افغانستان مفاہمتی عمل افغان قائدین کا اپنا ہونا چاہیے کیانی

پاکستان مفاہمتی عمل کی حمایت کرتا ہے، ہماری قربانیاں نظر اندازنہ کی جائیں، برسلز میں خطاب


December 05, 2012
پاکستان مفاہمتی عمل کی حمایت کرتا ہے، ہماری قربانیاں نظر اندازنہ کی جائیں، برسلز میں خطاب۔ فوٹو: فائل

آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں مفاہمتی عمل کی حمایت کرتا رہے گا۔

برسلز میں یورپی یونین ملٹری کمیٹی اور پولیٹیکل اینڈ سیکیورٹی کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل کیانی نے کہا کہ افغانستان میں مفاہمتی عمل افغان قائدین کا اپنا ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کی جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں، دنیا کو پاکستان کی قربانیاں نظر انداز نہیں کرنی چاہئیں۔اس اجلاس میں ستائیس ممالک کے عسکری اور دفاعی حکام اور سفیروں نے شرکت کی۔

آئی این پی کے مطابق پاکستان اور امریکا نے اپنے مشترکہ اہداف کے حصول کیلئے مل کر کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔یہ اتفاق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اور ان کی امریکی ہم منصب ہلیری کلنٹن کے درمیان برسلز میں دوطرفہ ملاقات میں ہوا۔

02

ذرائع کے مطابق دونوں رہنمائوں نے مختلف شعبوں میں اپنے دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ہلیری کلنٹن نے پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری کے علاوہ پاکستانی برآمدات کو امریکی منڈیوں تک مزید رسائی فراہم کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

ملاقات میں دہشتگردی کے خلاف جنگ اور افغان مفاہمتی عمل کا بھی جائزہ لیا گیا۔دوسری جانب امریکا نے افغانستان کے مصالحتی عمل کے لیے پاکستان کے اقدامات کو سراہا ہے ۔منگل کو عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکا کے ایک اعلیٰ ترین عہدیدار نے کہا کہ امریکا افغانستان کے مصالحتی عمل کے حق میں اٹھائے گئے پاکستان کے اقدامات کو تسلیم کرتا ہے۔