پلیئرز کیمپ سے ریلیز مینجمنٹ کے ماتھے پر شکنیں نمودار ہو گئیں

ڈومیسٹک کرکٹ کیلیے انٹرنیشنل مقابلوں کی تیاری کو قربان کیے جانے پر تحفظات


Sports Reporter January 01, 2016
بورڈکے فیصلے پراظہار برہمی،صرف3روزاکٹھے بھرپور ٹریننگ کا موقع مل سکا۔ فوٹو : وسیم نیاز/ ایکسپریس

پلیئرز کو ڈومیسٹک فائنل کیلیے کیمپ سے ریلیز کرنے پر ٹیم مینجمنٹ کے ماتھے پر شکنیں نمودار ہو گئیں، بورڈ کے اس فیصلے پر برہمی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق دورئہ نیوزی لینڈ، ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی تیاری کیلیے قومی کرکٹرز کے فٹنس اینڈ ٹریننگ کیمپ کا آغاز 21دسمبر کو ہوا تھا، اسکا بڑا مقصد محدود اوورز کی کرکٹ میں اسٹیمنا کی کمی کے سبب اہم مواقع پر جلد ہمت ہارنے والے کھلاڑیوں کو جسمانی اور ذہنی طور پر مستعد بنانا تھا، مگرکیمپ کی ابتدا سے اب تک مختلف امور کی وجہ سے پلیئرز کی توجہ منتشر ہوتی رہی، پی سی بی نے 11کرکٹرز کو قائد اعظم ٹرافی سپر 8 مرحلے کے کراچی اور حیدر آباد میں 20 سے 23 دسمبر تک شیڈول میچز میں شرکت کی اجازت دیدی تھی، لہٰذا اظہر علی، محمد حفیظ،عمر اکمل، محمد رضوان، یاسر شاہ، افتخار احمد، جنید خان، صہیب مقصود، شرجیل خان، رومان رئیس اور سعد نسیم نے تاخیر سے کیمپ جوائن کیا۔

بعد ازاں محمد عامر کی شمولیت پر احتجاج کی لہر چلی اور کھلاڑی یکجا ہوکر پریکٹس کرتے نظر نہیں آئے، باغی کھلاڑیوں کی جانب سے ہتھیار ڈالے جانے کے بعد پیر کو تمام کرکٹرز نے پہلی بار قذافی اسٹیڈیم میں شرکت کی،اس دوران انجری کے سبب کیمپ سے دور لیگ اسپنر یاسر شاہ کے ڈوپنگ میں پکڑے جانے کی اطلاع آئی، صرف 3 روز تمام کھلاڑیوں کی اکٹھے بھرپور ٹریننگ کے بعد پی سی بی نے کراچی میں شیڈول قائداعظم ٹرافی فائنل کیلیے 9پلیئرز کو ریلیز کر دیا، ان میں اظہر،حفیظ، وہاب ، عمراکمل، محمد رضوان، صہیب مقصود، شرجیل خان اور رومان رئیس شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق فٹنس کیمپ متاثر ہونے اور ٹریننگ کا ردھم ٹوٹنے پر ٹیم مینجمنٹ نے تحفظات کااظہار کیا لیکن بورڈکے اعلیٰ عہدیداروں نے ایک نہ سنی، کوچنگ اسٹاف کا موقف تھا کہ ڈومیسٹک کرکٹ کیلیے انٹرنیشنل مقابلوں کی تیاری کو قربان نہیں کیا جا سکتا،کیمپ سے ریلیز ہونے والوں میں سے بیشتر ٹی 20اسکواڈ کے مستقل رکن ہیں،آئندہ بین الاقوامی مصروفیات کے پیش نظر انکی فٹنس پر کام کرنے کی زیادہ ضرورت تھی لیکن انھیں ریلیز کر دیا گیا، ذرائع کے مطابق محمد عامر کی شمولیت سے اُبھرنے والے تنازع اور دیگر مسائل کی وجہ سے کیمپ میں زیادہ گرمجوشی کی فضانظر نہیں آتی تھی۔

اب ایک بار اہم پلیئرز کو ریلیز کیے جانے کی وجہ سے ٹریننگ مزید متاثر ہوگی، قائد اعظم ٹرافی کا فائنل مصنوعی روشنیوں میں 3سے 7جنوری تک کھیلا جائیگا،اس میں پنک گیند استعمال ہوگی جبکہ قومی کرکٹ ٹیم کی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی تک اگلے تمام انٹرنیشنل میچ محدود اوورز کے اور سفید گیند سے کھیلے جائینگے، گرین شرٹس کی نیوزی لینڈ روانگی 9جنوری کو متوقع ہے، قائد اعظم ٹرافی میچ کے بعد بال اور فارمیٹ دونوں سے ہم آہنگی میں مشکل پیش آئیگی۔

اس فیصلے کی وجہ سے جمعرات کو ہی تربیتی کیمپ کا ماحول بالکل ایک ایسے اسکول جیسا تھا جہاں بچے تعطیلات سے قبل آخری روز کیلیے آئے ہوں، ڈھائی گھنٹے کا ایک ہی سیشن رکھا گیا جس میں بیٹنگ اوربولنگ ضروری نہیں سمجھی گئی،محمد حفیظ رننگ کے بعد اسٹیڈیم سے رخصت ہوگئے، اظہر علی میدان میں تو موجود رہے لیکن فٹبال میچ میں شامل نہ ہوئے، دیگر دستیاب کھلاڑی فٹبالر کے طور پر اپنا ہنر آزمانے میں مصروف رہے۔

شاہد آفریدی اور شعیب ملک کی ٹیمیں ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے کرتی نظر آئیں، محمد رضوان نے فٹبال میں اپنی مہارت کا لوہا منوایا، عرفان اس میچ میں رسمی کارروائی پوری کرتے رہے، طویل قامت پیسر نے گیند سے زیادہ چھیڑ چھاڑ کی نہ ساتھی کھلاڑیوں نے انھیں زحمت دینا گوارا کیا، ہیڈکوچ وقار یونس اور اسپن بولنگ کوچ مشتاق احمد کرکٹرز کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ جمعے کو تربیتی کیمپ میں چھٹی ہوگی، ہفتے کے روز بھی پریکٹس کا امکان نہیں ہے۔