اویس شاہ کی بازیابی شاندار کامیابی

شہرکراچی میں اغوا کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کا سدباب کیوں نہیں کیاجاسکا ہےجن میں شارٹ ٹرم اورلانگ ٹرم اغوا دونوں شامل ہیں


Editorial July 20, 2016
قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی ہر پاکستان کی مانگ ہے جیسے پورا کیا جانا چاہیے ۔ فوٹو: سوشل میڈیا

سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے صاحبزادے اویس شاہ کی بازیابی ایک ایسی خوش آیند خبر ہے، جس کا انتظار پوری قوم کو تھا۔ ان کی باحفاظت بازیابی میں سیکیورٹی فورسز نے انتہائی نمایاں کردار کیا، ان اداروں کی کارکردگی لائق تحسین ہے۔ جرم اورانصاف کی جنگ ازل سے جاری ہے اور ابد تک جاری رہے گی، فتح ہمیشہ حق اور سچ کی ہوتی ہے۔

اغوا کاروں نے یہ منصوبہ یقینا اپنے مجرم ساتھیوں کی رہائی کے لیے بنایا تھا جس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی رہے تھے ۔ یہ تیسرا ہائی پروفائل کیس تھا، اس سے قبل سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیرکو 26 اگست میںدوہزارگیارہ میں اغوا کیا تھا،پانچ سال بعد سیکیورٹی فورسز نے مغوی کو بلوچستان سے بازیاب کروایا ۔سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی حیدرگیلانی کو 9مئی 2013 ء کو اغوا کیا گیا جنھیں افغانستان میں ایک آپریشن کے نتیجے میں بازیاب کروایا گیا ۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن رات دو بجے کے دوران شروع کیا گیا، تین روز سے اویس شاہ کی موجودگی کے تکنیکی شواہد تھے، دہشت گرد اویس شاہ کو مغربی سرحد سے افغانستان لے جانا چاہتے تھے، یہ کالعدم تحریک طالبان کا سپلنٹرگروپ تھا ۔ دوسری جانب چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سجادعلی شاہ نے بیٹے کی بازیابی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اللہ نے مجھے استقامت اور حوصلہ عطا کیا ۔ بیٹے کی بازیابی میں اہم کردار پاک فوج کا ہے ۔ اویس شاہ کی بازیابی جہاں خوش آیند ہے وہیں کئی سوالات کو بھی جنم دیتی ہے۔

شہر کراچی میں اغوا کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کا سدباب کیوں نہیں کیا جاسکا ہے جن میں شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم اغوا دونوں شامل ہیں، خفیہ کیمروں کی موجودگی اور ان کی فوٹیج سے فائدہ نہ اٹھانا اس امر کا غماز ہے کہ کراچی پولیس زبانی جمع خرچ پر یقین رکھتی ہے، شہر میں کالعدم تنظیموں کے اغوا کار گروہ موجود ہیں ۔ بیرسٹر اویس شاہ کو بیس جون کو دن دہاڑے کراچی کے معروف ومصروف علاقے کلفٹن میں ایک سپرسٹور سے نکلتے ہوئے نامعلوم افراد نے اغوا کیا تھا۔ شہر میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں نے آخری بارکار کو شہید ملت روڈ پر دیکھا گیا تھا ۔

پولیس کہتی رہی کہ مغوی کو کراچی میں رکھا گیا ہے، لیکن وہ بازیاب ٹانک سے ہوئے۔ ایک ہزار سے زائد کلومیٹر تک مغوی کو لے کر جانا، جب کہ ہر جگہ چیک پوسٹیں قائم ہیں، اس کا واضح مطلب ہے کہ پولیس کے چیکنگ سسٹم میں خامیاں ہیں جن پر قابو پانے کی اشد ضرورت ہے کہ یوں مجرم قانون کی آنکھوں میں دھول جھونک کر نہ جاسکیں ۔ قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی ہر پاکستان کی مانگ ہے جیسے پورا کیا جانا چاہیے ۔