کشمیر ایک مکمل فلیش پوائنٹ

کشمیریوں کےخلاف طاقت کااستعمال افسوسناک اورقابل مذمت ہے،تشدداورظلم و بربریت سے کشمیریوں کی آواز کو دبایا نہیں جاسکتا


Editorial July 13, 2016
عالمی برادری کی طرف سے بھارتی سیکیورٹی فورسزکے مظالم پر تشویش کافی نہیں، کشمیر مکمل فلیش پوائنٹ بن چکا ہے۔ عالمی برادری اس کا ادراک کرے۔ فوٹو : اے ایف پی

PESHAWAR: کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشتگردی کے خلاف خود بھارت کے مین اسٹریم سیاسی دھارے اور فکری حلقوں میں شدید اضطراب اور برہمی کی ایک غیر معمولی لہر اٹھی ہے اس نے مسئلہ کشمیر کو ایک نئی جہت دینے کے ساتھ ساتھ یہ واضح کردیا ہے کہ اب کی بار مظاہرین ''بہ انداز دگر ابھرے اور بپھرے'' ہیں۔ بھارت کے مسلسل اور بے محابہ بہیمانہ اور سفاکانہ طرز عمل کے خلاف پاکستان کا احتجاج در حقیقت مودی سرکار کو نوشتہ دیوار سے آگاہ کرنے کی ایک انتباہی کوشش ہے جسے بھارتی حکمراں ہر قیمت پر نظر انداز کرنے کی تاریخی غلطی کرنے پر کمر بستہ ہیں اور اسی ظلم و بربریت کا مظاہرہ کررہے ہیں جو وزیراعظم نریندر مودی سے قبل بھارتی حکام ، سیاست دانوں اور انتہاپسندوں کا وطیرہ رہا ہے۔

پیر کو پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں نہتے کشمیریوں کی شہادت پر بھارتی ہائی کمشنرگوتم بمباوالے کودفترخارجہ طلب کر کے پیداشدہ صورتحال پر شدید احتجاج کیا ہے۔ سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے بھارتی ہائی کمشنر کو مقبوضہ کشمیر میں بیگناہ کشمیریوں کی شہادتوں پر پاکستان کے شدید تحفظات سے آگاہ کیا اور احتجاجی مراسلہ بھی ان کے حوالے کیا جب کہ اس موقعے پر سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ بھارتی فوج نے مقبوضہ وادی میں پُرامن مظاہرین پر فائرنگ کی جس سے 30 کشمیری شہید اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔

انھوں نے کہا کہ برہان وانی سمیت معصوم لوگوں کی شہادت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، بھارتی فوج کی جارحیت کسی صورت قبول نہیں، بھارتی حکومت معصوم کشمیریوں کا قتل عام بند کرے ۔اصل میں یہ وہ محضر نامہ ہے جو کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرنے سے گریزاں بھارتی حکومت کو پیش کیا جارہا ہے جسے عالمی برادری نے بھی اپنے ضمیر کی خلش کی روشنی میں مان لیا ہے کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اور کشمیریوں کی جائزجمہوری جدوجہد کو بندوق اور سیکیورٹی فورسز کی طاقت اور ظالمانہ نسل کشی کے ذریعے دبانے کی کوششیں ہورہی ہے ۔

دنیا جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے جہنم زار سے بخوبی واقف ہے اور اسے کشمیر میں معصوم لوگوں کی شہادتوں سے اسی بات کا سنگین خدشہ ہے کہ بھارت کسی تعقل پسندانہ آواز اور اپیلوں کو درخور اعتنا نہیں سمجھتا اور اس کی انسانیت سوز حکمت عملی میں سر مو کوئی فرق نہیں آیا، اسی لیے اس نے مقبوضہ کشمیر کے حالات پر پاکستان کے احتجاج کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔ بھارت کی وزارت خارجہ نے اپنے ردعمل میں کہا کہ پاکستان کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں تشدد کے حوالے سے بیانات اس بات کا اظہار ہے کہ پاکستان دہشتگردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے نیروبی یونیورسٹی میں طلبا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو دہشتگردوں کو پناہ دیتے ہیں ان کی مذمت کی جانی چاہیے حالانکہ بھارت کی یہ دوعملی ختم ہوگی تب خطے کا امن بحال ہوگا۔ اہل کشمیر کے جمہوری اور قومی حقوق کی تحریک کو دبانے سے متعلق دریں اثنا مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان نے بھارتی دہشتگردی کو عالمی محاذ پر اٹھانے کا فیصلہ کرلیا ہے، کشمیریوں کے خلاف طاقت کا استعمال افسوسناک اور قابل مذمت ہے، تشدد اور ظلم و بربریت سے کشمیریوں کی آواز کو دبایا نہیں جاسکتا ۔ ادھر مقبوضہ کشمیر میں نوجوان علیحدگی پسند کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد صورتحال پیر کو بھی کشیدہ رہی، ضلع شوپیاں میں بھارتی فورسز اور پولیس کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونیوالے ایک بارہ سالہ بچے سمیت مزید 9 افراد دم توڑ گئے جس سے شہداء کی تعداد30 ہو گئی۔

بھارتی فورسز کی جارحیت کے خلاف پیر کو بھی ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے، مختلف مقامات پر مظاہرین اور بھارتی فورسز کے درمیان دن بھر جھڑپیں جاری رہیں اور سرینگر کے اسپتال زخمیوں سے بھر گئے۔ تین روز کے دوران 450 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ ادھر کشیدگی کو ختم کرانے کے لیے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کابینہ کا اجلاس طلب کر کے فورسز کو تلقین کی کہ وہ غیرمہلک طریقوں سے مظاہروں پر قابو پائیں۔

اجلاس کے بعد حکومت کے ترجمان نعیم اختر نے تمام سیاسی حلقوں خاص طور پر حریت کانفرنس کے رہنماؤں سے عجب اپیل کی کہ وہ حالات کو بحال کرنے میں حکومت کے ساتھ تعاون کریں جب کہ میر واعظ عمر ٗ سید علی گیلانی اور یاسین ملک نے اس اپیل کو مضحکہ خیز قراردیا ہے، اور کہا ہے کہ حالات خراب کرنے میں سرکاری فورسز کا بنیادی کردار ہے۔ دوسری طرف بھارت ایک عجیب تاریخ دشمنی اور زمینی حقائق سے چشم پوشی کی افسوس ناک داستان دہرا رہا ہے جس میں اسے مزید عالمی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑیگا ، بھارتی فوج کے ہاتھوں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد پھوٹ پڑنے والے مظاہروں کی تندی و تیزی نے بھارتی حکمرانوں کو ششدرکر دیا ہے۔

دریں اثنا اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں 30 کشمیری مظاہرین کی ہلاکت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تاہم عالمی برادری کی طرف سے بھارتی سیکیورٹی فورسزکے مظالم پر تشویش کافی نہیں، کشمیر مکمل فلیش پوائنٹ بن چکا ہے۔ عالمی برادری اس کا ادراک کرے۔