احساسات سے بھرپوردنیا کی پہلی مصنوعی ٹانگ ایجاد کرلی گئی

جب ایک اپاہج شخص کو یہ ٹانگ لگائی گئی تو وہ گھاس، ریت اور چھوٹے پتھروں کو بھی محسوس کرنے لگا


ویب ڈیسک June 09, 2015
بائیں جانب پروفیسر ہیوبرٹ ایگر اپنی تجربہ گاہ میں دنیا کی پہلی مصنوعی ٹانگ کا جائزہ لے رہے ہیں جو معذور ہونے والے افراد کو پیروں تلےموجود فرش کا احساس دلاتی ہے۔فوٹو:اے ایف پی

سائنسدانوں نے مصنوعی ٹانگ ایجاد کی ہے جو پہننے والے کو اصلی عضو کی طرح احساس دلاتی ہے اورٹانگ ضائع ہونے کے بعد وقفے وقفے سے ہونے والے درد سے بھی نجات دلاتی ہے۔

آسٹریا میں یونیورسٹی آف لنزکے پروفیسرہیوبرٹ ایگرنے اس کے لیے دو طویل مراحل وضع کیے ہیں پہلے مرحلے میں وہ کٹی ہوئی ٹانگ کے سرے پرموجود باقی ماندہ رگوں اوراعصاب کا آپریشن کرکے اسے ران کی جلد کے قریب پیوست کردیتےہیں اوراس کے بعد ایک ہلکی پھلکی مصنوعی ٹانگ کے اندرونی تلے پرچھ سینسر نصب کئے جاتے ہیں جس سے آنے والے باریک تاراحساس کو کٹی ہوئی ٹانگ کے سرے تک منتقل کرتے رہتے ہیں۔

اس ٹانگ کوپہننے والے ایک معذور شخص نے بتایا کہ استعمال ک بعد یوں لگا کہ انہیں اصلی ٹانگ لگادی گئی ہے اور پیرزمین کو محسوس کرنے لگتا ہے54 سالہ ایک شخص کو جب یہ مصنوعی ٹانگ پہنائی گئ تو وہ گھاس، چھوٹے پتھروں اور ریت کو محسوس کرنے لگے ۔ اس کی بدولت اب وہ پہاڑوں پر چڑھنے کے علاوہ دوڑ بھی سکتےہیں لیکن برف پرنہیں پھسلے کیونکہ مصنوعی ٹانگ کے سینسر انہیں اپنے پاؤں تلے موجود فرش کی خبر دیتےہیں۔

مصنوعی ٹانگ کی ایک خاص بات معذور ہونے والے افراد میں ضائع ہوجانے والی ٹانگ کے جھوٹے احساس کا خاتمہ ہے یعنی وہ دن میں کئی بار سمجھتے ہیں کہ ان کی ٹانگ ضائع نہیں ہوئی بلکہ موجود ہے اوراس طرح وہ بہت پریشان رہتےہیں۔احساس سے بھرپور مصنوعی ٹانگ اس پریشانی کو بھی ختم کرسکتی ہے اوراپاہج ہونے والے افراد نے اسے بہت سراہا ہے۔