بھارت میں ماں نے بیٹے کے رشتے کے لئے ’’دلہا‘‘ کا اشتہار دے دیا

اشتہار کے بعد ہارش کوایک درجن سے زائد خواہش مند افراد نے شادی کی پیشکش کی ہے


ویب ڈیسک May 21, 2015
بھارت میں ہم جنس پرستوں کی شادی قانوناً جرم ہے، فوتو بی بی سی

آپ اکثر رشتے کے ایسے اشتہار ہی دیکھتے ہیں جس میں والدین بیٹی کے لیے موزوں لڑکے کی تلاش میں نظر آتے ہیں لیکن بھارت میں ایک ماں نے بیٹے کے لیے موزوں دلہا کی تلاش کا ایسا عجیب و غریب اشتہار دیا جس نے سبھی کو حیران کردیا۔

لڑکے کی والدہ نے ممبئی کے ایک اخبار میں اشتہار دیا کہ انہیں اپنے 36 سالہ بیٹے کے لے موزوں دلہا چاہئے جس میں ذات پات کی کوئی قید نہیں۔ اخبار کے مطابق اس اشتہار کے بعد ہارش نامی لڑکے کوایک درجن سے زائد خواہش مند افراد نے شادی کی پیشکش کی ہے جب کہ ہارش آئیر کا کہنا تھا کہ دیگر ماؤں کی طرح میری ماں کو بھی میری شادی کی فکر ہے اسی لیے انہوں نے اخبار میں اشتہار دیا۔ اشتہار کے جواب میں جن لوگوں نے مجھے شادی کی پیشکش کی ہے اس پر والدہ غور و خوض کر رہی ہیں۔

ہارشآئیر نے بتایا کہ ابتدا میں تمام ہی بڑے اخبارات نے یہ کہہ کر ان کا اشتہار شائع کرنے سے انکار کردیا کہ بھارت میں ہم جنس پرستوں کی شادی قانوناً جرم ہے اور اس اشتہار سے انہیں قانونی مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے تاہم ان کا اشتہار ایک اخبار نے شائع کرہی دیا جس پر وہ اس اخبار کے بے حد شکر گزار ہیں۔

واضح رہے کہ بھارت میں ہم جنس پرستوں کی شادی قانوناً جرم ہے، 2009 میں دلی ہائی کورٹ نے ایک کیس کے دوران ہم جنس پرست جوڑے کی شادی کو قانونی قرار دے دیا تھا تاہم 2013 میں بھارت کی عدالت عظمیٰ نے دلی ہائی کورٹ کے احکامات کوکالعدم قراردیتے ہوئے ایک بار پھر ہم جنس پرست شادی کو غیر قانونی قرار دے دیا۔