تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے مذاکرات ضروری ہیں

پاکستان کو کشمیری قیادت کی نظربندی پر سخت تشویش ہے، کشمیریوں کو حق خودارادیت دے کر ہی مسئلہ کشمیرحل کیا جا سکتا ہے


Editorial July 12, 2016
دونوں حکومتیں اس خطے کو نفرت کی آگ میں دھکیلنے کے بجائے پائیدار قیام امن کے لیے نتیجہ خیز مذاکرات کا راستہ اپنائیں۔ فوٹو : اے ایف پی

KARACHI: وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ایک بیان میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیریوں کے خلاف طاقت کا استعمال افسوسناک ہے جو انھیں حق خود ارادیت کے مطالبے سے نہیں ہٹا سکتا۔ انھوں نے کمانڈر برہان وانی اور دیگر کشمیریوں کی شہادت پر گہرے دکھ اورافسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کشمیریوں کا حق ہے۔

وزیراعظم نے کشمیری رہنماؤں کی نظربندی پر بھی اظہار تشویش کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے ایسے اقدامات کشمیریوں کو ان کے حق خودارادیت کے مطالبے سے نہیں روک سکتے، بھارتی حکومت سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں اور انسانی حقوق کی پابندی کرے، پاکستان کو کشمیری قیادت کی نظربندی پر سخت تشویش ہے، کشمیریوں کو حق خودارادیت دے کر ہی مسئلہ کشمیرحل کیا جا سکتا ہے، اپنا ایجنڈا ٹھونسنے کے لیے بھارت کی طرف سے ایسے اقدامات بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے، کشمیری حریت رہنما برہان وانی اور دیگر کشمیریوں کا ماورائے عدالت قتل قابل مذمت اور باعث تشویش ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں جمعہ کو تحریک آزادی کے ایک کمانڈر برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد وادی میں مظاہرے پھوٹ پڑے تھے جب کہ اس دوران قابض بھارتی فوج نے مظاہرین پر فائرنگ کر دی جس سے 17کشمیری شہید اور سیکڑوں افراد زخمی ہو گئے۔ بھارتی فوج کے اس ظلم کے خلاف پوری وادی میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے تو دوسری جانب مظاہرین پر قابض بھارتی فورسز کی فائرنگ سے شہید ہونیوالے افرادکی تعداد 21 ہو گئی جب کہ 300 سے زائد افراد زخمی ہیں جن میں سے اکثر کی حالت تشویشناک ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق زخمی مظاہرین میں سے کم از کم بیس ایسے ہیں جو بینائی سے محروم ہو سکتے ہیں۔ حریت کانفرنس کی اپیل پر شہادتوں کے خلاف اتوار کو پورے مقبوضہ علاقے میں ہڑتال کی گئی جو دوسرے روز بھی جاری رہی، مختلف علاقوں میں مظاہرے ہوئے جب کہ کاروبار زندگی معطل ہو گیا۔ ادھر علی گیلانی، میرواعظ اور دیگر کشمیری رہنما بدستور نظر بند ہیں جب کہ موبائل اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل رکھی گئی، مواصلاتی نظام مکمل طور بند رہا۔ قابض انتظامیہ نے مظاہرے روکنے کے لیے کرفیو کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے پورے مقبوضہ علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا۔ بارہ مولہ، کپواڑہ اور بانڈی پورہ اضلاع میں بھی مختلف مقامات پر مظاہرین اور فورسز کے مابین تصادم ہوئے۔

بھارتی حکومت نے مزید دو ہزار سیکیورٹی اہلکاروں کی تازہ کمک خصوصی طیاروں کے ذریعے سرینگر بھیج دی ہے، وادی میں اندرونی ٹرین سروس بھی بحال نہیں ہو سکی۔ بھارتی پولیس نے کہا ہے کہ ضلع اسلام آباد کے علاقے بجبہارہ میں مشتعل ہجوم نے ایک پولیس اہلکار پر حملہ کرکے اسے ہلاک کردیا اور اس کی گاڑی دریائے جہلم میںپھینک دی۔ مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم کے خلاف کشمیریوں کے مظاہرے روکنے میں ناکامی پر پردہ ڈالنے کے بجائے بھارتی حکومت نے پاکستان کے خلاف الزام تراشی کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ بھارتی وزیر اطلاعات و نشریات ایم وینکیانائیڈو نے الزام لگایا کہ مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کے حمایت یافتہ عناصر گڑ بڑ پیدا کر رہے ہیں اور اگر پاکستان نے حمایت کا یہ سلسلہ بند نہ کیا تو بھارت پاکستان کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے گا۔ ایک جانب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری جانب بھارتی حکام یہ تاثر دینے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں کہ بھارت تو مذاکرات کے لیے آمادہ ہے جب کہ خطے میں گڑ بڑ پاکستان پیدا کر رہا ہے۔

اسلام آباد میں رومانیہ کے سفیر کی جانب سے دیے گئے الوداعی استقبالیہ میں بھارتی ہائی کمشنر گوتم بمباوالے نے کہا کہ سارک رہنماؤں سے تفصیلی بات چیت کے لیے نریندر مودی اسلام آباد اجلاس میں شرکت کریں گے' بھارت پاکستان کے ساتھ تمام معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے' پاک بھارت خارجہ سیکریٹریوں کی ملاقات کو جلد حتمی شکل دے دی جائے گی جو جامع مذاکرات کی بحالی کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کریں گے۔

اگر جامع مذاکرات کی بحالی کے لیے پاک بھارت خارجہ سیکریٹریوں کی ملاقات ہوتی ہے اور نریندر مودی اسلام آباد تشریف لاتے ہیں تو یہ خوش آیند امر ہو گا لیکن حالات میں تبدیلی اسی وقت آئے گی جب یہ مذاکرات نتیجہ خیز ہوں گے اگر متوقع مذاکرات بھی ماضی کی طرح نشستند' گفتند اور برخاستند تک محدود رہے تو پھر دونوں ممالک کے درمیان موجود باہمی تنازعات جوں کے توں رہیں گے اور مسئلہ کشمیر دونوں کے درمیان دوستانہ تعلقات کی راہ میں مسلسل رکاوٹ بنا رہے گا۔ مقبوضہ کشمیر میں مظاہروں کا آج جو سلسلہ جاری ہوا ہے وہ کسی بھی واقعے پر دوبارہ شروع ہو جائیں گے اور وادی کے حالات اسی طرح خراب رہیں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ دونوں حکومتیں اس خطے کو نفرت کی آگ میں دھکیلنے کے بجائے پائیدار قیام امن کے لیے نتیجہ خیز مذاکرات کا راستہ اپنائیں۔