پاکستان کی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش

مسئلہ کشمیر کا واحد ممکن حل اقوام متحدہ کے تحت منصفانہ اور غیرجانبدارانہ استصواب رائے ہے۔


Editorial July 24, 2016
آج دونوں ملک ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں۔ کشمیر کا تنازع اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ موجود ہے۔ فوٹو : اے ایف پی

KARACHI: پاکستان کی قومی سلامتی کونسل نے مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان بیگناہ کشمیری شہریوں کے قتل عام کی تحقیقات اور احتجاج کرنیوالوں کو منتشر کرنے کے لیے چھروں والی بندوقوں کے استعمال پر پابندی کی خاطر مقبوضہ کشمیر میں فیکٹ فائنڈنگ مشن (حقائق کی تلاش کا مشن) بھجوانے کے لیے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے رجوع کرے گا جب کہ بین الاقوامی برادری سے بھی بھارت کی مذمت کی اپیل کی گئی ہے اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ بھارت سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت کشمیری عوام کے انسانی حقوق کے حصول کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت اگلے دن ایوان وزیراعظم میں ہوا جس میں نوخیز مقامی کشمیری مجاہد برہان الدین مظفر وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور بے گناہ کشمیریوں پر بھارتی سیکیورٹی فورسز کی وحشیانہ کارروائیوں کی پرزور مذمت کی گئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ طاقت کا وحشیانہ استعمال کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہے جس کی کوئی مہذب معاشرہ اجازت نہیں دیتا۔

انھوں نے کہا کہ بھارت کا یہ دعویٰ کہ مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی ہوئی انسانی حقوق کی صورتحال اس کا داخلی معاملہ ہے، حقیقت میں غلط، قانونی طور پر ناقابل دفاع اور درحقیقت بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کشمیری عوام کی جائز جدوجہد آزادی نسل در نسل جاری ہے جس میں کشمیریوں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنے تسلط کو جائز قرار نہیں دے سکتا۔

مسئلہ کشمیر کا واحد ممکن حل اقوام متحدہ کے تحت منصفانہ اور غیرجانبدارانہ استصواب رائے ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کے بنیادی حق خودارادیت کے حصول کے لیے اپنی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت فراہم کی ہے اور فراہم کرتے رہیں گے۔ دوسری طرف بھارت کا سرکاری موقف ''میں نہ مانوں'' پر اصرار ہے۔

بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے حسب روایت مقبوضہ وادی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر پاکستان کو ذمے دار قرار دے دیا ہے گویا بھارت کی سات لاکھ سے زیادہ فوج جو وادی میں تعینات ہے وہ جیسے آنکھیں بند کیے بیٹھی ہے لیکن مقبوضہ کشمیر کی صورت حال نے ایک بار پھر دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں حقیقی قیام امن کے لیے تنازع کشمیر کا حل ہونا انتہائی ضروری ہے۔ پاکستان کی نیشنل سیکیورٹی کونسل نے بھی مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر بجا طور پر تشویش ظاہر کی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر کی صورت حال سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتا۔ کشمیریوں کے ساتھ پاکستان کے رشتے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ کشمیریوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کی قرارداد اس وقت منظور کی جب ابھی برصغیر میں دو آزاد ریاستوں کا باقاعدہ اعلان بھی نہیں ہوا تھا۔ کشمیر نے 19 جولائی 1947ء کو قرارداد الحاق پاکستان منظور کی جب کہ پاکستان 14 اگست اور ہندوستان 15 اگست کو آزاد ہوا۔ اس سے کشمیریوں کی پاکستان کے ساتھ محبت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور اس معاملے کی سمجھ بھی آ جاتی ہے کہ پاکستان کیوں تنازع کشمیر سے الگ نہیں ہو سکتا۔

بھارت نے مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ کے ساتھ معاہدہ الحاق کیا ہے لیکن تاریخ سے ثابت ہے کہ یہ معاہدہ مشکوک ہے۔ مہاراجہ ہری سنگھ نے اس معاہدے پر دستخط سے انکار کر دیا تھا۔ بہرحال جب کشمیریوں نے جدوجہد کرتے ہوئے کشمیر کے ایک حصے کو آزاد کرالیا اور بھارت نے کشمیر میں فوج کشی کر دی اور کشمیر کے ایک حصے پر قبضہ کر لیا۔

اس دوران ہی پنڈٹ جواہر لال نہرو کی حکومت کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ میں لے کر گئی جہاں فیصلہ کیا گیا کہ کشمیریوں کو حق دیا جائے کہ وہ ووٹ کے ذریعے فیصلہ ک رلیں کہ وہ بھارت کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ۔ اقوام متحدہ کی اس قرارداد کو ہندوستان اور پاکستان دونوں نے تسلیم کیا لیکن بھارت نے آج تک اس قرارداد پر عمل نہیں کیا۔ آج اس تنازع کو تقریباً 70 برس ہونے کو ہیں لیکن یہ ابھی تک حل طلب ہے۔ اس تنازعے کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی جنگیں ہو چکی ہیں۔

آج دونوں ملک ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں۔ کشمیر کا تنازع اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ موجود ہے۔ اب برہان مظفر وانی کے قتل کے بعد مقبوضہ کشمیر میں صورت حال ایک بار پھر خراب ہے۔ اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں جرأت مندانہ کردار ادا کرے۔ اس کے علاوہ امریکا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں وسیع پاور کی حامل قوتوں کو بھی چاہیے کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں تاکہ یہ مسئلہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ سکے اور جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔