موسیقار نثار بزمی کو مداحوں سے بچھڑے 8 برس بیت گئے

نیم کلاسیکی دھنوں سے لے کر فوک اور پوپ میوزک کی کمپوزیشن تک نثار بزمی کو ہر طرح کی موسیقی میں کمال حاصل تھا


ویب ڈیسک March 22, 2015
عظیم موسیقار22 مارچ 2007 ء کو اس دارفانی سے کوچ کر گئے۔ فوٹو: فائل

معروف موسیقار نثار بزمی کو مداحوں سے بچھڑے آج 8 برس ہوگئے لیکن ان کی لازوال دھنیں آج بھی سننے والوں کے کانوں میں رس گھولتی ہیں۔

1924 میں ممبئی میں پیدا ہونے والے نثار بزمی نے اپنے فنی سفر کا آغاز ریڈیو ڈرامے نادر شاہ درانی کی موسیقی ترتیب دینے سے کیا جب کہ بطور موسیقار ان کی پہلی فلم ''جمنا پار'' تھی جو 1946ء میں ریلیز ہوئی، جس کے بعد ان کی موسیقی ہر فلمساز کی ضرورت بن گئی۔ انھوں نے تقریبا 40 بھارتی فلموں میں موسیقی کی ترتیب کی۔ ممبئی میں ان کا ستارہ اس قدر عروج پر تھا کہ لکشمی کانت پیارے لال جیسے موسیقار اُن کی معاونت میں کام کر چُکے تھے لیکن پاکستان فلم انڈسٹری کے معمار فضل احمد فضلی کے بلاوے پر انہوں نے بھارت چھوڑ کر پاکستان میں سکونت اختیار کرلی۔

نثار بزمی نے جب پاکستان میں اپنے فنی سفر کا آغاز کیا تو اس وقت پاکستان کی فلمی موسیقی میں خورشید انور اور رشید عطرے جیسے موسیقار چھائے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ بابا چشتی، فیروز نظامی، روبن گھوش، سہیل رانا اور حس لطیف بھی اپنے فن کا جوہر دکھا رہے تھے۔ ان کی بطور موسیقار پاکستان میں پہلی فلم ''ایسا بھی ہوتا ہے'' تھی جس میں ان کے گیت''محبت میں تیرے سر کی قسم ایسا بھی ہوتا ہے'' پر احمد رشدی اور میڈم نور جہاں نے اپنی مدھر آوازوں کے جادو جگائے۔ جس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ 'لاکھوں میں ایک'ٰ، 'صاعقہ'،'انجمن'، 'میری زندگی ہے نغمہ'، 'خاک اور خون' اور 'ہم ایک ہیں' جیسی فلموں کی موسیقی تخلیق کی۔

نثار بزمی کو نیم کلاسیکی دھنوں سے لے کر فوک اور پوپ میوزک کی دھڑکتی پھڑکتی کمپوزیشن تک ہر طرح کی بندشوں میں کمال حاصل تھا اسی لئے محمد رفیع، احمد رشدی، مہدی حسن اور نور جہاں جیسے منجھے ہوئے گلوکاروں کے ساتھ ساتھ انھوں نے رونا لیلٰی اور اخلاق احمد جیسی آوازوں کو بھی نکھرنے اور سنورنے کا موقع دیا۔ عظیم موسیقار 22 مارچ 2007 کو اس دارفانی سے کوچ کر گئے لیکن ان کی تخلیق کردہ موسیقی آج بھی کروڑوں لوگوں کو مسحور کردیتی ہے۔