خلا میں 100 گرام سے بھی ہلکے اور مٹھی میں سمانے والے فیمٹوسیٹلائیٹس

چھوٹے سیٹلائیٹ کو مدار میں بھیجنا بہت آسان ہوگا جس کی بدولت عام افراد بھی ایسےسیٹلائیٹ بنا کر خلا میں بھیج سکیں گے۔


ویب ڈیسک April 17, 2016
فیمٹو سیٹلائٹس کے ذریعے ہر فرد خلائی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ فوٹو: فائل

جدید ٹیکنالوجی سے ہر ایجاد مختصر سے مختصر ہوتی جارہی اور اب اتنے چھوٹے سیٹلائٹس بنائے جارہے ہیں جن کا وزن 35 گرام تک بھی ہوسکتا ہے اور انہیں خلا میں بھیجنا بھی بہت آسان ہوتا ہے۔

انتہائی چھوٹے سیٹیلائٹس کو "فیمٹوسیٹلائٹس" کا نام دیا گیا ہے جنہیں ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر جیکن تھینگاولوتھم اور ان کی ٹیم نے تیار کیا ہے جس کا وزن 35 گرام اور جسامت صرف 3 سینٹی میٹر ہے، انہیں "فیمٹو سیٹلائٹس" یا "سن سیٹلائٹس" بھی کہا جاسکتا ہے جسے چھوٹے سیٹلائٹس ' کیوب سیٹس' سے متاثر ہوکر بنایا گیا ہے جس کا وزن عام طور پر ایک کلو گرام اور لمبائی 11 سینٹی میٹرتک ہوسکتی ہے۔



ایک کیوب سیٹ کو خلا میں بھیجنے کے لئے 50 ہزار ڈالر کی خطیر رقم خرچ ہوتی ہے جبکہ ایک فیمٹوسیٹ صرف 3 ہزار ڈالر میں خلا میں بھیجا جاسکتا ہے کیونکہ خلا میں راکٹ کے ذریعے جتنی بھاری شے کولے جانا ہوگا رقم اسی لحاظ سے ادا کرنا ہوتی ہے۔ دوسری جانب اگر فیمٹو سیٹلائٹس کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن بھیجنے کا خرچ صرف ایک لاکھ روپے یعنی ایک ہزار ڈالر ہوتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے بڑے کیوب سیٹ میں 27 فیمٹو سیٹلائٹ بھر کر مدار کے حوالے کئے جاسکتے ہیں۔

آخر اتنے چھوٹے سیٹلائٹس کا کیا فائدہ ہے؟ ان سے شوقیہ تجربات کرنے والے، طالبعلم اور عام افراد بھی خلا میں اپنا سیٹلائٹ بھیج سکتے ہیں جو خلا کے جمہوری استعمال کی جانب ایک قدم ہے جس سے عام لوگ بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ دوسری جانب ایسے سینکڑوں یا ہزاروں سیٹلائٹس کا جھنڈ مشترکہ طور پر زمین کی تصویر کشی، ماحولیاتی اور موسمیاتی تحقیق کا کام کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ان سیٹلائٹس کو کئی اہم کاموں کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد میں واقع پاکستانی انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی نے نومبر 2013 میں روس کے تعاون سے ایک کیوب سیٹ مدار میں روانہ کیا تھا جس کا نام " آئی کیوب ون" تھا۔