قرضوں کی معافی کا ایشو

اصولی طور پر ایک مخصوص حد سے زیادہ قرضوں کی معافی کا اختیار یا قانون ختم ہونا چاہیے


Editorial July 24, 2016
طبقاتی تقسیم اور طبقاتی قوانین نے ملک کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے اور ملک میں امارت اور غربت کے درمیان تفاوت کو بڑھایا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

پاناما پیپرز کے افشاء کے بعد پاکستان میں کرپشن اور غیرقانونی ذرائع سے حاصل کی گئی رقوم اور جائیدادوں کا تذکرہ عام ہے اور سیاسی جماعتیں اس کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہیں تاہم دیکھا جائے تو پاکستان میں ایسے کام بھی ہوتے ہیں جو بدعنوانی کے زمرے میں تو نہیں آتے لیکن ایسے کاموں اور مراعات کا ختم ہونا بھی انتہائی ضروری ہے۔ ایسے کاموں اور مراعات میں قرضوں کا معاف کرانا یا کرنا ہے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق موجودہ حکومت نے تین برسوں کے دوران تقریباً 281 ارب روپے کے قرضے معاف کیے، سب سے زیادہ 2015ء میں 270 ارب روپے سے زاید کے قرضے معاف کیے گئے۔ جب کہ گزشتہ 30 سال کے دوران کھربوں روپے کے قرضے معاف کرانے والوں کی تفصیل سینیٹ میں پیش کر دی گئی ہے۔ ان میں بڑی بڑی شخصیات اور کارپوریٹ کمپنیوں کے نام شامل ہیں۔

وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے سینیٹ کو بتایا ہے کہ بینکوں سے قرضے معاف کرانے کا معاملہ پانامہ پیپرز کی تحقیقات کے لیے مجوزہ کمیشن کے ٹی او آرز میں شامل کیا جا رہا ہے جب کہ احتساب آرڈیننس کے تحت بینک قصداً نادہندہ کے خلاف قرض کی وصولی کے لیے فوجداری مقدمہ دائر کر سکتے ہیں۔

بلاشبہ قرضے کی معافی بعض حالات میں بڑی لازمی محسوس ہوتی ہے مگر اس سہولت کا زیادہ فائدہ با اثر افراد ہی اٹھاتے ہیں جب کہ عام ضرورت مندوں کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا، وہ بے چارے چھوٹے سے قرضے کی نا دھندگی پر جیلوں میں ٹھونس دیے جاتے ہیں جن کی کسی سطح پر کوئی شنوائی نہیں ہوتی اور ان کے گھر تباہ ہو جاتے ہیں حالانکہ اربوں کھربوں کے قرضے معاف کرنے والے ارباب اختیار کو انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان مصیبت کے ماروں کا بھی کچھ احساس کرنا چاہیے۔

اصولی طور پر ایک مخصوص حد سے زیادہ قرضوں کی معافی کا اختیار یا قانون ختم ہونا چاہیے۔ عجیب بات یہ ہے کہ جن اداروں یا شخصیات کے کروڑوں، اربوں کے قرضے معاف ہوئے ہیں، وہ قرضہ معاف کراتے وقت بھی ارب پتی تھے اور قرضہ معاف کرانے کے بعد ان کی دولت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ سارا عمل قانون کے مطابق ہوا ہے، ظاہر ہے کہ ہمارے قانون میں اس قسم کی گنجائش ہو گی جس کے بل پر قرضے معاف کیے گئے ہیں۔ بغور دیکھا جائے تو یہ قرضے بھی عوام کی ہی رقوم تھے جنھیں بڑے لوگوں کو دے دیا گیا۔

ادھر ملک کے غریب کسانوں کی حالت زار کا مشاہدہ کیا جائے تو انھیں ان کی فصلوں کا پورا معاوضہ ملتا ہے اور نہ ہی انھیں سرکار کی طرف سے کوئی دوسری سہولت دی جاتی ہے۔ اگر کسی چھوٹے کسان نے چند ہزار روپے کا قرضہ حاصل کیا ہے تو اس کی نادہندگی پر اسے جیل میں بند کر دیا جاتا ہے۔ اس طبقاتی تقسیم اور طبقاتی قوانین نے ملک کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے اور ملک میں امارت اور غربت کے درمیان تفاوت کو بڑھایا ہے۔