ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے مضمرات

ترکی کے عوام نے فوج کو جمہوریت پر شب خون مارنے سے روک کرایک نئی تاریخ رقم کردی ہے


Editorial July 21, 2016
فوجی بغاوت ناکام ہونا خوش آیند امر ہے، فوج اورجمہوریت پسند قوتوں کا موقف بھی درست ہے لیکن فوجی بغاوت کے بعدکیے جانے والے اقدامات سے دنیا مطمئن نظر نہیں آرہی۔ فوٹو : اے ایف پی

ترکی کے عوام نے فوج کو جمہوریت پر شب خون مارنے سے روک کرایک نئی تاریخ رقم کردی ہے، دنیا بھر میں ان کی ہمت وجرات اور بہادری کو سلام پیش کیا جا رہا ہے۔ ترکی میں ابھی تک حالات مکمل طور پر معمول پر نہیں آسکے ہیں، ایک تلاطم ہے، ناکام فوجی بغاوت کے بعدکریک ڈاؤن کا سلسلہ بھی جاری وساری ہے، مجموعی طور پر ساڑھے 45 ہزار سے زائد فوجیوں، پولیس اہلکاروں، ججوں اوردیگر سرکاری ملازمین کو اپنے عہدوں سے برطرفیوں، معطلیوں اورتحقیقات کا سامنا ہے، جب کہ امریکا میں مقیم مبلغ فتح اللہ گولن کی حوالگی کا معاملہ بھی دونوں ممالک کے درمیان وجہ تنازع بن رہا ہے۔صورتحال روز بروز خاصی گمبھیر ہوتی جا رہی ہے۔اس ضمن میں متضاد موقف بھی سامنے آرہے ہیں۔

پہلا موقف تو ترک صدر رجب طیب اردگان کا ہے، ان کے مطابق ترکی ایک جمہوری ریاست ہے جہاں قانون کی بالادستی ہے، اگر عوام یہ مطالبہ کرتے ہیں اورپارلیمان اس قانون سازی کی منظوری دے دیتی ہے تو وہ سزائے موت بحال کرنے کے لیے تیار ہیں۔ سزائے موت کی بحالی کے حوالے سے یورپی یونین نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ اگر ترکی نے ایسا کوئی اقدام کیا تو اسے یورپی یونین میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ دوسری جانب ترک فوج کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جن فوجی اہلکاروں نے بغاوت کی تھی ان کی تعداد انتہائی کم تھی اورفوج کی اکثریت عوام کے شانہ بشانہ کھڑی رہی ہے،کیونکہ ہم اپنے عوام سے محبت کرتے ہیں۔

قوم اور قومی پرچم کا احترام ہمارے فرائض میں شامل ہے، جب کہ ترک وزیراعظم بن علی یلدرم نے متنبہ کیا ہے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے ناکام بغاوت کے بعد کسی کو بھی انتقامی کارروائی نہیں کرنے دی جائے گی۔ فوجی بغاوت ناکام ہونا خوش آیند امر ہے، فوج اورجمہوریت پسند قوتوں کا موقف بھی درست ہے لیکن فوجی بغاوت کے بعدکیے جانے والے اقدامات سے دنیا مطمئن نظر نہیں آرہی ۔اتنے بڑے پیمانے پر سرکاری اورنجی شعبوں سے 'شک' کی بنیاد پر برطرفیاں بھی ایک مزید بغاوت کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہیں ۔ جمہوریت کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ اعتدال پسندانہ رویہ اختیارکیا جائے، جوہوچکا ہے، اس کو بھول کر نئے ترکی کی تعمیر وترقی پر توجہ مرکوز کی جائے۔