ناسا کا پلوٹو پر پانی اور برف کی موجودگی کا انکشاف

پلوٹو پر نہ صرف برف بلکہ کچھ پراسرار قسم کی چٹانوں کی موجودگی بھی سامنے آئی ہے، ناسا


ویب ڈیسک February 04, 2016
پلوٹو پر نہ صرف برف بلکہ کچھ پراسرار قسم کی چٹانوں کی موجودگی بھی سامنے آئی ہے، فوٹو ناسا

KARACHI: سائنس دانوں نے مریخ کے بعد پلوٹو پر بھی پانی اور برف کی موجودگی کا انکشاف کرکے ان سیاروں پر ایلین کی موجودگی پر یقین رکھنے والوں کے لیے اس مخلوق کی کائنات میں موجودگی کے شواہد فراہم کردیئے ہیں۔

ناسا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پلوٹو پر برف کے بڑے پہاڑ موجود ہیں اور وہاں پانی کا ذخیرہ پہلے کی گئی تحقیق سے کہیں زیادہ ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہاں کبھی زندگی رہی ہوگی۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پلوٹو پر نہ صرف برف بلکہ کچھ پراسرار قسم کی چٹانوں کی موجودگی بھی سامنے آئی ہے جب کہ وہاں درجہ حرارت منفی 240 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ کچھ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ برف کے ان پہاڑوں میں کچھ چھوٹے جاندار وہاں موجود ہیں۔



ناسا کے ترجمان کے مطابق پلوٹو کی لی گئی تصاویر کے نئے نقشوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہاں موجود برف کے پہاڑ ان کی سوچ سے کہیں زیادہ اور دور تک پھیلے ہوئے ہیں اور یہ ایک اہم انکشاف ہے جب کہ اس نئی دریافت کے بعد ایلین کے متلاشی ماہرین فلکیات اور کچھ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مریخ پر بہتے پانی کے بعد پلوٹو پر برف کی موجودگی اس بات کی دلیل ہے کہ ان سیاروں پر نہ صرف ماضی میں بلکہ اب بھی زندگی موجود ہے۔ اسی طرح کچھ سائنس دان اس بات کو مانتے ہیں کہ زندگی کے لیے سب سے موزوں سیارہ مشتری کا چاند ہے جہاں پر بہتے پانی کی کئی جھیلیں موجود ہیں۔