فتح اﷲ گولن کی تعلیمات میں تمام مذاہب کا احترام ہےمقررین

حزمت تحریک کسی کے مذہبی خیالات اور سماجی رحجانات کے خلاف نہیں ہے.


Numainda Express November 22, 2012
لاہور:پنجاب یونیورسٹی لا کالج میں منعقدہ انٹرنیشنل کانفرنس سے صالح یوجل خطاب کر رہے ہیں جبکہ اسٹیج پر ڈاکٹر حسن صہیب ،سیما عارف، ڈاکٹر اعجاز شفیع گیلانی، عالیہ سہیل خان اور ماریہ ازابیل میلڈوناڈو بیٹھے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

ترکی کے معروف دانشور فتحاﷲگولن کے خیالات کی روشنی میں مثالی انسان اور مثالی معاشر ے کے موضوع پر منعقدایک روزہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا ہے کہ فتح اللہ گولن کی تعلیمات کا مقصد معاشرے میں تعلیم کا پھیلائو ہے اوران کے افکار کی روشنی میں جنم لینے والی حزمت تحریک کا مقصد فرد، معاشرے اور مذہب کی خدمت کرنا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی لا کالج میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں پنجاب یونیورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر لیاقت علی، ڈائریکٹر ایکسٹرنل لنکجز ماریہ مالڈوناڈو ، وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپورپروفیسر ڈاکٹر محمد مختار، وائس چانسلر یونیورسٹی آف ایجوکیشن پروفیسر ڈاکٹر فیض الحسن، ریکٹر یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی ڈاکٹر حسن صہیب مراد، وائس چانسلر ارسا یونیورسٹی حیدرآباد ڈاکٹراسد اﷲ قاضی، ممبر ترکش پارلیمنٹ محمد چیتن، ترکی کیکمپنی کایناک ہولڈنگ کے چئیرمین ناسی ٹوسن ، ایڈیٹر دی فاونٹین حاقان یسلوا، چئیرمین رومی فورم ہارون کوکن ، چئیرمین گیلپ سروے آف پاکستان اعجاز شفیق گیلانی، ، سینئیر فیکلٹی ممبران اور پنجاب یونیورسٹی سمیت پاکستان اور دنیا بھر کی مختلف یونیورسٹیوں سے محققین اور مہمانوں نے شرکت کی، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر لیاقت علی نے کہاکہ کانفرنس کے کامیاب انعقاد کے لیے تمام ترکاوشیں بروئے کار لائی گئی ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ کانفرنس اپنا بنیادی مقصد پورا کرنے میں بھی کامیاب ہو جائے گی۔

وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور پروفیسر ڈاکٹر محمد مختار نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر بھی فتح اللہ گولن کے خیالات سے متاثر ہیں جن کا واضح پیغام گلوبلائزیشن ہے اور ہمیں یہ سوچنا ہے کہ کس طرح ہم اپنے معاشرے کو مثالی معاشرے میں تبدیل کر سکتے ہیں،کانفرنس میں اپنے مقالہ جات پیش کرتے ہوئے محققین نے کہا کہ فتح اﷲگولن کی تعلیمات میں تمام مذاہب کا احترام ملتا ہے اور ایسی ریاست کی متقاضی ہیں جو اس معاملے میں غیرجانبدار ہو کیونکہ حزمت تحریک کسی کے مذہبی خیالات اور سماجی رحجانات کے خلاف نہیں۔

محققین نے کہا کہ حزمت تحریک ایک سماجی تحریک ہے جو نہ تو کسی حکومت کو چیلنج کرتی ہے اور نہ ہی کسی حکومت کی نمائندگی کرتی ہے، تقریب میں فتح اللہ گولن کا پیغام بھی پڑھ کرسنایا گیا جس میں انھوں نے کہا ہے کہ مثالی انسانوں کی نشوونما نہ صرف ایک شہری فریضہ ہے بلکہ اس کی ذمے داری ہم سب کے کندھوں پر ہے، کانفرنس کے ہر سیشن کے بعد سوال جواب کا سیشن منعقد کیا گیا۔