طورخم بارڈرکی صورتحال اور حقائق

امریکا ، بھارت اور افغانستان خطے کی نئے سہ فریقی تکون کی نقشہ سازی میں مصروف ہیں


Editorial June 15, 2016
وقت ہے کہ متحرک خارجہ پالیسی حالات کا پوری طاقت سے رخ موڑ دے اور دنیا پر واضح کردے کہ پاکستان تنہا نہیں۔ فوٹو: آئی این پی

پاک افغان بارڈر طورخم میں گیٹ کی تنصیب پر افغان فورسز نے دوبارہ پاکستانی فورسز اور تعمیراتی عملے پر بلا اشتعال فائرنگ کی جس پر پاکستان نے افغانستان سے شدید احتجاج کیا ہے اور افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاجی مراسلہ حوالے کیا گیا۔افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے کہا ہے کہ طورخم پر کشیدگی کے بعد جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا ۔

حقیقت یہ ہے کہ خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی تزویراتی صورتحال میں طورخم سرحد کا تازہ ترین واقعہ اندیشہ ہائے دور دراز سے منسلک نظر آتا ہے۔ ایک طرف پاک امریکا تعلقات میں گرم جوشی زیرو پوائنٹ پر ہے، دوسری طرف مخاصمت اور بد طینتی پر مبنی بھارتی سازشوں کا ایک پیچ در پیچ جال پاکستان کے خلاف ُبنا جارہا ہے جس کے لیے افغانستان کی سرزمین کو نہایت عیاری سے استعمال کیے جانے کی سامراجی کوششیں عروج پر ہیں، ہمارے ارباب اختیار کو طورخم بارڈر کے اس پار اٹھنے والے سیاسی، عسکری، معاشی اور مجموعی جیو پولیٹیکل تبدیلیوں کے طوفان پر بھی نظر رکھنی چاہیے ۔

افغانستان کی طرف سے پاکستان کے لیے کبھی دل سے خیراندیشی کا پھول نہیں کھلا بلکہ مفادات سے لتھڑی عالمی سیاست نے خطے کی صورتحال کو ہمیشہ دوطرفہ کشیدگی اور محبت و نفرت کے کھیل میں الجھائے رکھا ہے، سابق افغان صدر حامد کرزئی کی الزام تراشیوں اور مکر فریب سے قطع نظر جب افغانستان کے صدر اشرف غنی نے پاک افغان تعلقات پر نظرثانی کا عندیہ دیا اور پاکستان نے خیر سگالی کا پیغام بھیجا توکئی طاقتوں اور خاص طور پر بھارت کے پیٹ میں مروڑ اٹھا ، امریکا کی کچھ عرصے قبل یہ خواہش تھی کہ پاکستان تحریک طالبان پاکستان کے خلاف ضرب عضب آپریشن جیسی کامیاب کارروائی اب افغان طالبان کے خلاف بھی کرے،جب کہ پاک افغان دوستی کے نئے امکان کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف اور جنرل راحیل شریف نے کابل کے مسلسل دورے کیے، دہشتگردی کے خلاف مشترکہ طور پر لڑنے کے عزم کا اعادہ کیا ۔

معاہدے طے پائے ، خود اشرف غنی کے خلاف افغان اشرافیہ اور وار لارڈز اس پر برہم ہوئے اور افغان صورتحال داخلی اضطراب کا شکار ہوئی، لہٰذا طورخم باب میں فائرنگ ایک طے شدہ گریٹ گیم کا ابتدائیہ ہے جس سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے، مبصرین پاکستان کے تنہا ہونے اور اس کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کی باتیں کر رہے ہیں، یہ سب کچھ فکشن یا مبالغہ آرائی نہیں ، کچھ حقیقت کی تپش سے بھی اس سمت میں خطرات کی نشاندہی ہوتی ہے، امریکا ، بھارت اور افغانستان خطے کی نئے سہ فریقی تکون کی نقشہ سازی میں مصروف ہیں ، طورخم بارڈر پر پاکستان نے جائز طور پر افغان مہاجرین کی آمدورفت محدود کرنے کے لیے اقدامات کیے اور ہزاروں مہاجرین کی آمد ورفت پر پابندی عائد کی ، تاہم افغان سفیر کی ملاقات کے بعد اسے ہٹا لیا گیا مگر اب کیوں طورخم سرحد پر بلاجواز کشیدگی پیدا کی جارہی ہے ۔

پیر کو دفترِ خارجہ سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق افغان ناظم الامور کو بتایا گیا کہ فائرنگ کا واقعہ دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کی روح سے متصادم تھا، پاکستان نے افغان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے کی تفصیلی تحقیقات کرے اور نتائج سے پاکستان کو آگاہ کرے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مستقبل میں ایسے واقعات رونما نہ ہوں۔ بیان کے مطابق اتوار کو ہونے والی فائرنگ کا مقصد ایک ایسے دروازے کی تعمیر روکنا تھا جو پاکستانی حدود کے اندر تعمیر کیا جا رہا ہے اور جس کا مقصد عوام اور گاڑیوں کی سرحد کے آر پار نقل و حمل کو آسان بنانا ہے، طورخم کی سرحد پر نقل و حمل کی نگرانی پاکستانی حکومت کی بارڈر مینجمنٹ کو مضبوط بنانے کی پالیسی کا حصہ ہے اور اس سلسلے میں پاکستان افغان حکومت کا تعاون چاہتا ہے کیونکہ اس سے دونوں ممالک کی سیکیورٹی میں بہتری آئے گی اور دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاک افغان سرحد پر حفاظتی انتظامات پاکستان کی سلامتی کے لیے ناگزیر ہیں، افغان فورسز کی طرف سے بلا اشتعال فائرنگ کا واقعہ قابل مذمت ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے واضح کیا ہے کہ طور خم میں زیر تعمیر گیٹ دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے ضروری ہے، ادھر سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں برائے دفاع اور خارجہ امور کے مشترکہ اجلاس میں انگور اڈہ پر واقع چیک پوسٹ کا ذکر کرتے ہوئے سیکریٹری خارجہ چوہدری اعزاز احمد کا کہنا تھا کہ کوئی بھی چیک پوسٹ افعانستان کے حوالے نہیں کی گئی ۔ اگرچہ یہ توضیح قدرے تاخیر سے کی گئی تاہم طورخم کشیدگی ختم ہونی چاہیے، بارڈر پر آمد ورفت کے معاملات خیر سگالی سے طے ہوں اور پاکستان کی سالمیت اور داخلی استحکام پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے ۔ یہی وقت ہے کہ متحرک خارجہ پالیسی حالات کا پوری طاقت سے رخ موڑ دے اور دنیا پر واضح کردے کہ پاکستان تنہا نہیں۔

گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں

یہاں اب مرے رازداں اور بھی ہیں