’’چڑیا‘‘ چگ گئی کھیت

پہلے میں ڈکٹیٹر تھا جو دل چاہا کرتا مگر اب فیصلوں میں مشاورت کرنا ضروری ہے، شہریار خان


Saleem Khaliq March 19, 2015
[email protected]

ISLAMABAD: ''ماضی کے مقابلے میں اب بورڈ کی سربراہی کرتے ہوئے آپ کو کیا فرق محسوس ہوتا ہے''

چند ماہ قبل کی بات ہے کراچی میں واقع فائیو اسٹار ہوٹل کے سوئٹ میں جب یہ سوال میں نے شہریارخان کے سامنے رکھا تو وہ گہری سوچ میں گم ہو گئے، پھر چائے کی ایک چسکی لی اور کہا ''پہلے میں ڈکٹیٹر تھا جو دل چاہا کرتا مگر اب فیصلوں میں مشاورت کرنا ضروری ہے، تن تنہا کچھ نہیں کر سکتا''۔ اس وقت ان کی بے بسی کو میں نے زیادہ محسوس نہیں کیا مگر آہستہ آہستہ بات سمجھ میں آنے لگی کہ ماضی میں شہریار فیصل آباد جیسی آسان پچ پر بیٹنگ کے عادی رہے لیکن اب پرتھ کی تیز وکٹ پر ''خطرناک بولرز'' کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ایسے میں 40سالہ کپتان مصباح الحق کی طرح وہ بھی داد کے مستحق ہیں کہ 80 برس کی عمر میں بھی سب کچھ آسانی سے جھیل رہے ہیں۔

شہریار خان اور سابق چیئرمین نجم سیٹھی میں ایک بات مشترک ہے، دونوں ہی پی سی بی کے سرپرست اعلیٰ وزیر اعظم نواز شریف کی گڈ بکس میں شامل ہیں، جب عدالتی کارروائیوں نے نجم سیٹھی کو زیادہ پریشان کیا تو انھوں نے دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئی سی سی کی صدارت کا خواب آنکھوں میں سجا کر بورڈ کا عہدہ قربان کر دیا، پنجاب کا وزیراعلیٰ رہنے کی وجہ سے وہ مزید سیاسی داؤ پیچ بھی سیکھ چکے، اسی لیے طاقتور ایگزیکٹیو کمیٹی کے ساتھ گورننگ بورڈ میں بھی شامل رہے یوں کہنے کو تو وہ چیئرمین بورڈ نہیں تھے مگر ان کی اہمیت شہریار خان کے پاس موجود ایسے واحد پین کی انک جیسی تھی جو نہ ہو تو وہ کسی پیپر پر سائن بھی نہیں کر سکیں، نجم سیٹھی نے شہریارخان کو اہم پوسٹ دلانے کیلیے خود بھی کوشش کی مگر انھیں اندازہ نہ تھا کہ یہ داؤ پلٹ جائے گا، سابق سفارتکار نے بھی پچ پر سیٹ ہو کر قدم جمانے شروع کیے تو انھیں تشویش ہوئی، بات بڑھتے بڑھتے محاذ آرائی تک پہنچ گئی۔

اب یہ حالت ہے کہ بورڈ میں دو گروپس مصروف عمل ہیں جس سے مسائل پیدا ہونے لگے ،نجم سیٹھی کے نہ چاہنے پر بھی شہریارخان نے معین خان کو منیجر کے عہدے سے ہٹایا تو پھر سابق چیئرمین نے دباؤ ڈال کر انھیں بطور چیف سلیکٹر ورلڈکپ میں بھجوا کر نئی مثال قائم کرا دی، سعید اجمل کے کیس میں شہریارخان نے کئی فیصلے تن تنہا کیے تو یہ بھی نجم سیٹھی کو گراں گذرا، وہ سوشل میڈیا کے بہت شوقین ہیں، اسی لیے اپنے دور میں بورڈ میں ایک نیا شعبہ متعارف کرایا جس کا اسٹاف براہ راست انہی کو رپورٹ کرتا ہے، نجم سیٹھی نے اس کی خاتون سربراہ کو میڈیا منیجر بنوا کر ورلڈکپ میں بھجوانا چاہا تو پھر طوفان بپا ہو گیا،ایسے میں آغا اکبرکی لاٹری نکل آئی جن کے بریف کیس میں اب تک ڈیلی الاؤنس و دیگر مراعات پر ملنے پر ڈالرز کی ایک سے زائد گڈیاں تو جمع ہو ہی گئی ہوں گی، یہ فیصلہ ڈائریکٹر میڈیا امجد بھٹی کو بھی بائی پاس کر کے ہوا۔

آغا اکبر آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں کیا کر رہے ہیں یہ مجھے بتانے کی ضرورت نہیں، جتنے تنازعات سامنے آئے شاید ہی کسی اور ایونٹ میں ایسا ہوا ہو،پاکستان بھر سے میڈیا کے نمائندوں کی بڑی تعداد وہاں موجود اور سب ان کے رویے سے نالاں ہیں مگر شہریارخان نے اس معاملے کونظرانداز کیا ہوا ہے، وہ ان کے منظور نظر ہیں، امجد بھٹی پر چونکہ نجم سیٹھی کی چھاپ لگی ہوئی ہے اس لیے چیئرمین آغا اکبر کو سپورٹ کرتے ہیں، یہ تو ایک مثال ہے کئی دیگر معاملات میں بھی اسی طرح کھینچا تانی کا سلسلہ جاری ہے،ٹیم میں کون سا کھلاڑی کس کی فرمائش پر شامل ہوا؟ کس نے سفارش کی، اس قسم کی کئی باتیں اچانک ٹی وی اسکرینز پر بریکنگ نیوز بننے لگیں تو شہریارخان کا بھی ماتھا ٹھنکا، انھوں نے جان لیا کہ اس سے پہلے کہ ''چڑیا چگ جائیں کھیت'' کچھ کرنا ہوگا،پھر وہ بھی قدم جمانے لگے۔

معین خان کو کیسینو تنازع کے بعد واپس بلا کر نجم سیٹھی کو واضح پیغام دیا کہ اب میں سیٹ ہوگیا اپنی مرضی کے اسٹروکس کھیلوں گا،اس وجہ سے محاذ آرائی مزید بڑھی جب شہریار خان نے میڈیا میں آکر سرفراز احمد کو کھلانے کی بات کہی تو سابق چیئرمین نے بھی جواب دیا کہ ٹیم سلیکشن میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ دونوں کے درمیان تعلقات کتنے ''خوشگوار'' ہیں، ایسے میں اب یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ 26جون کے بعد پی سی بی میں نجم سیٹھی کا کوئی عمل ودخل نہیں ہوگا، شاید اب کچھ معاملات بہترہوں، چیئرمین اب تک اپنے بااختیار نہ ہونے کی باتیں کرتے رہے اب مگر ان کے پاس کوئی جواز نہ ہو گا، بورڈ سے گروپنگ ختم ہونے کے بعد انھیں اچھے فیصلے کرنے ہی ہوںگے، مگر ہمیشہ کی طرح چھوٹے ملازمین کے پیچھے نہ پڑیں، ان کے چولہے ٹھنڈے کرنے کے بجائے ان گھوسٹ ملازمین کو گھر بھیجیں جو کچھ کیے بغیر بھاری تنخواہوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، شائد غریبوں کی دعائیں کام آ جائیں اور پاکستان کرکٹ کے معاملات کچھ بہتر ہوں۔