طیب اردگان اور ترکی کا مستقبل

بغاوت میں حصہ لینے والوں کے خلاف آپریشن کلین اپ جاری ہے اور تقریباً چھ ہزار افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے


Editorial July 19, 2016
ترک صدر کو ان مشکل حالات کا سامنا کرنے کے لیے نہایت سمجھداری اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کو بھی اعتماد میں لینا ہو گا، فوٹو؛ فائل

ترکی میں فوجی بغاوت فرو کرنے کے بعد فتح کا جشن منایا جا رہا ہے، صدر رجب طیب اردگان کی اپیل پر عوام نے مختلف شہروں میں جمہوریت کی حمایت میں ریلیاں نکالیں جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ دوسری جانب ترک صدر نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ باغیوں کو سزائے موت دینا ہو گی، پارلیمنٹ سزائے موت کی تجویز متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے، تمام ریاستی اداروں سے بغاوت کے وائرس کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے گا۔

ادھر بغاوت میں حصہ لینے والوں کے خلاف آپریشن کلین اپ جاری ہے اور تقریباً چھ ہزار افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے، امریکا کے زیراستعمال ایئربیس سے ایئرفورس کے سینئر جنرل سمیت گیارہ فوجی افسروں اور ایک پولیس افسر کو گرفتار کرنے کے علاوہ ترک حکام نے تقریباً آٹھ ہزار پولیس اہلکاروں کو مبینہ طور پر ناکام فوجی بغاوت میں ملوث ہونے پر معطل کر دیا جب کہ پولیس کے خصوصی دستے کے 18سو ارکان کو استنبول میں تعینات کر دیا گیا ہے۔

ترکی میں ہونے والی فوجی بغاوت کے پیچھے امریکا کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے، ترکی کے وزیر برائے افرادی قوت نے بھی اس جانب اشارہ کیا تھا کہ حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کے پیچھے امریکا کا ہاتھ تھا۔ ترکی کے جنوبی صوبے ادانہ میں امریکی فورسز کے زیراستعمال ایئربیس سے باغی جرنیل اور فوجی افسروں کی گرفتاری کو بھی اسی حوالے سے دیکھا جا رہا ہے، حکام کے مطابق شبہ ہے کہ ان افراد نے سازش کا منصوبہ بنایا جب کہ باغیوں کی جانب سے ہائی جیک کیے گئے فوجی طیارے میں اسی ایئربیس سے ایندھن بھرا گیا، یہ ایئربیس شام میں داعش پر امریکی حملوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

ترک وزیراعظم علی بن یلدرم نے امریکی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو ملک فتح اللہ گولن کی حمایت میں کھڑا ہے وہ ترکی کا دوست نہیں ہے ایسے ملک کے ساتھ ترکی حالت جنگ میں ہے۔ اس الزام پر امریکا نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ترکی کو تنبیہہ کی ہے کہ وہاں حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش میں امریکا کا ہاتھ نہیں ان الزامات سے دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ ترکی کی جانب سے بغاوت میں امریکا کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔

تجزیہ نگار قیاس آرائیاں کر رہے ہیں کہ ترکی میں ہونے والی بغاوت کے پیچھے کسی غیرملکی قوت کا ہاتھ نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، یہ تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بغاوت کے پس منظر میں موجود قوتیں آشکار ہو جائیں گی۔ جہاں تک امریکا کا کردار ہے تو وہ شک و شبے سے بالاتر نہیں، عراق، شام اور افغانستان کی صورت حال سب کے سامنے ہے، سعودی عرب میں ہونے والی افراتفری کے پیچھے بھی امریکی ہاتھ کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا جاتا رہا ہے، بعض حلقے جن میں ترکی کے حلقے بھی شامل ہیں، یہ سمجھتے ہیں کہ امریکا اور یورپی ممالک ایک خاص منصوبے کے تحت مسلمان ممالک کو براہ راست جنگ کیے بغیر مختلف ریشہ دوانیوں کے ذریعے تباہ کر رہے ہیں۔

اب ایسا لگتا ہے کہ روس سے معافی مانگنے پر ترکی کو سبق سکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ بہر حال یہ استدلال کتنا درست ہے اور کتنا غلط، ترکی کی صورت حال یوں ہے کہ ترک صدر رجب طیب اردگان نے تمام شعبوں میں موجود اپنے مخالفین کا صفایا کرنے کے ساتھ ساتھ باغیوں کو سزائے موت دینے کا اعلان کیا ہے۔ وہاں باغیوں کا احتساب شروع ہو گیا ہے اور ایک فوجی افسر کو عدالت میں پیش بھی کر دیا گیا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا ترک صدر اتنی بڑی تعداد میں باغیوں کو سزائے موت دینے میں کامیاب ہو جائیں گے، اس سلسلے میں ان کی راہ میں ملکی اور عالمی سطح پر بہت سی مشکلات آ سکتی ہیں کیونکہ جرمن چانسلر انجیلا مرکل اور یورپی پارلیمنٹ کے اسپیکر مارٹن نے بھی ترک حکومت کو باغیوں کے سلسلے میں قانون کا مکمل احترام کرنے اور جمہوریت کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی نہ کرنے کی تجویز دی ہے، فرانسیسی وزیر خارجہ نے تو صاف صاف کہہ دیا ہے کہ اردگان کے پاس مخالفین کو خاموش کرانے کے لیے بلینک چیک نہیں۔ اگرچہ فوجی بغاوت کو ناکام بنانے میں اپوزیشن جماعتوں نے بھی ترک حکومت کا ساتھ دیا لیکن جہاں تک باغیوں کے خلاف سخت کارروائی کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں حکومت کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ترک حکومت کے مخالفین بہت طاقتور اور زندگی کے ہر شعبے میں ان کا عمل دخل موجود ہے۔ اگر ان حکومت مخالفین کو غیرملکی آشیرباد بھی حاصل ہو گئی تو ترکی میں امن و امان کے مسائل جنم لے سکتے ہیں اور یہ ملک بھی عراق اور شام کی طرح خلفشار کی بھینٹ چڑھ سکتا ہے۔ ترک صدر کو ان مشکل حالات کا سامنا کرنے کے لیے نہایت سمجھداری اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کو بھی اعتماد میں لینا ہو گا، جلد بازی یا انتقام کے کسی جذبے کے تحت اٹھایا گیا انتہائی قدم نہ صرف حکومت بلکہ ترکی کی سلامتی کے لیے بھی خطرناک ہو سکتا ہے۔