ملا اختر منصور کی ہلاکت اور افغان امن

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی ڈرون حملہ پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہے


Editorial May 24, 2016
ملا محمد اختر منصور ملا عمر کے قریبی ساتھی اور طالبان دور حکومت میں وزیر ٹرانسپورٹ اور ہوا بازی بھی رہے۔ فوٹو؛ فائل

افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور بلوچستان کے ضلع نوشکی میں امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے، ان کی ہلاکت کی تصدیق امریکی حکام، افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور افغان طالبان ذرایع نے گزشتہ روز ہی کر دی تھی۔ سینئر افغان طالبان ذرایع کے مطابق طالبان شوریٰ کونسل میں ملا اختر منصور کی جگہ نئے امیر کی نامزدگی زیر غور ہے، نئے امیر کے لیے ملا ذاکر، ملا شیریں اور سراج الدین حقانی مضبوط امیدوار ہیں۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی ڈرون حملہ پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہے۔ وزیراعظم نے کہا ملا اختر منصور کی ہلاکت کی خبر امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے فون کر کے دی، آرمی چیف کو بھی واقعے کے بعد اطلاع دی گئی۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے اس ڈرون حملے کے بعد امریکا سے وضاحت طلب کر لی ہے، ترجمان کے مطابق ملا اختر منصور پر ہونے والے ڈرون حملے کے حوالے سے وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف کے ساتھ معلومات کا تبادلہ بھی کیا گیا تھا۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کو ٹیلی فون پر ڈرون حملے سے متعلق آگاہ کر دیا تھا۔

نائن الیون کے بعد امریکا کو مطلوب دو بڑی تنظیموں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن اور افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور پاکستان میں امریکی حملے کا نشانہ بنے، دونوں بڑے آپریشن کی منظوری اوباما نے دی، دونوں مطلوب افراد کو نشانہ بنانے کے لیے امریکا نے بغیر اجازت پاکستان کی حدود میں خصوصی کارروائی کی۔ آخر امریکا نے ملا اختر منصور کو ہلاک کیوں کیا جب کہ وہ افغانستان میں امن عمل کے قیام کے لیے افغان حکومت سے مذاکرات کا سلسلہ شروع کر چکے تھے۔ اس حملے کی وضاحت کرتے ہوئے امریکی حکام نے کہا کہ ملا اختر منصور افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن اور مصالحت کی راہ میں رکاوٹ تھے، انھوں نے طالبان رہنماؤں کو افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات میں حصہ لینے سے روکے رکھا، وہ کابل اور افغانستان بھر میں تنصیبات پر حملوں کی منصوبہ بندی میں فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں، وہ افغان شہریوں،سیکیورٹی فورسز، امریکی عملے کے ارکان اور اتحادیوں کے لیے مسلسل خطرے کا باعث بنے ہوئے تھے۔

ملا اختر منصور کی ہلاکت کے بعد تجزیہ نگار افغانستان میں قیام امن کے لیے افغان حکومت سے مذاکرات کے حوالے سے مختلف رائے کا اظہار کر رہے ہیں، کچھ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکا نے ملا اختر منصور کو ڈرون حملے میں ہلاک کر کے افغانستان میں قیام امن کے مواقع کھو دیے ہیں، اس صورت حال کے بعد افغان طالبان میں امریکا کے خلاف نفرت میں مزید اضافہ ہوا ہے جس کے تناظر میں جو بھی افغان طالبان کی قیادت سنبھالے گا وہ افغان حکومت سے مذاکرات نہیںکرے گا، اغلب امکان یہی ہے کہ طالبان کے نئے امیر بھی اپنے سابقہ امیر ملا محمد عمر اور ملا اختر منصور کی پالیسیوں پر گامزن رہیں گے۔

ان دونوں رہنماؤں نے ہمیشہ افغان حکومت کو تسلیم نہیں کیا اور اس کے ساتھ مذاکرات کی مخالفت کی۔ بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ملا اختر منصور کی ہلاکت کے بعد اب طالبان کے نئے امیر پر منحصر ہے کہ وہ مذاکراتی عمل جاری رکھنے یا مکمل طور پر ختم کرنے کے حوالے سے کیا پالیسی اختیار کرتے ہیں، اصل صورت حال بعد میں واضح ہوگی۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ملا اختر منصور کی ہلاکت کے باوجود افغان مفاہمتی عمل کے لیے قائم چار ملکی رابطہ کار گروپ مذاکراتی عمل جاری رکھے گا کیونکہ یہ طے کیا جا چکا ہے کہ افغانستان کے سیاسی مسئلے کا حل مذاکرات ہیں جس کے لیے آیندہ کی حکمت عملی چار ملکی رابطہ کار گروپ کے جلد ہونے والے اجلاس میں طے کی جائے گی۔ ملا محمد اختر منصور ملا عمر کے قریبی ساتھی اور طالبان دور حکومت میں وزیر ٹرانسپورٹ اور ہوا بازی بھی رہے۔

وہ افغان طالبان کی کوئٹہ شوریٰ کے سربراہ بھی رہے، گزشتہ سال جولائی میں جب یہ حقیقت سامنے آئی کہ طالبان سربراہ ملا محمد عمر 2013ء میں انتقال کر چکے ہیں تو اس موقع پر طالبان گروہوں میں قیادت کے لیے رسہ کشی شروع ہو گئی تاہم اس موقع پر ملا اختر منصور کی امارت کا اعلان ہوا تو بعض گروہوں نے انھیں امیر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ملا اختر منصور کی بلوچستان میں ہلاکت کے بعد پاکستان پر دباؤ میں اضافہ ہوگا جس سے حکومت کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ افغان امن عمل کے لیے معاملات کیا رخ اختیار کرتے ہیں اس کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن ایک بات افغان طالبان نے ضرور محسوس کی ہو گی کہ امریکا ان کے تعاقب میں ہے اور جہاں کہیں موقع ملتا ہے وہ ان پر حملہ کر دیتا ہے،وہ یقیناً سوچ رہے ہوں گے کہ کیا نئے امیر کو بھی امریکا نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرے گا۔