آزاد کشمیر آج پولنگ ہے

الیکشن میں موجودہ وزیراعظم چوہدری عبد المجید سمیت 3سابق وزرائے اعظم بھی قسمت آزمائی کر رہے ہیں


Editorial July 21, 2016
۔انتخابی معرکہ تین مقتدر سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان ہے۔ فوٹو: فائل

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے41حلقوں میں آج پولنگ ہے، انتخابی مہم ختم ہوچکی ہے ، الیکشن میں 423امیدواروں کے درمیان انتہائی سخت مقابلہ کی توقع ہے، الیکشن میں26لاکھ74ہزار586 رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کرینگے۔ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے فوج کے دستے آزاد کشمیر پہنچ گئے، 23 ہزار فوجی جوان انتخابات کے دوران سیکیورٹی کے فرائض انجام دینگے جب کہ ان کی معاونت کے لیے ایف سی اور پولیس بھی تعینات ہوگی۔ بیلٹ پیپرز سمیت دیگر سامان کی ترسیل فوج کی نگرانی میں ہو گی، پولنگ صبح 8سے شام 5بجے تک بغیر کسی وقفہ کے جاری رہیگی۔ غربی باغ، حویلی، چڑھوئی، لچھراٹ، کھاوڑہ، نکیال، بھمبر شہر کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کا مرکزی کنٹرول روم مظفر آباد میں قائم کیا گیا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ آج کے انتخابات تاریخ کے انتہائی اہم موڑ پر منعقد ہورہے ہیں جو سیاسی جماعتوں اور رائے دہندگان کے سیاسی و جمہوری شعور کا امتحان بھی ہے جب کہ خطے کے وسیع تر تناظر میں کشمیر کاز سے پیدا شدہ غیر معمولی عالمی یکجہتی دیدنی ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت کے خلاف اندرون و بیرون ملک احتجاج اور مظاہرے ہو رہے ہیں اور خاص طور پر آزاد کشمیر میں سیاسی ، سماجی اور معاشی اصلاحات کے جو نعرے اور وعدے انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں کے منشور کا حصہ رہے ان پر فوکس کرنا ضروری ہے ۔

الیکشن میں موجودہ وزیراعظم چوہدری عبد المجید سمیت 3سابق وزرائے اعظم بھی قسمت آزمائی کر رہے ہیں، سابق وزیراعظم سردار عتیق اور راجہ فاروق حیدر آبائی حلقوں سے انتخابات میں حصہ لیں گے، سردار سکندرحیات نے فرزند سردار فاروق قلندر اور صدر آزاد کشمیر سردار یعقوب نے اپنی صاحبزادی فرزانہ یعقوب کو میدان میں اتارا ہے۔ سابق وزیراعظم مرحوم ممتاز راٹھور کے دونوں بیٹے راجہ فیصل راٹھور اور راجہ مصور راٹھور اس دفعہ انتخابات نہیں لڑ رہے۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس غلام مصطفیٰ مغل نے کہا کہ آزاد کشمیر کے ہر حلقے میں فوج مارچ کر رہی ہے، حساس پولنگ اسٹیشنزپر900سے زائد اہلکار تعینات ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے الیکشن ڈے پر وزارت پانی و بجلی کو آزاد کشمیر میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے اور چیف الیکشن کمشنر کو پولنگ اسٹیشنز کے دورے کے لیے ہیلی کاپٹر فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔

الیکشن میں راولپنڈی کے10پولنگ اسٹیشنز کو حساس قراردیا گیا ہے جہاں انتظامی مانیٹرنگ مثالی ہونی چاہیے، پنجاب حکومت نے پولنگ اسٹیشنوں کے چاروں اطراف400میٹر کے فاصلہ میں اسلحہ رکھنے، لہرانے، ہوائی فائرنگ کرنے، جمع ہونے پر پابندی لگا دی، جعلی ووٹ ڈالنے والے اور کوشش کرانے والے کو موقع پر6ماہ قید کی سزا دی جاسکے گی۔ آزاد کشمیر میڈیا کے مطابق پولنگ میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف مقدمات دہشتگردی کی خصوصی عدالتوں میں چلائے جائیں گے، تاہم صائب مشورہ یہی ہے کہ سیاسی جماعتیں پولنگ کی ڈائنامکس کو اپنے کمال تدبر سے مشروط کریں، انتخابات میں اسی جمہوری جذبہ اور اسپورٹسمین شپ کا مظاہرہ ہونا چاہیے جیسا برطانوی عوام نے حالیہ ریفرنڈم میں حصہ لیتے ہوئے کیا تھا۔ پولنگ پر امن ہونی چاہیے تاکہ ووٹرز بلا خوف و خطر اور آزادی رائے کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے ووٹ کاسٹ کریں، انتخابی مہم کے دوران سیاسی کشمکش، الزام تراشی، کردار کشی ، تند وتیز اور اشتعال انگیزبیانات سے گریز کیا جائے۔

الیکشن کمیشن حکام اس بات کو یقینی بنائیں کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں امیدواروں کا چناؤ ہر قسم کے دھونس دباؤ اور تشدد سے پاک ہو۔ ہر امیدوار مقابل سیاسی جماعت کے امیدواروں سے اختلاف رائے کے احترام، فیئر پلے ، رواداری، جمہوری اسپرٹ اور کشادہ نظری کا ثبوت دیتے ہوئے انتخابی عمل کو شفافیت ، فالٹ فری اور عالمی مبصروں کے لیے اطمینان بخش بنائے۔

ایک اطلاع کے مطابق آزاد جموں و کشمیر میں ہونیوالے الیکشن میں ضلع چنیوٹ کو ایل اے30جموں ون میں شامل کیا گیا ہے، ضلع چنیوٹ میں ایل اے30جموں ون کے457 ووٹ رجسٹرڈ ہیں تمام کشمیری ووٹرز تحصیل بھوآنہ کے دیہی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں، تحصیل بھوآنہ کے علاقہ چک نمبر236میں کشمیریوں کے 120، چک نمبر239دھلووالا شمالی میں 170، 212فقیر دی جھوک میں 18، چک نمبر247برال میں 245اور چک نمبر248میں چار ووٹ رجسٹرڈ ہیں، جموں ون کی اس سیٹ پر پاکستان مسلم لیگ ن کے ناصر ڈار، پاکستان تحریک انصاف کے مقصود زمان ، پاکستان پیپلز پارٹی کے امیر حیدر، ایم کیو ایم کے منشاء خان اور آزاد امیدوار چوہدری ظفر کے درمیان مقابلہ ہوگا ، ایل اے30جموں ون کی اس سیٹ سے پچھلی دو دفعہ ایم کیو ایم کے رکن طاہر خان منتخب ہوئے تھے۔انتخابی معرکہ تین مقتدر سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان ہے ، دیکھنا یہ ہے کہ عوامی اعتماد حاصل کرنے کے لیے ان کے امیدواروں میں سخت مسابقت اور کانٹے کا مقابلہ کس نقطہ عروج تک پہنچتا ہے۔ اہل وطن کی نظریں آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج پر مرکوز ہیں۔