دہشتگردی کے حوالے سے مشیر خارجہ کا موقف

جب کسی کمزور قوم کوانصاف نہ ملےاورعالمی برادری بھی اس کا ساتھ نہ دے تواس کےپاس سوائےمارو یا مرجاؤکےکوئی چارہ نہیں بچتا


Editorial July 18, 2016
کشمیر اور فلسطین کے تنازعات نصف صدی سے بھی زیادہ قدیم ہیں۔ فوٹو؛ فائل

ISLAMABAD: وزیر اعظم نواز شریف کے امور خارجہ کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ دہشتگردی ختم کرنے کے لیے کشمیر اور فلسطین جیسے دیرینہ تنازعات حل کرنے کی ضرورت ہے، اجلاس کیاختتام پر سربراہی اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا جس میں دونوں بر اعظموں کے مابین رابطہ سازی کو فروغ دینے کی ضرورت پر اتفاق کیا اور کہا گیا کہ آسم کے فریم ورک کے تحت رکن ممالک میں رابطہ سازی کو فروغ دیاجائے گا۔

ایشیاء اور یورپ کے ساتھ علیحدگی سے معاملات طے نہیں کیے جا سکتے۔ بھارت کا دعویٰ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کی درخواست کشمیر کے راجہ ہری سنگھ نے دی تھی جو بھارت نے قبول کر لی لیکن ریاست حیدرآباد کے نظام نے پاکستان کے ساتھ الحاق کی خواہش ظاہر کی تو بھارت نے وہاں فوج کشی کر کے اس پر بالجبر قبضہ کر لیا یعنی ''جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے'' والی بات ہے جس کا غالباً پوری دنیا کے پاس کوئی مداوا نہیں لیکن اس بے انصافی کے نتیجے میں لاکھوں بے گناہوں کا سات دہائیوں سے قتل عام جاری ہے جس سے پورے علاقے کا امن و امان داؤ پر لگ چکا ہے اور دہشتگردی کا عفریت اس خطے سے نکل کر پوری دنیا میں پھیل چکا ہے۔

جس سے نہ یورپ محفوظ ہے نہ امریکا اور نہ حرمین شریفین کی مقدس سر زمین۔ دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اس طرف نہ اقوام متحدہ کی سنجیدگی سے کوئی توجہ ہے اور نہ ہیں اسلامی ممالک کی مجہول سی تنظیم او آئی سی کوئی پیشرفت کر سکی ہے لہٰذا وزیراعظم پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی یہ بات درست ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کشمیر اور فلسطین کے تنازعات کا حل ضروری ہے، حقیقت یہ ہے کہ جب کسی کمزور قوم کو انصاف نہ ملے اور عالمی برادری بھی اس کا ساتھ نہ دے تو اس کے پاس سوائے مارو یا مر جاؤ کے کوئی چارہ نہیں بچتا۔ کشمیر اور فلسطین کے تنازعات نصف صدی سے بھی زیادہ قدیم ہیں، دونوں قومیں آزادی کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں، وہ جوکچھ کر رہی ہیں، اسرائیل اور بھارت اسے دہشت گردی سے تعبیر کرتے ہیں حالانکہ اس میں حقیقت نہیں ہے، اگر اقوام عالم اس معاملے میں اپنا کردارادا کریں تو یہ دونوں تنازعات حل ہو سکتے ہیں جس سے دنیا بھرمیں قیام امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔