کینسر کے دوبارہ حملے سے بچانے والی نئی دوا کی آزمائش جلد کی جائے گی

کیموتھراپی کے دوران دو ادویہ شامل کرکے کینسر کو ختم اور جسم کو اس قابل بنایا جاسکتا ہے کہ وہ خود اس مرض کو روک سکے۔


ویب ڈیسک May 12, 2016
کیموتھراپی کے دوران دو ادویہ شامل کرکے کینسر کو ختم اور جسم کو اس قابل بنایا جاسکتا ہے کہ وہ خود اس مرض کو روک سکے۔ فوٹو؛ فائل

BARA: صرف چند ماہ کے اندرکینسر کے ایک نئے طریقہ علاج کی آزمائش شروع ہوجائے گی جس میں نہ صرف کینسر کا تیر بہ ہدف علاج ممکن ہوسکے گا بلکہ یہ جسم کے دفاعی نظام کو اس قابل بنائے گی کہ وہ کینسر کے دوبارہ حملے کو روک سکے گی۔

اگرچہ یہ کوئی ویکیسن نہیں لیکن ماہرین نے اسے ایک طرح سے ویکسین ہی قرار دیا ہے جو جسم کے امنیاتی نظام کو اس قابل بنائے گی کہ وہ پلٹ کر واپس آنے والے کینسر کے حملے کو بھی روک سکے۔ اس کے لیے کیموتھراپی میں 2 نئی دوائیں شامل کی جائیں گی۔ ماہرین کے مطابق اس دوا کی آزمائش کے نتیجے میں انتہائی حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق امید ہے کہ اس طریقے کو عام کینسر، جلدی، پیٹ اور بریسٹ کے کینسر کو شکست دی جاسکے گی جب کہ جلد ہی امریکا اور کینیڈا میں 50 مریضوں پر اس کی آزمائش شروع کی جائے گی۔ ماہرین کے مطابق یہ طریقہ علاج انسانوں کے دفاعی نظام کو غیرمعمولی طورپر بہت طاقتور بنادیتا ہے

ماہرین کے مطابق اس دوا کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اس سے امنیاتی نظام مضبوط اور مؤثر ہوجاتا ہے اگرچہ یہ کوئی ویکیسن نہیں لیکن ماہرین نے اسے ایک طرح سے ویکسین ہی قرار دیا ہے جو جسم کے امنیاتی نظام کو اس قابل بنائے گی کہ وہ پلٹ کر واپس آنے والے کینسر کے حملے کو بھی روک سکے اس کے لیے کیموتھراپی میں 2 نئی دوائیں شامل کی جائیں گی۔

ماہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ اس طریقے کو عام کینسر، جلدی، پیٹ اور بریسٹ کے کینسر کو شکست دی جاسکے گی۔ ماہرین کے مطابق یہ طریقہ علاج انسانوں کے دفاعی نظام کو غیرمعمولی طورپر بہت طاقتور بنادیتا ہے اور جلد ہی امریکا اور کینیڈا میں 50 مریضوں پر اس کی آزمائش شروع کی جائے گی۔