر لگا دیے مگر مصباح الحق اور وقار یونس ان کی تعریف میں کفایت شعاری سے کام لیتے رہے


Saleem Khaliq March 06, 2015
[email protected]

سرفراز احمد کو ہمیشہ مجھ سے یہ شکایت رہی کہ میں محلے دار ہونے کے باوجود انھیں سپورٹ نہیں کرتا، مختلف شخصیات کے ذریعے مجھے پیغامات بھی ملتے رہے، میرا ہمیشہ یہ جواب ہوتا کہ اگر کھیل میں کوئی غلطی کی تو میڈیا نشاندہی تو کرے گا، ہمارا کام ہی یہی ہے، اپنی پرفارمنس اچھی رکھی تو کہیں بھی کتنی ہی مخالفت ہو کوئی کچھ نہیں بگاڑ پائے گا، مگر اب لگتا ہے کہ میں غلط تھا،سرفراز نے یو اے ای میں نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کیخلاف جو کارکردگی دکھائی اگر کوئی اور کھلاڑی ہوتا تو باآسانی ایک سال تو پاکستان کیلیے کھیلتے رہتا، ہمارے ملک میں ویسے ہی ایک میچ کی پرفارمنس پر پلیئرز کو پوری سیریز مل جاتی ہے، مگر اس کیس میں ایسا نہ ہوا، سرفراز کی اچھی کارکردگی کے باوجود ٹیم میں انھیں وہ پذیرائی نہ ملی، شاید اس کی وجہ وہی ہو جس کا ایک بار سابق کوچ ڈیو واٹمور اپنی رپورٹ میں بھی تذکرہ کر چکے ہیں، لیکن یہ اچھی بات نہیں ہے، ہمیں ہر صورت پاکستان کا سوچنا چاہیے۔

سرفراز نے رنز کے ڈھیر لگا دیے مگر سب نے محسوس کیا کہ کپتان مصباح الحق اور کوچ وقار یونس ان کی تعریف میں کفایت شعاری سے کام لیتے رہے، رہی سہی کسر نیوزی لینڈ سے سیریز کے دوران پوری ہو گئی جب وکٹ کیپر بیٹسمین کی بحث ٹیم کے ارباب اختیار کو اتنی بُری لگی کہ انھیں نشان عبرت بنانے کا ارادہ کرلیا، حالانکہ سرفراز معافی بھی مانگ چکے مگر کوئی انھیں بخشنے کو تیار نہیں، آپ اس سے اندازہ لگا لیں کہ کپتان اور کوچ کتنے انا پرست ہیں، انھیں اس کی کوئی پروا نہیں کہ ٹیم ہار جائے گی مگر سرفراز کو نہیں کھلانا ہے تو نہیں کھلائیں گے، ایسے میں وقار یونس کا یہ بیان بھی حیران کن رہا کہ ''اچھا سرفراز اوپنر بھی ہے''۔

میں مانتا ہوں کہ سرفراز کی فارم بھی ان دنوں اتنی اچھی نہیں لیکن ناصر جمشید میں کون سے سرخاب کے پر لگے تھے کہ بدترین ناکامیوں کے باوجود مسلسل تین میچز میں کھلایا گیا، بورڈ سے بھاری بھرکم تنخواہ وصول کرنے کے باوجود محمد اکرم ان دنوں غیرملکی اسپورٹس چینل پر تبصرے کر کے ڈالرز کما رہے ہیں،ان سے ذرا کوئی پوچھے کہ کہاں گیا وہ فٹنس کلچر جس کے نام پر پلیئرز کو انعامات سے نوازا گیا، معاف کیجے گا ناصر جمشید سے اچھی فٹنس تو کسی گلی کرکٹر کی ہوگی، عرفان، سہیل اور صہیب یہ سب کتنے فٹ ہیں فیلڈ میں ہی نظر آ جاتا ہے،کم از کم سرفراز ان سے تو زیادہ فٹ ہی ہوں گے، مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ میڈیا پر بڑے بڑے دعوے کرنے والے مصباح اور وقار کو ملکی عزت کا کوئی خیال ہی نہیں، اگر کسی کی شکل پسند نہیں لیکن اگر وہ باصلاحیت ہے تو ٹیم کا ہی سوچ کر اسے کھلائیں، سرفراز کوبھی اب معاف کر دیں، اسے نظر انداز کرنے اور ناصر کو مسلسل کھلانے سے لوگ شکوک کا شکار ہو رہے ہیں، عمر اکمل کی وکٹ کیپنگ سب کے سامنے ہے، ہر میچ میں1،2کیچز چھوڑ کر وہ گرین شرٹس کو مشکلات کا شکار کر دیتے ہیں۔

ایسے میں چیئرمین پی سی بی شہریارخان کی بے بسی پر بھی رحم آتا ہے، نجم سیٹھی اور شکیل شیخ جیسے لوگ پہلے ہی ان کے قابو سے باہر تھے اب تو یہ دور آ گیا کہ ٹیم مینجمنٹ بھی بات سننے کو تیار نہیں، انھوں نے سرفراز کو کھلانے کا کہا لیکن ہدایت پر عمل نہیں ہوا، اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ چیئرمین کتنے بااختیار ہیں، معین خان جیسے معاملات سے انھیں مزید سبکی کا سامنا کرنا پڑا، پہلے چیف سلیکٹر کو کیسینو جانے پر وطن واپس بلا لیا پھر کلین چٹ دے دی، ان سے کوئی یہ تو پوچھے کہ اگر معین بے قصور تھے تو انھیں ٹور ادھورا چھوڑ کر بلایا کیوں، یہ بے عزتی کیوں کی گئی، اب کلیئر قرار دینے سے ان کی ساکھ بحال کیسے ہوگی؟

سابق کپتان بھی اپنے ساتھ ہونے والے سلوک پر سخت نالاں ہیں، انھیں کوئی اور نہیں ملا تو لاہور میں چیئرمین کے ساتھ ملاقات سے قبل ایک جونیئر افسر پر ہی میڈیا کا جاسوس ہونے کا الزام لگا کر اسے سخت باتیں سنا دیں۔ اس وقت بورڈ میں گروپ بندی عروج پر پہنچ چکی ہے، بعض بڑے آفیشلز ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں لگے ہوئے ہیں، ایسے میں ٹیم سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ورلڈکپ جیت لے گی بالکل فضول بات ہے، چیئرمین کی سنجیدگی کا بھی یہ عالم ہے کہ وہ ملک میں بیٹھ کر ٹیم کے معاملات پر نظر رکھنے کے بجائے بھارت چلے گئے، ویسے بھی انھیں وہاں جانا بہت پسند ہے جب موقع ملے روانہ ہو جاتے ہیں، اب تو پی سی بی کا پلیٹ فارم بھی میسر آ گیا، مجھے نہیں یاد پڑتا کہ وہ جب چیئرمین بنے تو بھارت سے بھی کوئی مبارکباد دینے یہاں آیا تھا، آج کل کے دور میں فون، ای میل وغیرہ سے یہ کام بخوبی ہو سکتا تھا،رہا جواز بھارت سے سیریز کی بات کرنے کا، تو یہ بات سب ہی جانتے ہیں کہ جب تک ان کی حکومت اجازت نہیں دے گی کچھ نہیں ہوسکتا۔

نجی یونیورسٹی کے لیکچرز چھوڑ کر شہریار خان ان دنوں اپنے کھلاڑیوں کو ہی کچھ لیکچر دے دیں تو شاید کوئی افاقہ ہو جائے،کاش قذافی اسٹیڈیم کے احاطے میں اپنے صاحبزادے کے آئس کریم پارلر پر بیٹھ کر ہی وہ ملکی کرکٹ کیلیے کچھ سوچیں، اس وقت تو معاملات مسلسل ابتری کی جانب گامزن ہیں، ورلڈکپ میں ٹیم کی جو پرفارمنس ہے اس پر صرف کھلاڑیوں کو ہی ذمہ دار قرار نہیں دینا چاہیے،آفیشلز سے بھی بازپرس کریں، یہ انہی کا کیا دھرا ہے جو آج ہمیں ایسے دن دیکھنے پڑ رہے ہیں کہ زمبابوے اور یو اے ای سے جیت پر بھی ورلڈکپ میں فتح جیسی خوشیاں منائی گئیں، اب آئرلینڈ کو ہرانے پر عام تعطیل کا اعلان ہو جائے تو کسی کو حیران نہیں ہونا چاہیے۔