پاکستان ٹیم کی لارڈز میں تاریخی فتح

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کو فون کرکے فتح پر مبارکباد پیش کی


Editorial July 19, 2016
ٹیم ثابت کرے کہ کرکٹ بائی چانس نہیں بلکہ جیت ایک منظم اور سائنسی حکمت عملی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ فوٹو : اے ایف پی

قومی کرکٹ ٹیم نے لارڈز میں پہلاٹیسٹ میچ 75 رنز سے جیت لیا۔10 وکٹیں لینے والے لیگ اسپنر اور مین آف دی میچ یاسر شاہ کی بولنگ نے سنسنی پھیلا دی، گورے ان کی ساحرانہ بولنگ کے گورکھ دھندہ میں پھنس گئے، پاکستان نے 4 ٹیسٹ میچز کی سیریز میں پہلی برتری حاصل کرلی ہے، کپتان مصباح الحق نے فتح کو عبدالستارایدھی کے نام کردیا۔صدر ممنون حسین،وزیراعظم نوازشریف،چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان، اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ، سراج الحق ودیگر سیاسی رہنماؤں نے تاریخی فتح پر پوری ٹیم کو مبارکباد دی ہے۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کو فون کرکے فتح پر مبارکباد پیش کی۔ پاکستان کا پیس اٹیک بھی موثر رہا، راحت نے 4 ، عامر نے 3جب کہ وہاب نے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ انگلینڈ کی ٹیم دوسری اننگز میں283 کے ہدف کے تعاقب میں 207 رنز پر پویلین سدھار گئی۔ اسپاٹ فکسنگ کا بدنما داغ دھوکر قومی ٹیم نے قوم کو خوشیوں کی بہترین سوغات دی ہے، ضروری ہے کہ یاسر شاہ کو دریافت کرنے والے ''کولمبس''، ٹرینر اور کوچ کو بھی مبارکباد دی جائے۔

جنہوں نے اس ہیرے کی تلاش و تراش خراش میں بنیادی کردار ادا کیا۔ حقیقت میں اس جیت کا سہرا پوری ٹیم کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے جنہوں نے داخلی طور پر ایک مضمحل اور بے یقینی کی دھند میں لپٹی ہوئی ٹیم کو جسمانی طور پر سپر فٹ ، لڑاکا اور جارحانہ کھیل کی غیر معمولی قوت و صلاحیت سے روشناس کیا اور یہی وجہ ہے کہ لارڈز کے گراؤنڈ پر اترنے والی ٹیم اعصابی ، جذباتی اور نفسیاتی طور پر جیت کے عزم سے سرشار تھی ۔ ادھر انگلش میڈیا نے انگلینڈ کے سقوط کو پاکستان کے ''نیو فاؤنڈ ڈسپلن'' کے ہاتھوں شکست فاش قرار دیا ہے جب کہ ''گارجین''نے لکھا کہ انگلینڈ کو پاکستانی اسپنر یاسر شاہ نے بے نقاب کردیا۔ یاسر کو مرلی دھرن اور شین وارن کا ہم پلہ قراردیا جارہا ہے۔

اسے اپنے ترکش کے تیروں کو سنبھال کر رکھنا ہوگا، انگلینڈ کو بقول ان کے کرکٹ پنڈتوں کے پے در پے غلطیوں اور بدنصیبیوں نے رسوا کیا، تاہم ابھی تین ٹیسٹ اور باقی میچز کا سنگ میل عبور کرنا ہے، کپتان گھوڑے سے نہ اترے، ٹیم اسی اسپرٹ، ٹمپواور ردھم کو برقرار رکھے، بے خود اعتمادی سے گریز جیت کی کلید ہے، ہمارے سپراسٹارز کو ''زخمی'' انگلینڈ کے اسٹرائیک بیک کی ممکنہ حکمت عملی کا توڑ کرنا ہوگا، ان کے پیسر اینڈرسن کو ٹیکل کرنے کی ضرورت ہے، ٹیم کی مثالی یکجہتی جاری رہنی چاہیے۔ ٹیم ثابت کرے کہ کرکٹ بائی چانس نہیں بلکہ جیت ایک منظم اور سائنسی حکمت عملی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ وش یو گڈ لک!